قومی زبان

صدائے مہر و محبت لگانے آئے ہیں

صدائے مہر و محبت لگانے آئے ہیں جو بار اٹھ نہیں سکتا اٹھانے آئے ہیں یہ کیسا عیب ہے میرے نگر کے لوگوں میں دیے جلا نہ سکے تو بجھانے آئے ہیں جو بے ہنر ہیں ذرا ان کا حوصلہ دیکھو وہ دوسروں کے ہنر آزمانے آئے ہیں عجیب لوگ ہیں پندار بیچنے کے لیے خود اپنے آپ کی قیمت لگانے آئے ہیں منافقت ...

مزید پڑھیے

امانت میں خیانت ہو رہی ہے

امانت میں خیانت ہو رہی ہے سلیقے سے تجارت ہو رہی ہے نہیں محفوظ کوئی اپنے گھر میں مگر گھر کی حفاظت ہو رہی ہے سبھی کے خواب کی تعبیر غم ہے تو پھر کس کو بشارت ہو رہی ہے ہمیں نے خون سے سینچا وطن کو ہمیں سے پھر شکایت ہو رہی ہے کھڑے ہیں رہنما نیلام گھر میں بہت ارزاں سیاست ہو رہی ...

مزید پڑھیے

ہوائے مست نے کانوں میں کچھ کہا ہے کیا

ہوائے مست نے کانوں میں کچھ کہا ہے کیا ترے خیال نے دل کو میرے چھوا ہے کیا یہ کیسی روشنی دہلیز تک چلی آئی نیا چراغ کوئی راہ میں جلا ہے کیا یہ کیا ہوا ہے مجھے چین کیوں نہیں آتا کسی کی آنکھ سے آنسو کہیں گرا ہے کیا طلب ہو سچ تو نہیں دور منزل جاناں بغیر عشق کوئی معجزہ ہوا ہے کیا اکیلا ...

مزید پڑھیے

میں تیرے ہجر زدہ موسموں کی زد میں ہوں

میں تیرے ہجر زدہ موسموں کی زد میں ہوں پس خیال تری قربتوں کی حد میں ہوں میں چاہتی ہوں اجالا مری زمیں پر ہو میں اک دیا ہوں مگر روشنی کی مد میں ہوں یہ نسل نو مرے لہجے سے متفق کب ہے میں اک سوال ہوں لیکن قبول و رد میں ہوں کشاں کشاں لیے پھرتی ہے جستجو کوئی خبر نہیں کہ جنوں میں ہوں یا ...

مزید پڑھیے

دل کو تازہ ملال کیسے ہو

دل کو تازہ ملال کیسے ہو غم سے رشتہ بحال کیسے ہو اس سے پہلے کہ وہ نہ پہچانے کر دیا ہے سوال کیسے ہو ہم سفر تو نہیں تو دنیا میں گردش ماہ و سال کیسے ہو یاد خود ہی بنی ہو نشتر جب زخم کا اندمال کیسے ہو آپ کا جب گلہ نہیں مٹتا پھر تعلق بحال کیسے ہو ہنس کے تم گفتگو نہیں کرتے پھر سخن میں ...

مزید پڑھیے

ترا مزاج ہو برہم یہ کب گوارا ہے

ترا مزاج ہو برہم یہ کب گوارا ہے یہی خوشی ہے ہماری کہ تو ہمارا ہے یہ چاند رات یہ جگنو یہ تیری یاد کی لو اس اہتمام محبت میں دن گزارا ہے جو بے سبب ہی کسی اور چل پڑے ہیں ہم تو زندگی کا بھلا کس طرف اشارہ ہے یہ کیا ہوا ہے کوئی فیصلہ نہیں ہوتا کہ میرے ہاتھ میں جگنو ہے یا ستارہ ہے یہ ...

مزید پڑھیے

عشق میں تیرے جنگل بھی گھر لگتے ہیں

عشق میں تیرے جنگل بھی گھر لگتے ہیں کانٹے اور ببول صنوبر لگتے ہیں بھور بھئے آکاش سے سورج جاگے تو چاند ستارے کتنے بے گھر لگتے ہیں چہرے کو چہرے سے ڈھانپے پھرتے لوگ بولتے ہیں تو لہجے بنجر لگتے ہیں خوشیوں کے بازار میں غم بھی بکتے ہیں اور غم کے بازار تو اکثر لگتے ہیں خون کے رشتے ...

مزید پڑھیے

خود سے جدا ہوئے تو کہیں کے نہیں رہے

خود سے جدا ہوئے تو کہیں کے نہیں رہے یوں در بدر ہوئے کہ زمیں کے نہیں رہے رشتے رفاقتوں کے رقابت میں ڈھل گئے دیوار و در بھی اپنے مکیں کے نہیں رہے ہجرت زدہ لباس میں پھرتے ہیں در بدر رہنا تھا جس نگر میں وہیں کے نہیں رہے یہ کوزہ گر یہ چاک یہ مٹی یہ آگ سب زعم ہنر میں دیکھ کہیں کے نہیں ...

مزید پڑھیے

بس اک ذرا خیال ہمیں دوستی کا ہے

بس اک ذرا خیال ہمیں دوستی کا ہے ورنہ بہت ملال تری بے رخی کا ہے تو بھی ہے زندگی میں کہیں ہے مجھے یقین یا یہ بھی احتمال مری سادگی کا ہے ہے آج جسم و جاں پہ تری یاد کی تھکن اک خوف میرے دل کو کسی ان کہی کا ہے واقف ہوں تیرے درد سے لیکن مرے حبیب اب تو یہ مسئلہ بھی مری زندگی کا ہے لب ہیں ...

مزید پڑھیے

سفر میں خاک ہوئے کارواں بناتے ہوئے

سفر میں خاک ہوئے کارواں بناتے ہوئے زمین جلنے لگی آسماں بناتے ہوئے کوئی بھی حرف دعا رائیگاں نہیں جاتا میں اس یقین پہ پہنچی گماں بناتے ہوئے تحفظ در و دیوار کار مشکل ہے جھلس گیا ہے بدن سائباں بناتے ہوئے عجیب لوگ تھے نفرت میں پائمال ہوئے محبتوں کی زمیں بے نشاں بناتے ہوئے لہو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 248 سے 6203