آتش حسن سے اک آب ہے رخساروں میں
آتش حسن سے اک آب ہے رخساروں میں اے تری شان کہ پانی بھی ہے انگاروں میں دم نکل جائے گا رخصت کا ابھی نام نہ لو تم جو اٹھے تو بٹھا دوں گا عزاداروں میں جا کے اب نار جہنم کی خبر لے زاہد ندیاں بہہ گئیں اشکوں کی گنہ گاروں میں نوبتیں نالۂ رخصت کا پتا دیتی ہیں ماتم عشق کی آواز ہے نقاروں ...