قومی زبان

دنیا کی سلطنت میں خدا کے خلاف ہیں

دنیا کی سلطنت میں خدا کے خلاف ہیں شہر چراغ میں جو ہوا کے خلاف ہیں فرسودہ و فضول روایت کے نام پر اپنے تمام دوست وفا کے خلاف ہیں خاموشیوں کے دشت میں کیوں چیختے ہو تم قانون سب یہاں کے صدا کے خلاف ہیں کب سے اڑا رہی ہیں قناعت کی دھجیاں یہ حاجتیں جو صبر و رضا کے خلاف ہیں انسانیت کی ...

مزید پڑھیے

چلو پی لیں کہ یار آئے نہ آئے

چلو پی لیں کہ یار آئے نہ آئے یہ موسم بار بار آئے نہ آئے ہم اس کی راہ دیکھیں گے ہمیشہ وہ جان انتظار آئے نہ آئے یہ سوچا ہے کہ اس کو بھول جائیں اب اس دل کو قرار آئے نہ آئے گلابوں کی طرح تم تازہ رہنا زمانے میں بہار آئے نہ آئے ضمیرؔ اس زندگی سے کیوں خفا ہو اسے پھر تم پہ پیار آئے نہ ...

مزید پڑھیے

کہاں دھواں ہے کہاں گھر سمجھ میں آئے گا

کہاں دھواں ہے کہاں گھر سمجھ میں آئے گا ہوا چلے گی تو منظر سمجھ میں آئے گا تلاش گوہر نایاب سطح پر کیوں ہے بھنور میں اترو سمندر سمجھ میں آئے گا ابھی سے تبصرہ شخصیتوں پہ ٹھیک نہیں ہو گفتگو تو سخنور سمجھ میں آئے گا ہر ایک خواب نئی صبح کی امانت ہے کر انتظار مقدر سمجھ میں آئے ...

مزید پڑھیے

نہ آنسوؤں میں کبھی تھا نہ دل کی آہ میں ہے

نہ آنسوؤں میں کبھی تھا نہ دل کی آہ میں ہے تماش بین ہمیشہ سے رقص گاہ میں ہے بنام عشق مری زندگی ترے قرباں مگر نصیب مرا بے طلب نباہ میں ہے میں جانتا ہوں کہ ہے کس کی آنکھ کا آنسو وہ ایک لعل جو اب تک مری کلاہ میں ہے دلوں کے رشتے ہیں سب الوداعی منزل میں کہ ناگزیر اذیت ہر ایک چاہ میں ...

مزید پڑھیے

یوں نہ جاؤ کہ بہت رات ابھی باقی ہے

یوں نہ جاؤ کہ بہت رات ابھی باقی ہے میرے حصے کی ملاقات ابھی باقی ہے رات مہکے گی تو خواہش بھی بہک جائے گی جو نہ ہو پائی ہے وہ بات ابھی باقی ہے خیر سے مل گئیں راتیں وہ مرادوں والی آپ کے حسن کی خیرات ابھی باقی ہے چاندنی رات کا ہر قرض اتارا ہم نے پیاسے ارمانوں کی بارات ابھی باقی ...

مزید پڑھیے

ہو گئے عنبر فشاں دونوں جہاں میرے لیے

ہو گئے عنبر فشاں دونوں جہاں میرے لیے مسکرایا گلشن کون و مکاں میرے لیے کیا ہوا میں نے جو گائے نغمۂ دار و رسن تم نے خود چھیڑ تھا ساز امتحاں میرے لیے آنکھ بھر آئی گلوں کے چاک داماں دیکھ کر نشتر غم ہے چمن کی داستاں میرے لیے یہ سمجھ کر اپنی بربادی پر ہنستی ہوں مدام تیری دنیا میں ...

مزید پڑھیے

اب اشک تو کہاں ہے جو چاہوں ٹپک پڑے

اب اشک تو کہاں ہے جو چاہوں ٹپک پڑے آنکھوں سے وقت گریہ مگر خوں ٹپک پڑے پہنچی جو ٹک جھلک ترے رانوں کی گوش تک خجلت سے آب ہو در مکنوں ٹپک پڑے طغیاں سرشک کا تو یہاں تک ہے چشم سے اک قطرہ آب کا ہو تو جیجوں ٹپک پڑے ڈوبا ہے بحر شعر میں ایسا نواؔ کہ اب دے طبع کو فشار تو مضموں ٹپک پڑے

مزید پڑھیے

نہ شام غم نہ صبح معتبر ہوں

نہ شام غم نہ صبح معتبر ہوں تماشائے جمال دیدہ ور ہوں کوئی رت ہو وہی بے برگ و باری زمیں پر ایک بے موسم شجر ہوں کہیں اک لمحۂ گزراں کا سایہ کہیں آئندہ صدیوں کا سفر ہوں ہوں حرف ناشنیدہ بے سخن کو شعور دیدۂ اہل نظر ہوں کبھی دل کا کبھی دنیا کا ماتم میں اپنی ذات میں اک چشم تر ہوں نہ ...

مزید پڑھیے

اس شام کو جب روٹھ کے میں گھر سے چلا تھا

اس شام کو جب روٹھ کے میں گھر سے چلا تھا اک سایہ بھی بچھڑے ہوئے منظر سے چلا تھا اب آسماں ہاتھوں میں ہے پیروی میں زمیں ہے میں بے سر و سامان ترے در سے چلا تھا بے بس اسے کر دے گی ہواؤں کی سیاست بادل کا وہ ٹکڑا جو سمندر سے چلا تھا دینے لگا آکاش کے دروازوں پہ دستک انسان کا وہ دور جو ...

مزید پڑھیے

مجنوں بھی خیریت سے ہے لیلیٰ مزے میں ہے

مجنوں بھی خیریت سے ہے لیلیٰ مزے میں ہے اک تم مرے نہ ہو سکے دنیا مزے میں ہے تتلی اداس ہو کے چھپی دیکھتی رہی پھولوں سے کھیلتا ہوا بھنورا مزے میں ہے دنیا کے سارے رنگ وہی ہیں تمہارے بعد مجھ کو اکیلا کرکے زمانہ مزے میں ہے موسم تمہارے حسن کے مستی شباب کی رہتے ہو جس میں تم وہ علاقہ مزے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 260 سے 6203