دنیا کی سلطنت میں خدا کے خلاف ہیں
دنیا کی سلطنت میں خدا کے خلاف ہیں شہر چراغ میں جو ہوا کے خلاف ہیں فرسودہ و فضول روایت کے نام پر اپنے تمام دوست وفا کے خلاف ہیں خاموشیوں کے دشت میں کیوں چیختے ہو تم قانون سب یہاں کے صدا کے خلاف ہیں کب سے اڑا رہی ہیں قناعت کی دھجیاں یہ حاجتیں جو صبر و رضا کے خلاف ہیں انسانیت کی ...