قومی زبان

وفا کیا کر نہیں سکتے ہیں وہ لیکن نہیں کرتے

وفا کیا کر نہیں سکتے ہیں وہ لیکن نہیں کرتے کہا کیا کر نہیں سکتے ہیں وہ لیکن نہیں کرتے مسیحائی کا دعویٰ اور بیماروں سے یہ غفلت دوا کیا کر نہیں سکتے ہیں وہ لیکن نہیں کرتے رقیبوں پر عدو پر غیر پر چرخ ستم گر پر جفا کیا کر نہیں سکتے ہیں وہ لیکن نہیں کرتے کبھی داد‌ محبت دے کے حق میری ...

مزید پڑھیے

اس بات کا ملال نہیں ہے کہ دل گیا

اس بات کا ملال نہیں ہے کہ دل گیا میں اس کو دیکھتا ہوں جو بدلے میں مل گیا جو حسن تو نے شکل کو بخشا وہ بول اٹھا جو رنگ تو نے پھول میں ڈالا وہ کھل گیا ناکامیٔ وفا کا نمونہ ہے زندگی کوچے میں تیرے جو کوئی آیا خجل گیا قسمت کے پھوڑنے کو کوئی اور در نہ تھا قاصد مکان غیر کے کیوں متصل ...

مزید پڑھیے

انہیں لوگوں کی بدولت یہ حسیں اچھے ہیں

انہیں لوگوں کی بدولت یہ حسیں اچھے ہیں چاہنے والے ان اچھوں سے کہیں اچھے ہیں کوچۂ یار سے یا رب نہ اٹھانا ہم کو اس برے حال میں بھی ہم تو یہیں اچھے ہیں نہ کوئی داغ نہ دھبا نہ حرارت نہ تپش چاند سورج سے بھی یہ ماہ جبیں اچھے ہیں کوئی اچھا نظر آ جائے تو اک بات بھی ہے یوں تو پردے میں سبھی ...

مزید پڑھیے

محبت کر کے لاکھوں رنج جھیلے بیکلی پائی

محبت کر کے لاکھوں رنج جھیلے بیکلی پائی وہ مجھ کو کیا ملے اک موت گویا جیتے جی پائی وہ بلبل ہوں کہ جس دن سے لٹا ہے آشیاں میرا اٹھا لایا میں اپنا دل سمجھ کر جو کلی پائی شکایت اس کی کیا تجھ سے یہ اپنی اپنی قسمت ہے کہ میری آنکھ کو آنسو ملے تو نے ہنسی پائی جہاں میں واقعی مضطرؔ کا بھی ...

مزید پڑھیے

علاج درد دل تم سے مسیحا ہو نہیں سکتا

علاج درد دل تم سے مسیحا ہو نہیں سکتا تم اچھا کر نہیں سکتے میں اچھا ہو نہیں سکتا عدو کو چھوڑ دو پھر جان بھی مانگو تو حاضر ہے تم ایسا کر نہیں سکتے تو ایسا ہو نہیں سکتا ابھی مرتے ہیں ہم جینے کا طعنہ پھر نہ دینا تم یہ طعنہ ان کو دینا جن سے ایسا ہو نہیں سکتا تمہیں چاہوں تمہارے چاہنے ...

مزید پڑھیے

اس سے کہہ دو کہ وہ جفا نہ کرے

اس سے کہہ دو کہ وہ جفا نہ کرے کہیں مجھ سا اسے خدا نہ کرے آئنہ دیکھ کر غرور فضول بات وہ کر جو دوسرا نہ کرے میں مسیحا اسے سمجھتا ہوں جو مرے درد کی دوا نہ کرے مضطرؔ اس نے سوال الفت پر کس ادا سے کہا خدا نہ کرے

مزید پڑھیے

اتنے اچھے ہو کہ بس توبہ بھلی

اتنے اچھے ہو کہ بس توبہ بھلی تم تو ایسے ہو کہ بس توبہ بھلی رسم عشق غیر اور میں یہ بھی خوب ایسی کہتے ہو کہ بس توبہ بھلی میری مے نوشی پہ ساقی کہہ اٹھا اتنی پیتے ہو کہ بس توبہ بھلی وقت آخر اور یہ قول وفا دم وہ دیتے ہو کہ بس توبہ بھلی غیر کی بات اپنے اوپر لے گئے ایسی سمجھے ہو کہ بس ...

مزید پڑھیے

فصل گل بھی ترس کے کاٹی ہے

فصل گل بھی ترس کے کاٹی ہے عمر کانٹوں میں بس کے کاٹی ہے میں نے رو کر گزار دی اے ابر جیسے تو نے برس کے کاٹی ہے ہو کے پابند الفت صیاد زندگی بے‌ قفس کے کاٹی ہے سوز الفت میں زندگی میں نے غیر کا منہ جھلس کے کاٹی ہے زندگی بھر رہے حسینوں میں عمر پھولوں میں بس کے کاٹی ہے اس نے کس ناز سے ...

مزید پڑھیے

جب کہا تیر تری آنکھ نے اکثر مارا

جب کہا تیر تری آنکھ نے اکثر مارا چتونیں پھیر کے بولے کہ برابر مارا قدر کچھ بھی مرے دل کی بت کافر نے نہ کی زلف پیچاں سے جو الجھا تو مرے سر مارا جان بے موت خدا بھی نہیں لیتا لیکن تو نے بے موت ہی لوگوں کو ستم گر مارا چند ذرے میری مٹی کے فقط ہاتھ آئے دشت غربت کے بگولوں نے جو چکر ...

مزید پڑھیے

میرے محبوب تم ہو یار تم ہو دل ربا تم ہو

میرے محبوب تم ہو یار تم ہو دل ربا تم ہو یہ سب کچھ ہو مگر میں کہہ نہیں سکتا کہ کیا تم ہو تمہارے نام سے سب لوگ مجھ کو جان جاتے ہیں میں وہ کھوئی ہوئی اک چیز ہوں جس کا پتا تم ہو محبت کو ہماری اک زمانہ ہو گیا لیکن نہ تم سمجھے کہ کیا میں ہوں نہ میں سمجھا کہ کیا تم ہو ہمارے دل کو بحر غم کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2423 سے 6203