قومی زبان

کسی اور غم میں اتنی خلش نہاں نہیں ہے

کسی اور غم میں اتنی خلش نہاں نہیں ہے غم دل مرے رفیقو غم رائگاں نہیں ہے کوئی ہم نفس نہیں ہے کوئی رازداں نہیں ہے فقط ایک دل تھا اب تک سو وہ مہرباں نہیں ہے مری روح کی حقیقت مرے آنسوؤں سے پوچھو مرا مجلسی تبسم مرا ترجماں نہیں ہے کسی زلف کو صدا دو کسی آنکھ کو پکارو بڑی دھوپ پڑ رہی ہے ...

مزید پڑھیے

تیرے چہرے کی طرح اور مرے سینے کی طرح

تیرے چہرے کی طرح اور مرے سینے کی طرح میرا ہر شعر دمکتا ہے نگینے کی طرح پھول جاگے ہیں کہیں تیرے بدن کی مانند اوس مہکی ہے کہیں تیرے پسینے کی طرح اے مجھے چھوڑ کے طوفان میں جانے والی دوست ہوتا ہے تلاطم میں سفینے کی طرح اے مرے غم کو زمانے سے بتانے والی میں ترا راز چھپاتا ہوں دفینے ...

مزید پڑھیے

نگر نگر میلے کو گئے کون سنے گا تیری پکار

نگر نگر میلے کو گئے کون سنے گا تیری پکار اے دل اے دیوانے دل! دیواروں سے سر دے مار روح کے اس ویرانے میں تیری یاد ہی سب کچھ تھی آج تو وہ بھی یوں گزری جیسے غریبوں کا تیوہار اس کے وار پہ شاید آج تجھ کو یاد آئے ہوں وہ دن اے نادان خلوص کہ جب وہ غافل تھا ہم ہشیار پل پل صدیاں بیت گئیں جانے ...

مزید پڑھیے

تیری چشم ستم ایجاد سے ڈر لگتا ہے

تیری چشم ستم ایجاد سے ڈر لگتا ہے یہ غلط ہے کسی افتاد سے ڈر لگتا ہے اس لیے چپ ہوں کہ آداب قفس پر ہے نظر کون کہتا ہے کہ صیاد سے ڈر لگتا ہے ہم تو لذت کش آزار ہیں اے جوش وفا اور ہیں وہ جنہیں بیداد سے ڈر لگتا ہے تیرے جلووں کو کہیں عام نہ کر دیں اے دوست اس لیے مانی و بہزاد سے ڈر لگتا ...

مزید پڑھیے

دل بیتاب مرگ ناگہاں باقی نہ رہ جائے

دل بیتاب مرگ ناگہاں باقی نہ رہ جائے محبت کا یہ نازک امتحاں باقی نہ رہ جائے سنبھل کر پھونک اے برق تپاں میرے نشیمن کو کہیں عجلت میں شاخ آشیاں باقی نہ رہ جائے مدد اے جوش گریہ خون دل شامل ہے اشکوں میں کوئی اس سلسلہ کی داستاں باقی نہ رہ جائے محبت کی حدیں اس عالم امکاں سے بالا ...

مزید پڑھیے

ستم میں بھی شان کرم دیکھتے ہیں

ستم میں بھی شان کرم دیکھتے ہیں ہمیں جانتے ہیں جو ہم دیکھتے ہیں جہاں تک تعلق ہے عیب و خطا کا جو اہل نظر ہیں وہ کم دیکھتے ہیں ترا انتظار اس قدر بڑھ گیا ہے کہ ہر آنے والے کو ہم دیکھتے ہیں نظر سوئے کعبہ ہے دل بت کدے میں ہم انداز اہل حرم دیکھتے ہیں نگاہیں یوں ہی مل گئیں بے ارادہ نہ ...

مزید پڑھیے

عشق کی شعلہ مزاجی خود ہی برساتی ہے آگ

عشق کی شعلہ مزاجی خود ہی برساتی ہے آگ بانس کے جنگل میں اپنے آپ لگ جاتی ہے آگ جان لینے کے طریقے کس قدر دلچسپ ہیں زہر برساتی ہے شبنم پھول برساتی ہے آگ حرف جب آتا ہے ناموس و وقار عشق پر شدت احساس سے رگ رگ میں لہراتی ہے آگ نا موافق دور میں اپنے بھی ہو جاتے ہیں غیر خشک موسم ہو تو ...

مزید پڑھیے

نصیب عشق مسرت کبھی نہیں ہوتی

نصیب عشق مسرت کبھی نہیں ہوتی یہ بزم وہ ہے جہاں روشنی نہیں ہوتی جبین عشق کے سجدے قبول ہوتے ہیں مزاج حسن میں جب برہمی نہیں ہوتی سمجھ چکے ہیں اسیری کو ہم پیام اجل کہ زندگی قفس زندگی نہیں ہوتی مرے بغیر انہیں کون جان سکتا ہے وہ یوں گزرتے ہیں آواز بھی نہیں ہوتی ترا ستم بھی تو ہے ایک ...

مزید پڑھیے

تاب نظر سے ان کو پریشاں کیے ہوئے

تاب نظر سے ان کو پریشاں کیے ہوئے آئینۂ جمال کو حیراں کیے ہوئے جلتے رہے چراغ کی صورت تمام عمر لیکن فضائے غم کو فروزاں کیے ہوئے تیری گلی میں جشن بہاراں ہے بے خبر آئے ہیں لوگ دل کو گلستاں کیے ہوئے ساقی بس ایک جام سکوں چاہئے مجھے حالات زندگی ہیں پریشاں کیے ہوئے ہم بھی شریک جشن ...

مزید پڑھیے

نظروں کی ضد سے یوں تو میں غافل نہیں رہا

نظروں کی ضد سے یوں تو میں غافل نہیں رہا پہلو میں اے مشیرؔ مگر دل نہیں رہا اے دل تصورات کا حاصل نہیں رہا کوئی مری نظر کے مقابل نہیں رہا موجوں پہ اعتماد نہ کیوں کر کرے کوئی ساحل تو اعتبار کے قابل نہیں رہا آداب بزم ناز پہ اے دل نظر تو ہے مانا کہ درد ضبط کے قابل نہیں رہا وہ چشم عشوہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2457 سے 6203