قومی زبان

قبرستان میں خود کلامی

مرے پاس موت کے بہت سے آپشنز ہیں میں کسی بھی وقت کہیں بھی مارا جا سکتا ہوں موبائل چھیننے والا نوجوان مجھے ٹخنے پر گولی مار سکتا ہے پولس کے ناکے پر نہ رکنے کی پاداش میں مجھے تھانے کے اندر مارا جا سکتا ہے رات کے پچھلے پہر گھر میں گھسنے والا ڈاکو کالی جیب ہونے کے جرم میں مجھے بندوق کے ...

مزید پڑھیے

منفی شعور کا اک ورق

کیا اس نظام کو جاگیر دار بدلے گا؟ جو میرے ووٹ سے منتخب ہوتا ہے اور میرے خوابوں پر ٹیکس لگاتا ہے کیا اس نظام کو سرمایہ دار بدلے گا؟ جو مجھ سے بارہ گھنٹے کی بیگار لیتا ہے مگر آٹھ گھنٹے کی اجرت دینے پر بھی تیار نہیں! کیا دانشور اس نظام کو بدل سکتا ہے؟ مگر وہ تو ایک پلاٹ یا غیر ملکی ...

مزید پڑھیے

انفارمیشن ٹیکنالوجی

نظام بدل رہا ہے نئے سکے رائج ہو چکے ہیں نئے رجسٹروں پر پرانے ہندسے مکھیوں کی طرح بھنبھنانے لگے ہیں کی بورڈ سے زنجیر کیے گئے ہاتھ سات آسمانوں پر دستک دینے کی مشق کر رہے ہیں نیوئن سائن سے باہر آتی ہوئی لڑکی خالی جیبوں کی طرف اشارہ کر کے مسکراتی ہے اور نوجوانی شیح نیک ٹائیاں ...

مزید پڑھیے

نشر مکرر

وہ شام جب سڑکیں گل سرخ سے بھری ہوئیں تھیں ایوان انصاف پر اندھیرا اتر رہا تھا میں نے گردن اور کانوں کو کوٹ کے لمبے کالر میں چھپا لیا تاکہ باقی ماندہ لہو کی گردش چہرے تک نہ آ سکے ابابیلیں اپنے مسکنوں سے دیوانہ وار نکل آئیں اور گنبدوں میں بولنے والے کبوتروں نے چپ چاپ اپنی ...

مزید پڑھیے

چور ہے شیشۂ دل ایک نظر اور سہی

چور ہے شیشۂ دل ایک نظر اور سہی اک نیا خواب مرے دیدۂ تر اور سہی کیوں نہ دو چار قدم ساتھ بھی چل کر دیکھیں ہے مری راہ جدا تیرا سفر اور سہی اس کی بھیگی ہوئی آنکھوں سے چلو مل آئیں اے مری زندگی اک زخم جگر اور سہی اب کے شاید کسی منزل کا پتہ مل جائے رائیگاں لمحوں میں اک راہ گزر اور ...

مزید پڑھیے

گر بنانا ہے محبت کا کوئی گھر صاحب

گر بنانا ہے محبت کا کوئی گھر صاحب دستکیں دیجئے لوگوں کے دلوں پر صاحب جتنی بڑھتی گئیں تنہائیاں جسم و جاں کی گہرا ہوتا گیا آنکھوں کا سمندر صاحب دور تک اس کو بچھڑتے ہوئے ہم دیکھ سکیں روک لو آنسو کہ دھندلائے نہ منظر صاحب شہر جادو کا ہے چلتے رہو بس چلتے رہو مڑ کے دیکھو گے تو ہو جاؤ ...

مزید پڑھیے

مکڑی کی ذہانت

سناؤں تمہیں آج اک ماجرا کہ اک لڑکا مکڑی کے پیچھے پڑا پھر اس نے بڑا ایک ڈنڈا لیا پکڑ کر سرے پر اسے رکھ دیا وہاں پاس تھا ایک دریا بڑا وہ ڈنڈے پہ مکڑی کو لے کے بڑھا بہت دور پانی میں گاڑا اسے کہ اس وقت پانی تھا بپھرا ہوا کنارے وہ چپ چاپ بیٹھا رہا کہ دیکھیں تماشہ اب ہوتا ہے کیا نکلتی ہے ...

مزید پڑھیے

عجب کیا ہے رہے اس پار بہتے جگنوؤں کی روشنی تحلیل کی زد میں

عجب کیا ہے رہے اس پار بہتے جگنوؤں کی روشنی تحلیل کی زد میں ہوائے بے وطن رکھ لے طلوع مہر کا اک زائچہ زنبیل کی زد میں غم بے چہرگی کا عکس تھا جس نے وجود سنگ کو مبہوت کر ڈالا تراشیں سلوٹیں جوں ہی خد و خال تحیر آ گئے تشکیل کی زد میں شب وعدہ فصیل ہجر سے آگے چمکتا ہے ترا اسم ستارہ جو کہ ...

مزید پڑھیے

کل رات بہت زور تھا ساحل کی ہوا میں

کل رات بہت زور تھا ساحل کی ہوا میں کچھ اور ابھر آئیں سمندر سے چٹانیں اک فصل اگی جوں ہی زمینوں پہ سروں کی ترکش سے گرے تیر فصیلوں سے کمانیں محسوس ہوا ایسے کہ چپ چاپ ہیں سب لوگ جب غور کیا ہم نے تو خالی تھیں نیامیں تم حبس کے موسم کو ذرا اور بڑھا لو بے سمت نہ ہو جائیں پرندوں کی ...

مزید پڑھیے

آدھے راستے میں

مجھے گھر جانے دو میں چھت کو جانے والی سیڑھی پر بیٹھ کر رنگ برنگی پتنگوں اور اڑتے ہوئے سفید کبوتروں کو دیکھنا چاہتا ہوں مجھے گھر جانے دو میرے گھر کی پچھلی گلی میں سرسراتی ٹھنڈی ہوا ایک دھانی آنچل اور کھڑکیوں میں سجے پھول میرے منتظر ہیں میں شیشم کے تنے پر کھدا ہوا آدھا دن چھوٹے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 259 سے 6203