قومی زبان

کہانی

بچو، ہم پر ہنسنے والو، آؤ، تمہیں سمجھائیں جس کے لیے اس حال کو پہنچے، اس کا نام بتائیں روپ نگر کی اک رانی تھی، اس سے ہوا لگاؤ بچو، اس رانی کی کہانی سن لو اور سو جاؤ اس پر مرنا، آہیں بھرنا، رونا، کڑھنا، جلنا آب و ہوا پر زندہ رہنا، انگاروں پر چلنا ہم جنگل جنگل پھرتے تھے اس کے لیے ...

مزید پڑھیے

پہلا پتھر

صبا ہمارے رفیقوں سے جا کے یہ کہنا بصد تشکر و اخلاص و حسن و خوش ادبی کہ جو سلوک بھی ہم پر روا ہوا اس میں نہ کوئی رمز نہاں ہے، نہ کوئی بوالعجبی ہمارے واسطے یہ رات بھی مقدر تھی کہ حرف آئے ستاروں پہ بے چراغی کا لباس چاک پہ تہمت قبائے زریں کی دل شکستہ پہ الزام بد دماغی کا صبا جو راہ ...

مزید پڑھیے

بزدل

آج اک افسروں کے حلقے میں ایک معتوب ماتحت آیا اپنے افکار کا حساب لیے اپنے ایمان کی کتاب لیے ماتحت کی ضعیف آنکھوں میں ایک بجھتی ہوئی ذہانت تھی افسروں کے لطیف لہجے میں قہر تھا، زہر تھا، خطابت تھی یہ ہر اک دن کا واقعہ، اس دن صرف اس اہمیت کا حامل تھا کہ شرافت کے زعم کے با وصف میں بھی ...

مزید پڑھیے

مری پتھر آنکھیں

اب کے مٹی کی عبارت میں لکھی جائے گی سبز پتوں کی کہانی رخ شاداب کی بات کل کے دریاؤں کی مٹتی ہوئی مبہم تحریر اب فقط ریت کے دامن میں نظر آئے گی بوند بھر نم کو ترس جائے گی بے سود دعا نم اگر ہوگی کوئی چیز تو میری آنکھیں میرا اجڑا ہوا چہرہ مری پتھر آنکھیں قحط افسانہ نہیں اور یہ بے ابر ...

مزید پڑھیے

ریستوران میں

ہم اک چائے کی میز پہ آ کر عشق کا قصہ لے بیٹھے تھے ہر خاتون بڑی کومل تھی مرد نہایت دل والے تھے معتبران شہر میں اک نے اس کو فلاطونی ٹھہرایا ان کی شریک حیات نے اس پر طنز سے ''جی اچھا!'' فرمایا پادریوں میں اک یہ بولے عشق گھریلو ہو نہ تو اس سے نظم شکم برہم ہوتا ہے اک لڑکی نے پوچھا ...

مزید پڑھیے

ایک علامت

گھاس سے بچ کے چلو ریت کو گلزار کہو نرم کلیوں پہ چڑھا دو غم دوراں کے غلاف خود کو دل تھام کے مرغان گرفتار کہو رات کو اس کے تبسم سے لپٹ کر سو جاؤ صبح اٹھو تو اسے شاہد بازار کہو ذہن کیا چیز ہے جذبے کی حقیقت کیا ہے فرش پر بیٹھ کے تبلیغ کے اشعار کہو اسی رفتار سے چلتا ہے جہان گزراں انہی ...

مزید پڑھیے

روح کی موت

چمک سکے جو مری زیست کے اندھیرے میں وہ اک چراغ کسی سمت سے ابھر نہ سکا یہاں تمہاری نظر سے بھی دیپ جل نہ سکے یہاں تمہارا تبسم بھی کام کر نہ سکا لہو کے ناچتے دھارے کے سامنے اب تک دل و دماغ کی بے چارگی نہیں جاتی جنوں کی راہ میں سب کچھ گنوا دیا لیکن مرے شعور کی آوارگی نہیں جاتی نہ جانے ...

مزید پڑھیے

دوراہا

جاگ اے نرم نگاہی کے پر اسرار سکوت آج بیمار پہ یہ رات بہت بھاری ہے جو خود اپنے ہی سلاسل میں گرفتار رہے ان خداؤں سے مرے غم کی دوا کیا ہوگی سوچتے سوچتے تھک جائیں گے نیلے ساگر جاگتے جاگتے سو جائے گا مدھم آکاش اس چھلکتی ہوئی شبنم کا ذرا سا قطرہ کسی معصوم سے رخسار پہ جم جائے گا ایک تارا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2451 سے 6203