قومی زبان

اجالا

میری ہمدم، مرے خوابوں کی سنہری تعبیر مسکرا دے کہ مرے گھر میں اجالا ہو جائے آنکھ ملتے ہوئے اٹھ جائے کرن بستر سے صبح کا وقت ذرا اور سہانا ہو جائے میرے نکھرے ہوئے گیتوں میں ترا جادو ہے میں نے معیار تصور سے بنایا ہے تجھے میری پروین تخیل، مری نسرین نگاہ میں نے تقدیس کے پھولوں سے ...

مزید پڑھیے

جدائی

نگار شام غم میں تجھ سے رخصت ہونے آیا ہوں گلے مل لے کہ یوں ملنے کی نوبت پھر نہ آئے گی سر راہے جو ہم دونوں کہیں مل بھی گئے تو کیا یہ لمحے پھر نہ لوٹیں گے یہ ساعت پھر نہ آئے گی کہ میں اب صرف ان گزرے ہوئے لمحوں کا سایہ ہوں اسی بازار میں بارہ برس ہونے کو آئے ہیں کہ میں نے فاسٹس کی طرح اپنی ...

مزید پڑھیے

وصال

وہ نہیں تھی تو دل اک شہر وفا تھا جس میں اس کے ہونٹوں کے تصور سے تپش آتی تھی اس کے انکار پہ بھی پھول کھلے رہتے تھے اس کے انفاس سے بھی شمع جلی جاتی تھی دن اس امید پہ کٹتا تھا کہ دن ڈھلتے ہی اس نے کچھ دیر کو مل لینے کی مہلت دی ہے انگلیاں برق زدہ رہتی تھیں جیسے اس نے اپنے رخساروں کو ...

مزید پڑھیے

دور کی آواز

میرے محبوب دیس کی گلیو تم کو اور اپنے دوستوں کو سلام اپنے زخمی شباب کو تسلیم اپنے بچپن کے قہقہوں کو سلام عمر بھر کے لیے تمہارے پاس رہ گئی ہے شگفتگی میری آخری رات کے اداس دیو یاد ہے تم کو بے بسی میری یاد ہے تم کو جب بھلائے تھے عمر بھر کے کیے ہوئے وعدے رسم و مذہب کی اک پجارن نے ایک ...

مزید پڑھیے

انتہا

پھر آج یاس کی تاریکیوں میں ڈوب گئی! وہ اک نوا جو ستاروں کو چوم سکتی تھی سکوت شب کے تسلسل میں کھو گئی چپ چاپ جو یاد وقت کے محور پہ گھوم سکتی تھی ابھی ابھی مری تنہائیوں نے مجھ سے کہا کوئی سنبھال لے مجھ کو، کوئی کہے مجھ سے ابھی ابھی کہ میں یوں ڈھونڈھتا تھا راہ فرار پتہ چلا کہ مرے ...

مزید پڑھیے

ایک شام

یوں تو لمحوں کے اس تسلسل میں اب سے پہلے بھی عمر کٹتی تھی موم بتی کی روشنی میں نظر حافظے کے ورق الٹتی تھی ریت کے سوگوار ٹیلوں پر چاندنی رات بھر بھٹکتی تھی آج لیکن تھکے ہوئے دل پر جسم کا تار تار بھاری ہے شام کی دم بخود ہواؤں پر صبح کا انتظار بھاری ہے مقبروں سے اٹھی ہوئی ...

مزید پڑھیے

رات سنسان ہے

میز چپ چاپ گھڑی بند کتابیں خاموش اپنے کمرے کی اداسی پہ ترس آتا ہے میرا کمرہ جو مرے دل کی ہر اک دھڑکن کو سالہا سال سے چپ چاپ گنے جاتا ہے جہد ہستی کی کڑی دھوپ میں تھک جانے پر جس کی آغوش نے بخشا ہے مجھے ماں کا خلوص جس کی خاموش عنایت کی سہانی یادیں لوریاں بن کے مرے دل میں سما جاتی ...

مزید پڑھیے

فرہاد

اس سے ملنا تو اس طرح کہنا تجھ سے پہلے مری نگاہوں میں کوئی روپ اس طرح نہ اترا تھا تجھ سے آباد ہے خرابۂ دل ورنہ میں کس قدر اکیلا تھا تیرے ہونٹوں پہ کوہسار کی اوس تیرے چہرے پہ دھوپ کا جادو تیری سانسوں کی تھرتھراہٹ میں کونپلوں کے کنوار کی خوشبو وہ کہے گی کہ ان خطابوں سے اور کس کس پہ ...

مزید پڑھیے

آدمی

مجھ کو محصور کیا ہے مری آگاہی نے میں نہ آفاق کا پابند نہ دیواروں کا میں نہ شبنم کا پرستار نہ انگاروں کا نہ خلاؤں کا طلب گار نہ سیاروں کا زندگی دھوپ کا میدان بنی بیٹھی ہے اپنا سایہ بھی گریزاں، ترا داماں بھی خفا رات کا روپ بھی بے زار، چراغاں بھی خفا صبح حیراں بھی خفا، شام حریفاں ...

مزید پڑھیے

آندھی چلی تو نقش کف پا نہیں ملا

آندھی چلی تو نقش کف پا نہیں ملا دل جس سے مل گیا وہ دوبارا نہیں ملا ہم انجمن میں سب کی طرف دیکھتے رہے اپنی طرح سے کوئی اکیلا نہیں ملا آواز کو تو کون سمجھتا کہ دور دور خاموشیوں کا درد شناسا نہیں ملا قدموں کو شوق آبلہ پائی تو مل گیا لیکن بہ ظرف وسعت صحرا نہیں ملا کنعاں میں بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2452 سے 6203