قومی زبان

بیٹھا ہوں سیہ بخت و مکدر اسی گھر میں

بیٹھا ہوں سیہ بخت و مکدر اسی گھر میں اترا تھا مرا ماہ منور اسی گھر میں اے سانس کی خوشبو لب و عارض کے پسینے کھولا تھا مرے دوست نے بستر اسی گھر میں چٹکی تھیں اسی کنج میں اس ہونٹ کی کلیاں مہکے تھے وہ اوقات میسر اسی گھر میں افسانہ در افسانہ تھی مڑتی ہوئی سیڑھی اشعار در اشعار تھا ہر ...

مزید پڑھیے

جس دن سے اپنا طرز فقیرانہ چھٹ گیا

جس دن سے اپنا طرز فقیرانہ چھٹ گیا شاہی تو مل گئی دل شاہانہ چھٹ گیا کوئی تو غم گسار تھا کوئی تو دوست تھا اب کس کے پاس جائیں کہ ویرانہ چھٹ گیا دنیا تمام چھٹ گئی پیمانے کے لیے وہ مے کدے میں آئے تو پیمانہ چھٹ گیا کیا تیز پا تھے دن کی تمازت کے قافلے ہاتھوں سے رشتۂ شب افسانہ چھٹ ...

مزید پڑھیے

تعمیر

اپنے سینے میں دبائے ہوئے لاکھوں شعلے شبنم و برف کے نغمات سنائے میں نے زیست کے نوحۂ پیہم سے چرا کر آنکھیں گیت جو گا نہ سکے کوئی وہ گائے میں نے آج تشبیہ و کنایات کا دل ٹوٹ گیا آج میں جو بھی کہوں گا وہ حقیقت ہوگی آنچ لہرائے گی ہر بوند سے پیمانے کی میرے سائے کو مری شکل سے وحشت ...

مزید پڑھیے

رہ و رسم آشنائی

زمیں نئی تھی، فلک نا شناس تھا جب ہم تری گلی سے نکل کر سوئے زمانہ چلے نظر جھکا کے بہ انداز مجرمانہ چلے چلے بہ جیب دریدہ، بہ دامن صد چاک کہ جیسے جنس دل و جاں گنوا کے آئے ہیں تمام نقد سیادت لٹا کے آئے ہیں جہاں اک عمر کٹی تھی، اسی قلمرو میں شناخت کے لئے ہر شاہراہ نے ٹوکا ہر اک نگاہ کے ...

مزید پڑھیے

دیدنی

میری پلکوں کو مت دیکھو ان کا اٹھنا ان کا جھپکنا جسم کا نا محسوس عمل ہے میری آنکھوں کو مت دیکھو ان کی اوٹ میں شام غریباں ان کی آڑ میں دشت ازل ہے میرے چہرے کو مت دیکھو اس میں کوئی وعدۂ فردا اس میں کوئی آج نہ کل ہے اب اس دریا تک مت آؤ جس کی لہریں ٹوٹ چکی ہیں اس سینے سے لو نہ لگاؤ جس کی ...

مزید پڑھیے

دوری

اے بہار تجھ کو اس کی کیا خبر اے نگار تجھ کو کیا پتا دل کے فاصلے کبھی نہ مٹ سکے انتہائے قرب سے بھی کیا سب کی اپنی اپنی شخصیت الگ سب کا اپنا اپنا زاویہ وہ بھی پھول تھے جو ہار بن گئے وہ بھی پھول تھا جو جل گیا

مزید پڑھیے

آواز کے سائے

خبر نہیں تم کہاں ہو یارو ہماری افتاد روز و شب کی تمہیں خبر مل سکی، کہ تم بھی رہین دست خزاں ہو یارو دنوں میں تفریق مٹ چکی ہے کہ وقت سے خوش گماں ہو یارو ابھی لڑکپن کے حوصلے ہیں کہ بے سر و سائباں ہو یارو ہماری افتاد روز و شب میں نہ جانے کتنی ہی بار اب تک دھنک بنی اور بکھر چکی ہے عروس ...

مزید پڑھیے

آخری بار ملو

آخری بار ملو ایسے کہ جلتے ہوئے دل راکھ ہو جائیں کوئی اور تقاضہ نہ کریں چاک وعدہ نہ سلے زخم تمنا نہ کھلے سانس ہموار رہے شمع کی لو تک نہ ہلے باتیں بس اتنی کہ لمحے انہیں آ کر گن جائیں آنکھ اٹھائے کوئی امید تو آنکھیں چھن جائیں اس ملاقات کا اس بار کوئی وہم نہیں جس سے اک اور ملاقات کی ...

مزید پڑھیے

اب بھی حدود سود و زیاں سے گزر گیا

اب جی حدود سود و زیاں سے گزر گیا اچھا وہی رہا جو جوانی میں مر گیا پلکوں پہ آ کے رک سی گئی تھی ہر ایک موج کل رو لیے تو آنکھ سے دریا اتر گیا تجھ سے تو دل کے پاس ملاقات ہو گئی میں خود کو ڈھونڈنے کے لیے در بہ در گیا شام وطن کچھ اپنے شہیدوں کا ذکر کر جن کے لہو سے صبح کا چہرہ نکھر ...

مزید پڑھیے

بزرگو، ناصحو، فرماں رواؤ (ردیف .. و)

بزرگو، ناصحو، فرماں رواؤ ہمیں تو مے کدے تک چھوڑ آؤ امیرانہ بھی اس کوچے میں آؤ لب و رخسار و مژگاں کے گداؤ ابھرتی جا رہی ہے شمع کی لو بڑی نادان ہو ٹھنڈی ہواؤ ہزاروں راز عریاں ہو رہے ہیں گراؤ آنکھ پر چلمن گراؤ وہ مجھ سے اور میں ان سے خفا ہوں ندیمو آ کے دونوں کو مناؤ نہ جانے ہم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2453 سے 6203