دل حزیں کو نہ معلوم کیوں قرار نہیں
دل حزیں کو نہ معلوم کیوں قرار نہیں نگاہ شوق تو پابند اعتبار نہیں یہ چند روزہ بہاریں سدا بہار نہیں کہ ڈھلتی چھاؤں کا اے دوست اعتبار نہیں بدلتے رہتے ہیں یہ رنگ آسماں کی طرح نظر فروش سہاروں کا اعتبار نہیں تری نگاہ کے صدقے میں اب وہاں ہوں جہاں کوئی رفیق نہیں کوئی غم گسار ...