قومی زبان

کف مومن سے نہ دروازۂ دوراں سے ملا

کف مومن سے نہ دروازۂ دوراں سے ملا رشتۂ درد اسی دشمن ایماں سے ملا اس کا رونا ہے کہ پیماں شکنی کے با وصف وہ ستم گر اسی پیشانیٔ خنداں سے ملا طالب دست ہوس اور کئی دامن تھے ہم سے ملتا جو نہ یوسف کے گریباں سے ملا کوئی باقی نہیں اب ترک تعلق کے لئے وہ بھی جا کر صف احباب گریزاں سے ...

مزید پڑھیے

جب ہوا شب کو بدلتی ہوئی پہلو آئی

جب ہوا شب کو بدلتی ہوئی پہلو آئی مدتوں اپنے بدن سے تری خوشبو آئی میرے نغمات کی تقدیر نہ پہنچے تجھ تک میری فریاد کی قسمت کہ تجھے چھو آئی اپنی آنکھوں سے لگاتی ہیں زمانے کے قدم شہر کی راہ گزاروں میں مری خو آئی ہاں نمازوں کا اثر دیکھ لیا پچھلی رات میں ادھر گھر سے گیا تھا کہ ادھر تو ...

مزید پڑھیے

کوئی رفیق بہم ہی نہ ہو تو کیا کیجے

کوئی رفیق بہم ہی نہ ہو تو کیا کیجے کبھی کبھی ترا غم ہی نہ ہو تو کیا کیجے ہماری راہ جدا ہے کہ ایسی راہوں پر رواج نقش قدم ہی نہ ہو تو کیا کیجے ہمیں بھی بادہ گساری سے عار تھی لیکن شراب ظرف سے کم ہی نہ ہو تو کیا کیجے تباہ ہونے کا ارماں سہی محبت میں کسی کو خوئے ستم ہی نہ ہو تو کیا ...

مزید پڑھیے

سینے میں خزاں آنکھوں میں برسات رہی ہے

سینے میں خزاں آنکھوں میں برسات رہی ہے اس عشق میں ہر فصل کی سوغات رہی ہے کس طرح خود اپنے کو یقیں آئے کہ اس سے ہم خاک نشینوں کی ملاقات رہی ہے صوفی کا خدا اور تھا شاعر کا خدا اور تم ساتھ رہے ہو تو کرامات رہی ہے اتنا تو سمجھ روز کے بڑھتے ہوئے فتنے ہم کچھ نہیں بولے تو تری بات رہی ...

مزید پڑھیے

ہوئی ایجاد نئی طرز خوشامد کہ نہیں

ہوئی ایجاد نئی طرز خوشامد کہ نہیں کل کا آئین ہے اب تک سر مسند کہ نہیں آ گئی اے مرے سائے سے بھی بچنے والی رفتہ رفتہ ترے اقرار کی سرحد کہ نہیں نہر خوں ہو چکی، فرہاد کی مزدوری کو اب کے تیشے سے ملی قیمت ساعد کہ نہیں ناصحا اس لیے میں گوش بر آواز نہ تھا تری آواز سے چھوٹا ہے ترا قد کہ ...

مزید پڑھیے

لوگوں کی ملامت بھی ہے خود درد سری بھی

لوگوں کی ملامت بھی ہے خود درد سری بھی کس کام کی یہ اپنی وسیع النظری بھی کیا جانیے کیوں سست تھی کل ذہن کی رفتار ممکن ہوئی تاروں سے مری ہم سفری بھی راتوں کو کلی بن کے چٹکتا تھا ترا جسم دھوکے میں چلی آئی نسیم سحری بھی خود اپنے شب و روز گزر جائیں گے لیکن شامل ہے مرے غم میں تری در ...

مزید پڑھیے

''زبان غیر سے کیا شرح آرزو کرتے'' (ردیف .. ے)

''زبان غیر سے کیا شرح آرزو کرتے'' وہ خود اگر کہیں ملتا تو گفتگو کرتے وہ زخم جس کو کیا نوک آفتاب سے چاک اسی کو سوزن مہتاب سے رفو کرتے سواد دل میں لہو کا سراغ بھی نہ ملا کسے امام بناتے کہاں وضو کرتے وہ اک طلسم تھا قربت میں اس کے عمر کٹی گلے لگا کے اسے اس کی آرزو کرتے حلف اٹھائے ہیں ...

مزید پڑھیے

چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ

چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ ہم اس کے پاس جاتے ہیں مگر آہستہ آہستہ ابھی تاروں سے کھیلو چاند کی کرنوں سے اٹھلاؤ ملے گی اس کے چہرے کی سحر آہستہ آہستہ دریچوں کو تو دیکھو چلمنوں کے راز تو سمجھو اٹھیں گے پردہ ہائے بام و در آہستہ آہستہ زمانے بھر کی کیفیت سمٹ آئے گی ساغر ...

مزید پڑھیے

یوں تو وہ ہر کسی سے ملتی ہے

یوں تو وہ ہر کسی سے ملتی ہے ہم سے اپنی خوشی سے ملتی ہے سیج مہکی بدن سے شرما کر یہ ادا بھی اسی سے ملتی ہے وہ ابھی پھول سے نہیں ملتی جوہیے کی کلی سے ملتی ہے دن کو یہ رکھ رکھاؤ والی شکل شب کو دیوانگی سے ملتی ہے آج کل آپ کی خبر ہم کو! غیر کی دوستی سے ملتی ہے شیخ صاحب کو روز کی ...

مزید پڑھیے

کبھی جھڑکی سے کبھی پیار سے سمجھاتے رہے

کبھی جھڑکی سے کبھی پیار سے سمجھاتے رہے ہم گئی رات پہ دل کو لیے بہلاتے رہے اپنے اخلاق کی شہرت نے عجب دن دکھلائے وہ بھی آتے رہے احباب بھی ساتھ آتے رہے ہم نے تو لٹ کے محبت کی روایت رکھ لی ان سے تو پوچھیے وہ کس لیے پچھتاتے رہے اس کے تو نام سے وابستہ ہے کلیوں کا گداز آنسوؤ تم سے تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2455 سے 6203