قومی زبان

اپنے تو رات دن یہاں ایسے بسر ہوئے

اپنے تو رات دن یہاں ایسے بسر ہوئے جیسے کسی غریب کے شام و سحر ہوئے امرت نگر کی خاک کو آنکھوں سے چوم کر مجھ شاعرہ کے حرف بھی کچھ معتبر ہوئے تو ساتھ تھا تو آسماں تھے اختیار میں تو جا چکا تو بے صدا بے بال و پر ہوئے کہنے کو ایک شخص تھا جو اب نہیں رہا کیسے تمہارے شہر میں ہم دیدہ ور ...

مزید پڑھیے

اس کی نظر میں پنہاں محبت پہ رائے دو

اس کی نظر میں پنہاں محبت پہ رائے دو پھر شہر کم نگہ کی بصارت پہ رائے دو میں نے کہا کہ آپ کے چرچے ہیں چار سو اس نے کہا نہیں مری شہرت پہ رائے دو جس کو تمہاری یاد نے پتھر بنا دیا پلکیں اٹھاؤ اس کی شباہت پہ رائے دو اپنے وظیفے یاد ہی ہوں گے تمہیں مگر میری وفا کی پہلی تلاوت پہ رائے ...

مزید پڑھیے

خاک اوڑھے ہوئے اک خواب کی تعبیر کا دکھ

خاک اوڑھے ہوئے اک خواب کی تعبیر کا دکھ اس کو کھا جائے گا اک دن میری تشہیر کا دکھ تم نے زنداں میں فقط میری اسیری دیکھی اب دلا دیکھ ذرا پاؤں کی زنجیر کا دکھ جس نے کاٹا ہے جوانی میں بڑھاپے کا سفر آ بتاتی ہوں تجھے ہائے مرے ویر کا دکھ وقت رخصت وہ جو پلکوں میں چھپایا تم نے دل میں اب تک ...

مزید پڑھیے

ہم نے تو شرافت میں ہر چیز گنوا دی ہے

ہم نے تو شرافت میں ہر چیز گنوا دی ہے دنیا کا کبھی غم تھا اب موت کی شادی ہے سب زخم ہوئے تازہ یادوں سے الجھتے ہی بجھتے ہوئے شعلوں کو یہ کس نے ہوا دی ہے اک بار کہا ہوتا ہم آپ ہی مر جاتے تم نے تو ہمیں ساقی نظروں سے پلا دی ہے تنہائی مقدر ہے میرا بھی تمہارا بھی اس دور میں جینے کی کیا خوب ...

مزید پڑھیے

آپ نے ہاتھ رکھا مرے ہات پر

آپ نے ہاتھ رکھا مرے ہات پر پھر گیا سارا الزام برسات پر آگ ساون نے ساری لگائی یہاں ترس کھائی نہ کچھ اس نے حالات پر وہ مرا امتحاں لیں گے ہرگز نہیں جان دے دیں گے ہم ان کی اک بات پر مہرباں وہ ہوئے جب گھڑی دو گھڑی ہم نے غزلیں کہیں چاندنی رات پر جیت کر بھی اسے اس قدر رنج ہے وہ پشیمان ...

مزید پڑھیے

اب تو یہ بھی ہونے لگا ہے ہم میں ان میں بات نہیں

اب تو یہ بھی ہونے لگا ہے ہم میں ان میں بات نہیں دنیا والے پوچھتے ہیں کیا پہلے سے حالات نہیں ایک اگر ہو عشق کی بازی تو پھر کوئی بات نہیں کون سا ایسا کھیل ہے جس میں ہم نے کھائی مات نہیں آنکھ سے آنسو بن کے بہیں جو ایسے سب جذبات نہیں دل کا زخم چھپا کے جینا سب کے بس کی بات نہیں دن تو دن ...

مزید پڑھیے

میں کناروں کو رلانے لگا ہوں

میں کناروں کو رلانے لگا ہوں پھول دریا میں بہانے لگا ہوں کھیل کو ختم کرو جلدی سے ورنہ میں پردہ گرانے لگا ہوں دل سے جاؤں تو بتانا مجھ کو تیری محفل سے تو جانے لگا ہوں یوں لگی مجھ کو محبت تیری جیسے میں بوجھ اٹھانے لگا ہوں پہلے میں اپنا اڑاتا تھا مذاق اور اب خاک اڑانے لگا ہوں کتنی ...

مزید پڑھیے

کسی منظر کے پس منظر میں جا کر

کسی منظر کے پس منظر میں جا کر چلو دیکھیں کسی پتھر میں جا کر گھنے جنگل نے مجھ پر راز کھولا نکل جاتا ہے ہر ڈر ڈر میں جا کر خود اپنی ذات ہو جاتی ہے معدوم خود اپنی ذات کے جوہر میں جا کر مرے دل کی تمنا بن گیا ہے وہ چہرہ میری چشم تر میں جا کر سمٹ جاتے ہیں میرے ساتھ مجھ میں مرے پاؤں مری ...

مزید پڑھیے

عاجزی کو چلن کیے ہوئے ہیں

عاجزی کو چلن کیے ہوئے ہیں خاک اپنا بدن کئے ہوئے ہوں ہجر اک مستقل لباس مرا جس کو میں زیب تن کیے ہوئے ہوں چند آنسو مرا اثاثہ ہیں جن کو میں وقف فن کیے ہوئے ہوں آبلے اگ رہے ہیں پاؤں میں دشت سرو سمن کیے ہوئے ہوں گھر میں رہ کر بھی گھر نہیں رہتا خود کو یوں بے وطن کیے ہوئے ہوں موت سے ...

مزید پڑھیے

اتنی سی زندگی بھی ہے کتنی گراں مجھے

اتنی سی زندگی بھی ہے کتنی گراں مجھے دینا ہے گام گام ابھی امتحاں مجھے رستے میں تار تار بکھیر آئے تھے جسے لوٹے ہے شام شام وہی داستاں مجھے اچھا ہوا کہ جل گئی تنکوں کی کائنات اب تو نہ دیں گی طعنہ کبھی بجلیاں مجھے حسن فریب میرا مزاج سخن نہیں رکھیو معاف اس سے مگر دوستاں مجھے آپ آ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 246 سے 6203