قومی زبان

ہم تو اس کوچے میں گھبرا کے چلے آتے ہیں

ہم تو اس کوچے میں گھبرا کے چلے آتے ہیں دو قدم جاتے ہیں پھر جا کے چلے آتے ہیں ہم کو اے شرم ٹک اب اس کی طرف جانے دے حال اپنا اسے دکھلا کے چلے آتے ہیں دن کو زنہار ٹھہرتے نہیں ہم اس کو میں رات کو ملنے کی ٹھہرا کے چلے آتے ہیں وہ ادا کشتہ ٹھہرتا نہیں پھر مقتل میں لاش کو جس کی وہ ٹھکرا کے ...

مزید پڑھیے

عقل گئی ہے سب کی کھوئی کیا یہ خلق دوانی ہے

عقل گئی ہے سب کی کھوئی کیا یہ خلق دوانی ہے آپ حلال میں ہوتا ہوں ان لوگوں کو قربانی ہے نطق زباں گر ہوتا مجھ کو پوچھتا میں تقصیر مری ہاں یہ مگر دو آنکھیں ہیں سو ان سے اشک فشانی ہے گھاس چری ہے جنگل کی میں جون میں دنبے بکرے کی ان کا کچھ ڈھالا کہ بگاڑا جس پر خنجر رانی ہے تین جگہ سے ...

مزید پڑھیے

ترا شوق دیدار پیدا ہوا ہے

ترا شوق دیدار پیدا ہوا ہے پھر اس دل کو آزار پیدا ہوا ہے سدا پان کھا کھا کے نکلے ہے باہر زمانے میں خوں خوار پیدا ہوا ہے یہ مدفن ہے کس کا جو ہر لالہ یاں سے جگر خوں دل افگار پیدا ہوا ہے اڑائے ہیں لخت جگر آہ نے جب ہوا میں بھی گل زار پیدا ہوا ہے میں کیوں کر نہ رکھوں عزیز اپنے دل ...

مزید پڑھیے

ان آنکھوں سے آب کچھ نہ نکلا

ان آنکھوں سے آب کچھ نہ نکلا غیر از خوں ناب کچھ نہ نکلا بوسے کا کیا سوال لیکن اس منہ سے جواب کچھ نہ نکلا باہم ہوئی یوں تو دید وا دید پر دل کا حجاب کچھ نہ نکلا جز تیری ہوا کے اپنے سر میں مانند حباب کچھ نہ نکلا کرتا تھا بہت سا مجھ پہ دعویٰ پر وقت حساب کچھ نہ نکلا سینے میں جو دل کی ...

مزید پڑھیے

اول تو یہ دھج اور یہ رفتار غضب ہے

اول تو یہ دھج اور یہ رفتار غضب ہے تس پہ ترے پازیب کی جھنکار غضب ہے کیوں کر نہ تجھے دوڑ کے چھاتی سے لگا لوں پھولوں کا گلے میں ترے یہ ہار غضب ہے جب دیکھوں ہوں کرتی ہے مرے دل کو پریشاں آشفتگیٔ طرۂ طرار غضب ہے اے کاش یہ آنکھیں مجھے یہ دن نہ دکھاتیں اس شوق پہ محرومیٔ دیدار غضب ...

مزید پڑھیے

آہ ہم راز کون ہے اپنا

آہ ہم راز کون ہے اپنا بخت ناساز کون ہے اپنا کس کے کہلائیں ہم کہ تیرے سوا بت طناز کون ہے اپنا بات کہہ دے ہے وہ تہ دل کی ایسا غماز کون ہے اپنا لے اڑتے تو ہی گر نہ ہم کو تو پھر شوق پرواز کون ہے اپنا وصل ہوتا نہیں، نہیں معلوم خلل انداز کون ہے اپنا بولا دیکھ آئنہ وہ حیرت سے چہرہ ...

مزید پڑھیے

جمنا میں کل نہا کر جب اس نے بال باندھے

جمنا میں کل نہا کر جب اس نے بال باندھے ہم نے بھی اپنے دل میں کیا کیا خیال باندھے ایسا شکوہ اس کی صورت میں ہے کہ ناگہ آوے جو سامنے سے دست مجال باندھے آنکھوں سے گر کرے وہ زلفوں کو ٹک اشارہ آویں چلے ہزاروں وحشی غزال باندھے عیسیٰ و خضر تک بھی پہنچے اجل کا مژدہ تو تیغ اگر کمر پر بہر ...

مزید پڑھیے

ترسا نہ مجھ کو کھینچ کے تلوار مار ڈال

ترسا نہ مجھ کو کھینچ کے تلوار مار ڈال گر مار ڈالنا ہے تو یک بار مار ڈال عاشق جو تیری زلف کا ہو اس کو تو صنم لے جا کے تیرہ شب پس دیوار مار ڈال کبک دری کے لاکھ قفس ہوں جہاں دھرے دکھلا کے ان کو شوخی رفتار مار ڈال کچھ ہم نے تیرے ہاتھ تو پکڑے نہیں میاں گر جانتا ہے ہم کو گنہ گار مار ...

مزید پڑھیے

گرچہ اے دل عاشق شیدا ہے تو

گرچہ اے دل عاشق شیدا ہے تو لیکن اپنے کام میں یکتا ہے تو عاشق و معشوق کرتا ہے جدا اے فلک یہ کام بھی کرتا ہے تو لاکھ پردے گر ہوں تیرے حسن پر کوئی پردوں میں چھپا رہتا ہے تو حال دل کہنے لگوں ہوں میں تو شوخ مجھ سے یوں کہتا ہے ''کیا بکتا ہے تو'' پاس بیٹھا اس کے میں رویا کیا یوں نہ پوچھا ...

مزید پڑھیے

اس قدر بھی تو مری جان نہ ترسایا کر

اس قدر بھی تو مری جان نہ ترسایا کر مل کے تنہا تو گلے سے کبھی لگ جایا کر دیکھ کر ہم کو نہ پردے میں تو چھپ جایا کر ہم تو اپنے ہیں میاں غیر سے شرمایا کر یہ بری خو ہے دلا تجھ میں خدا کی سوگند دیکھ اس بت کو تو حیران نہ رہ جایا کر ہاتھ میرا بھی جو پہنچا تو میں سمجھوں گا خوب یہ انگوٹھا تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2500 سے 6203