قومی زبان

یار ہیں چیں بر جبیں سب مہرباں کوئی نہیں

یار ہیں چیں بر جبیں سب مہرباں کوئی نہیں ہم سے ہنس کر بولنے والا یہاں کوئی نہیں قسمت اک شب لے گئی مجھ کو جو باغ وصل میں دیکھتا کیا ہوں کہ اس کا باغباں کوئی نہیں برق گلشن میں پڑی کس کے تبسم سے صبا جو نہ جھلسا ہووے ایسا آشیاں کوئی نہیں وائے ناکامی کہ فریادی ہیں ہم اس شہر میں جز ...

مزید پڑھیے

عاشق تو ملیں گے تجھے انساں نہ ملے گا

عاشق تو ملیں گے تجھے انساں نہ ملے گا مجھ سا تو کوئی بندۂ فرماں نہ ملے گا ہوں منتظر لطف کھڑا کب سے ادھر دیکھ کیا مجھ کو دل اے طرۂ جاناں نہ ملے گا کہنے کو مسلماں ہیں سبھی کعبے میں لیکن ڈھونڈوگے اگر ایک مسلماں نہ ملے گا ناصح اسے سینا ہے تو اب سی لے وگرنہ پھر فصل گل آئے یہ گریباں نہ ...

مزید پڑھیے

اے شب ہجر کہیں تیری سحر ہے کہ نہیں

اے شب ہجر کہیں تیری سحر ہے کہ نہیں نالۂ نیم شبی تجھ میں اثر ہے کہ نہیں جان پر اپنی میں کھیلا ہوں جدائی میں تری بے خبر تجھ کو بھی کچھ اس کی خبر ہے کہ نہیں ایک مدت ہوئی ہم وصف کمر کرتے ہیں پر یہ معلوم نہیں اس کے کمر ہے کہ نہیں رکھ نہ سوزن کو ذرا دیکھ تو لے اے جراح قابل بخیہ مرا زخم ...

مزید پڑھیے

ابھی اپنے مرتبۂ حسن سے میاں با خبر تو ہوا نہیں

ابھی اپنے مرتبۂ حسن سے میاں با خبر تو ہوا نہیں کہ غزل سرا ترے باغ میں کوئی مرغ تازہ نوا نہیں جو گلی میں یار کی جاؤں ہوں تو اجل کہے ہے یہ رحم کھا تو ستم رسیدہ نہ جا ادھر کوئی زندہ واں سے پھرا نہیں وہ غریب و بے کس و زار تھا تجھے اس کا دیتا ہوں میں پتہ ترے کشتہ کا وہ مزار تھا کہ چراغ ...

مزید پڑھیے

اول تو ترے کوچے میں آنا نہیں ملتا

اول تو ترے کوچے میں آنا نہیں ملتا آؤں تو کہیں تیرا ٹھکانا نہیں ملتا ملنا جو مرا چھوڑ دیا تو نے تو مجھ سے خاطر سے تری سارا زمانا نہیں ملتا آوے تو بہانے سے چلا شب مرے گھر کو ایسا کوئی کیا تجھ کو بہانا نہیں ملتا کیا فائدہ گر حرص کرے زر کی تو ناداں کچھ حرص سے قاروں کا خزانا نہیں ...

مزید پڑھیے

کب صبا سوئے اسیران قفس آتی ہے

کب صبا سوئے اسیران قفس آتی ہے کب یہ ان تک خبر آمد گل لاتی ہے دختر رز کی ہوں صحبت کا مباشر کیوں کر ابھی کمسن ہے بہت مرد سے شرماتی ہے کیونکہ فربہ نہ نظر آوے تری زلف کی لٹ جونک سی یہ تو مرا خون ہی پی جاتی ہے جسم نے روح رواں سے یہ کہا تربت میں اب مجھے چھوڑ کے تنہا تو کہاں جاتی ہے کیا ...

مزید پڑھیے

وہ چاندنی رات اور وہ ملاقات کا عالم

وہ چاندنی رات اور وہ ملاقات کا عالم کیا لطف میں گزرا ہے غرض رات کا عالم جاتا ہوں جو مجلس میں شب اس رشک پری کی آتا ہے نظر مجھ کو طلسمات کا عالم برسوں نہیں کرتا تو کبھو بات کسو سے مشتاق ہی رہتا ہے تری بات کا عالم کر مجلس خوباں میں ذرا سیر کہ باہم ہوتا ہے عجب ان کے اشارات کا ...

مزید پڑھیے

کچھ اپنی جو حرمت تجھے منظور ہو اے شیخ

کچھ اپنی جو حرمت تجھے منظور ہو اے شیخ تو بحث نہ مے خواروں سے چل دور ہو اے شیخ مسجد میں ذرا وقت سحر دیکھ تو جا کر شاید کوئی اس چشم کا مخمور ہو اے شیخ صد دانۂ تسبیح رکھے ہاتھ میں اپنے چونکے تو جو یک دانۂ انگور ہو اے شیخ تو مجھ کو کہے ایک میں سو تجھ کو سناؤں اے کاش کہ اتنا مجھے مقدور ...

مزید پڑھیے

آتا ہے یہی جی میں فریاد کروں روؤں

آتا ہے یہی جی میں فریاد کروں روؤں رونے ہی سے ٹک اپنا دل شاد کروں روؤں کس واسطے بیٹھا ہے چپ اتنا تو اے ہم دم کیا میں ہی کوئی نوحہ بنیاد کروں روؤں یوں دل میں گزرتا ہے جا کر کسی صحرا میں خاطر کو ٹک اک غم سے آزاد کروں روؤں اس واسطے فرقت میں جیتا مجھے رکھا ہے یعنی میں تری صورت جب یاد ...

مزید پڑھیے

کبھی تو بیٹھوں ہوں جا اور کبھی اٹھ آتا ہوں

کبھی تو بیٹھوں ہوں جا اور کبھی اٹھ آتا ہوں منوں ہوں آپ ہی پھر آپھی روٹھ جاتا ہوں معاملہ تو ذرا دیکھیو تو چاہت کا مجھے ستاوے ہے وہ اس کو میں ستاتا ہوں رکا ہوا وہ مجھے دیکھ کر جو بولے ہے تو بولتا نہیں میں اس سے سر ہلاتا ہوں پر اتنے میں جو میں سوچوں ہوں یہ نہ رک جاوے زباں پہ اپنی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2501 سے 6203