قومی زبان

آتش حسن سے اک آب ہے رخساروں میں

آتش حسن سے اک آب ہے رخساروں میں اے تری شان کہ پانی بھی ہے انگاروں میں دم نکل جائے گا رخصت کا ابھی نام نہ لو تم جو اٹھے تو بٹھا دوں گا عزاداروں میں جا کے اب نار جہنم کی خبر لے زاہد ندیاں بہہ گئیں اشکوں کی گنہ گاروں میں نوبتیں نالۂ‌ رخصت کا پتا دیتی ہیں ماتم عشق کی آواز ہے نقاروں ...

مزید پڑھیے

پوچھا کہ وجہ زندگی بولے کہ دل داری مری

پوچھا کہ وجہ زندگی بولے کہ دل داری مری پوچھا کہ مرنے کا سبب بولے جفا کاری مری پوچھا کہ دل کو کیا کہوں بولے کہ دیوانہ مرا پوچھا کہ اس کو کیا ہوا بولے کہ بیماری مری پوچھا ستا کے رنج کیوں بولے کہ پچھتانا پڑا پوچھا کہ رسوا کون ہے بولے دل آزاری مری پوچھا کہ دوزخ کی جلن بولے کہ سوز دل ...

مزید پڑھیے

اب اس سے بڑھ کے کیا ناکامیاں ہوں گی مقدر میں

اب اس سے بڑھ کے کیا ناکامیاں ہوں گی مقدر میں میں جب پہنچا تو کوئی بھی نہ تھا میدان محشر میں الٰہی نہر‌ رحمت بہہ رہی ہے اس میں ڈلوا دے گنہ گاروں کے عصیاں باندھ کر دامان محشر میں کھلے گیسو تو دیدار‌ خدا بھی ہو گیا مشکل قیامت کا اندھیرا چھا گیا میدان محشر میں شریک کثرت مخلوق تو ...

مزید پڑھیے

کسی بت کی ادا نے مار ڈالا

کسی بت کی ادا نے مار ڈالا بہانے سے خدا نے مار ڈالا جفا کی جان کو سب رو رہے ہیں مجھے ان کی وفا نے مار ڈالا جدائی میں نہ آنا تھا نہ آئی مجھے ظالم قضا نے مار ڈالا مصیبت اور لمبی زندگانی بزرگوں کی دعا نے مار ڈالا انہیں آنکھوں سے جینا چاہتا ہوں جن آنکھوں کی حیا نے مار ڈالا ہمارا ...

مزید پڑھیے

محبت کو کہتے ہو برتی بھی تھی

محبت کو کہتے ہو برتی بھی تھی چلو جاؤ بیٹھو کبھی کی بھی تھی بڑے تم ہمارے خبر گیر حال خبر بھی ہوئی تھی خبر لی بھی تھی صبا نے وہاں جا کے کیا کہہ دیا مری بات کم بخت سمجھی بھی تھی گلہ کیوں مرے ترک تسلیم کا کبھی تم نے تلوار کھینچی بھی تھی دلوں میں صفائی کے جوہر کہاں جو دیکھا تو پانی ...

مزید پڑھیے

حوصلہ امتحان سے نکلا

حوصلہ امتحان سے نکلا جان کا کام جان سے نکلا درد دل ان کے کان تک پہنچا بات بن کر زبان سے نکلا بے وفائی میں وہ زمیں والا ہاتھ بھر آسمان سے نکلا حرف مطلب فقط کہا نہ گیا ورنہ سب کچھ زبان سے نکلا کچھ کی کچھ کون سننے والا تھا کچھ کا کچھ کیوں زبان سے نکلا اک ستم مٹ گیا تو اور ...

مزید پڑھیے

وقت آخر یاد ہے ساقی کی مہمانی مجھے

وقت آخر یاد ہے ساقی کی مہمانی مجھے مرتے مرتے دے دیا انگور کا پانی مجھے وہ مری صورت تو دیکھیں اپنی صورت کے لیے کاش آئینہ بنا دے میری حیرانی مجھے کٹ گیا ہے وصل سے پہلے زمانہ عمر کا ہائے دھوکا دے گیا بہتا ہوا پانی مجھے دامن صحرا سے لوں گا مر کے وحشت میں کفن اک نیا جوڑا پنہائے گی یہ ...

مزید پڑھیے

وہ قضا کے رنج میں جان دیں کہ نماز جن کی قضا ہوئی

وہ قضا کے رنج میں جان دیں کہ نماز جن کی قضا ہوئی ترے مست بادۂ شوق نے نہ کبھی پڑھی نہ ادا ہوئی ترے دور دورۂ عشق میں مری ایک رنگ سے کٹ گئی نہ ستم ہوا نہ کرم ہوا نہ جفا ہوئی نہ وفا ہوئی مجھے غیر عجز و نیاز نے ترے در پہ جا کے جھکا دیا نہ تو کوئی عہد لکھا گیا نہ تو کوئی رسم ادا ہوئی مرا ...

مزید پڑھیے

آپ کیوں بیٹھے ہیں غصے میں مری جان بھرے

آپ کیوں بیٹھے ہیں غصے میں مری جان بھرے یہ تو فرمائیے کیا زلف نے کچھ کان بھرے جان سے جائے اگر آپ کو چاہے کوئی دم نکل جائے جو دم آپ کا انسان بھرے لیے پھرتے ہیں ہم اپنے جگر و دل دونوں ایک میں درد بھرے ایک میں ارمان بھرے دامن‌ دشت نے آنسو بھی نہ پوچھے افسوس میں نے رو رو کے لہو ...

مزید پڑھیے

دل کا معاملہ جو سپرد نظر ہوا

دل کا معاملہ جو سپرد نظر ہوا دشوار سے یہ مرحلہ دشوار تر ہوا ابھرا ہر اک خیال کی تہہ سے ترا خیال دھوکا تری صدا کا ہر آواز پر ہوا راہوں میں ایک ساتھ یہ کیوں جل اٹھے چراغ شاید ترا خیال مرا ہم سفر ہوا سمٹی تو اور پھیل گئی دل میں موج درد پھیلا تو اور دامن غم مختصر ہوا لہرا کے تیری ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2422 سے 6203