ہم تو اس کوچے میں گھبرا کے چلے آتے ہیں
ہم تو اس کوچے میں گھبرا کے چلے آتے ہیں دو قدم جاتے ہیں پھر جا کے چلے آتے ہیں ہم کو اے شرم ٹک اب اس کی طرف جانے دے حال اپنا اسے دکھلا کے چلے آتے ہیں دن کو زنہار ٹھہرتے نہیں ہم اس کو میں رات کو ملنے کی ٹھہرا کے چلے آتے ہیں وہ ادا کشتہ ٹھہرتا نہیں پھر مقتل میں لاش کو جس کی وہ ٹھکرا کے ...