قومی زبان

قدم قدم پہ تمنائے التفات تو دیکھ

قدم قدم پہ تمنائے التفات تو دیکھ زوال عشق میں سوداگروں کا ہات تو دیکھ بس ایک ہم تھے جو تھوڑا سا سر اٹھا کے چلے اسی روش پہ رقیبوں کے واقعات تو دیکھ غم حیات میں حاضر ہوں لیکن ایک ذرا نگار شہر سے میرے تعلقات تو دیکھ خود اپنی آنچ میں جلتا ہے چاندنی کا بدن کسی کے نرم خنک گیسوؤں کی ...

مزید پڑھیے

تری تلاش میں ہر رہنما سے باتیں کیں

تری تلاش میں ہر رہنما سے باتیں کیں خلا سے ربط بڑھایا ہوا سے باتیں کیں کبھی ستاروں نے بھیجا ہمیں کوئی پیغام تو مدتوں میں کسی آشنا سے باتیں کیں ہماری خیر مناؤ کہ آج خود اس نے بڑے خلوص بڑی التجا سے باتیں کیں گناہگار تو رمز حریم تک پہنچے ثواب والوں نے بانگ درا سے باتیں کیں بہت ...

مزید پڑھیے

بجھ گئی شمع حرم باب کلیسا نہ کھلا

بجھ گئی شمع حرم باب کلیسا نہ کھلا کھل گئے زخم کے لب تیرا دریچہ نہ کھلا در توبہ سے بگولوں کی طرح گزرے لوگ ابر کی طرح امڈ آئے جو مے خانہ کھلا شہر در شہر پھری مری گناہوں کی بیاض بعض نظروں پہ مرا سوز حکیمانہ کھلا نازنینوں میں رسائی کا یہ عالم تھا کبھی لاکھ پہروں میں بھی دروازے پہ ...

مزید پڑھیے

فن کار خود نہ تھی مرے فن کی شریک تھی

فن کار خود نہ تھی مرے فن کی شریک تھی وہ روح کے سفر میں بدن کی شریک تھی اترا تھا جس پہ باب حیا کا ورق ورق بستر کے ایک ایک شکن کی شریک تھی میں ایک اعتبار سے آتش پرست تھا وہ سارے زاویوں سے چمن کی شریک تھی وہ نازش ستارہ و طنار ماہتاب گردش کے وقت میرے گہن کی شریک تھی وہ ہم جلیس سانحۂ ...

مزید پڑھیے

اس قدر اب غم دوراں کی فراوانی ہے

اس قدر اب غم دوراں کی فراوانی ہے تو بھی منجملۂ اسباب پریشانی ہے مجھ کو اس شہر سے کچھ دور ٹھہر جانے دو میرے ہمراہ مری بے سر و سامانی ہے آنکھ جھک جاتی ہے جب بند قبا کھلتے ہیں تجھ میں اٹھتے ہوئے خورشید کی عریانی ہے اک ترا لمحۂ اقرار نہیں مر سکتہ اور ہر لمحہ زمانے کی طرح فانی ...

مزید پڑھیے

کیا کیا نظر کو شوق ہوس دیکھنے میں تھا

کیا کیا نظر کو شوق ہوس دیکھنے میں تھا دیکھا تو ہر جمال اسی آئینے میں تھا قلزم نے بڑھ کے چوم لیے پھول سے قدم دریائے رنگ و نور ابھی راستے میں تھا اک موج خون خلق تھی کس کی جبیں پہ تھی اک طوق فرد جرم تھا کس کے گلے میں تھا اک رشتۂ وفا تھا سو کس نا شناس سے اک درد حرز جاں تھا سو کس کے صلے ...

مزید پڑھیے

کسی تو کام زمانے کے سوگوار آئے

کسی تو کام زمانے کے سوگوار آئے تجھے جو پا نہ سکے زیست کو سنوار آئے تھا جس پہ وعدۂ فردوس و عاقبت کا مدار وہ رات ہم سر کوئے بتاں گزار آئے ترے خیال پہ شب خوں تو خیر کیا کرتے بہت ہوا تو اک اوچھا سا ہات مار آئے متاع دل ہی بچی تھی بس اک زمانے سے سو ہم اسے بھی تری انجمن میں ہار آئے بڑے ...

مزید پڑھیے

روکتا ہے غم اظہار سے پندار مجھے

روکتا ہے غم اظہار سے پندار مجھے میرے اشکوں سے چھپا لے مرے رخسار مجھے دیکھ اے دشت جنوں بھید نہ کھلنے پائے ڈھونڈنے آئے ہیں گھر کے در و دیوار مجھے سی دیے ہونٹ اسی شخص کی مجبوری نے جس کی قربت نے کیا محرم اسرار مجھے میری آنکھوں کی طرف دیکھ رہے ہیں انجم جیسے پہچان گئی روح شب تار ...

مزید پڑھیے

ہر طرف انبساط ہے اے دل

ہر طرف انبساط ہے اے دل اور ترے گھر میں رات ہے اے دل عشق ان ظالموں کی دنیا میں کتنی مظلوم ذات ہے اے دل میری حالت کا پوچھنا ہی کیا سب ترا التفات ہے اے دل اور بیدار چل کہ یہ دنیا شاطروں کی بساط ہے اے دل صرف اس نے نہیں دیا مجھے سوز اس میں تیرا بھی ہات ہے اے دل مندمل ہو نہ جائے زخم ...

مزید پڑھیے

درد دل بھی غم دوراں کے برابر سے اٹھا

درد دل بھی غم دوراں کے برابر سے اٹھا آگ صحرا میں لگی اور دھواں گھر سے اٹھا تابش حسن بھی تھی آتش دنیا بھی مگر شعلہ جس نے مجھے پھونکا مرے اندر سے اٹھا کسی موسم کی فقیروں کو ضرورت نہ رہی آگ بھی ابر بھی طوفان بھی ساغر سے اٹھا بے صدف کتنے ہی دریاؤں سے کچھ بھی نہ ہوا بوجھ قطرے کا تھا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2454 سے 6203