بیٹھا ہوں سیہ بخت و مکدر اسی گھر میں
بیٹھا ہوں سیہ بخت و مکدر اسی گھر میں اترا تھا مرا ماہ منور اسی گھر میں اے سانس کی خوشبو لب و عارض کے پسینے کھولا تھا مرے دوست نے بستر اسی گھر میں چٹکی تھیں اسی کنج میں اس ہونٹ کی کلیاں مہکے تھے وہ اوقات میسر اسی گھر میں افسانہ در افسانہ تھی مڑتی ہوئی سیڑھی اشعار در اشعار تھا ہر ...