کف مومن سے نہ دروازۂ دوراں سے ملا
کف مومن سے نہ دروازۂ دوراں سے ملا رشتۂ درد اسی دشمن ایماں سے ملا اس کا رونا ہے کہ پیماں شکنی کے با وصف وہ ستم گر اسی پیشانیٔ خنداں سے ملا طالب دست ہوس اور کئی دامن تھے ہم سے ملتا جو نہ یوسف کے گریباں سے ملا کوئی باقی نہیں اب ترک تعلق کے لئے وہ بھی جا کر صف احباب گریزاں سے ...