قومی زبان

دل حزیں کو نہ معلوم کیوں قرار نہیں

دل حزیں کو نہ معلوم کیوں قرار نہیں نگاہ شوق تو پابند اعتبار نہیں یہ چند روزہ بہاریں سدا بہار نہیں کہ ڈھلتی چھاؤں کا اے دوست اعتبار نہیں بدلتے رہتے ہیں یہ رنگ آسماں کی طرح نظر فروش سہاروں کا اعتبار نہیں تری نگاہ کے صدقے میں اب وہاں ہوں جہاں کوئی رفیق نہیں کوئی غم گسار ...

مزید پڑھیے

لذت احساس غم سے دل کو بہلاتے رہے

لذت احساس غم سے دل کو بہلاتے رہے کچھ ادھورے خواب تھے رہ رہ کے یاد آتے رہے منزل غربت میں پیچھے رہ گئے ہشیار لوگ ہم دوانے تھے بگولوں میں بھی اتراتے رہے لٹنے والوں سے مزاج شام غربت پوچھئے ان کو کیا معلوم جو طوفاں سے کتراتے رہے رسم و راہ نو بہاراں کس قدر دلچسپ ہے کچھ کلی کھلتی رہی ...

مزید پڑھیے

مجھے راس آ گئی ہے یہی حالت پریشاں

مجھے راس آ گئی ہے یہی حالت پریشاں کبھی شام شام بجلی کبھی گام گام طوفاں مری شام گل بداماں مری شب شب چراغاں ترے دم قدم سے کیا کیا ہے فروغ آہ سوزاں میں جہاں جہاں بھی ٹھہرا شب تار کے سہارے وہی رقص آہواں تھا سر دامن بیاباں دل زار دے سنبھالا کہ رہ وفا کٹھن ہے کہیں رہ گزر کے کانٹے مجھے ...

مزید پڑھیے

الزام بتا کون مرے سر نہیں آیا

الزام بتا کون مرے سر نہیں آیا حصے میں مرے کون سا پتھر نہیں آیا ہم جو بھی ہوئے ہیں بڑی محنت سے ہوئے ہیں کام اپنے کبھی اپنا مقدر نہیں آیا کچھ اور نہیں بس یہ تو مٹی کا اثر ہے ظالم کو کبھی کہنا ہنر ور نہیں آیا دل کا سبھی دروازہ کھلا رکھا ہے میں نے پر اس کو نہ آنا تھا ستم گر نہیں ...

مزید پڑھیے

کون کہتا تھا کہ یہ بھی حوصلہ ہو جائے گا

کون کہتا تھا کہ یہ بھی حوصلہ ہو جائے گا میرؔ و غالبؔ سے ہمارا سلسلہ ہو جائے گا ہم چلے ہیں کوچۂ قاتل کو یہ سوچے بغیر تم نہ آؤ ساتھ تب بھی قافلہ ہو جائے گا جس قلندر نے رکھا ٹھوکر میں تخت و تاج کو وہ ذرا سا سر ہلا دے زلزلہ ہو جائے گا بد دعاؤں نے مجھے محفوظ رکھا آج تک تم دعا دینے لگے ...

مزید پڑھیے

وہ جن کو خوب تھا اپنے ہنر کا اندازہ

وہ جن کو خوب تھا اپنے ہنر کا اندازہ ہے اپنی مات کی ان کو خبر کا اندازہ نہ ہو فریق کوئی سامنے تو ہو کیسے کسی فریق کو اپنے ہنر کا اندازہ انہیں ہے زعم کہ ہم کو اسیر کر دیں گے مگر غلط ہے کسی بے خبر کا اندازہ ہمیں ڈرائے گا کیسے سفر سمندر کا کہ ہم تو کر بھی چکے ہیں بھنور کا اندازہ وہ ...

مزید پڑھیے

ملال دل میں کسی درد کا نہیں رکھنا

ملال دل میں کسی درد کا نہیں رکھنا کوئی برا جو کہے دل برا نہیں رکھنا یہ دشمنی تو بہت فاصلے بڑھا دے گی ہمارے بعد کسی سے گلہ نہیں رکھنا ہمارے دوست ہمیں بد گمان کر دیں گے اب التفات بہت برملا نہیں رکھنا یہ نسل نو تو ہمیں سے جواز مانگے گی سو اختلاف کو حد سے سوا نہیں رکھنا تمہارے پاس ...

مزید پڑھیے

زنجیر غلامی

کہاں تک اے ستم گر چرخ تدبیریں غلامی کی کہ اب بار گراں ہے دل کو زنجیریں غلامی کی سبق دیتی ہیں آزادی کا تاثیریں غلامی کی زبان حال سے کہتی ہیں تصویریں غلامی کی ہم اپنا ملک اپنا تخت اپنا تاج لے لیں گے کہے دیتے ہیں ہم اس سال میں سوراج لے لیں گے رہے گی ایک قوم غیر کب تک حکمراں ہم پر کہاں ...

مزید پڑھیے

دست طلب دراز زیادہ نہ کر سکے

دست طلب دراز زیادہ نہ کر سکے ہم زندگی سے کوئی تقاضا نہ کر سکے چوں کہ کرم پہ ہم ترے شبہ نہ کر سکے بس اے خدا گناہ سے توبہ نہ کر سکے جب اعتبار ذوق نظر بھی نہ مل سکا نظروں کو اپنی وقف نظارہ نہ کر سکے تو جب قریب جاں بھی قریب نظر بھی تھا ہم بھی بزعم عشق اعادہ نہ کر سکے پھر تو ترا خیال ...

مزید پڑھیے

کیا سے کیا آخر جنون فتنہ ساماں بن گیا

کیا سے کیا آخر جنون فتنہ ساماں بن گیا برق و طوفاں بن گیا باغ و بہاراں بن گیا کل تلک جس خواب کی تعبیر رقص و رنگ تھی اب وہ خواب زندگی خواب پریشاں بن گیا چل رہی تھی سانس جب تک راز اندر راز تھا اور جب تار نفس ٹوٹا تو طوفاں بن گیا خون دل کا ایک قطرہ ایک حرف ناتمام پڑھنے والوں کے لئے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 247 سے 6203