قومی زبان

سر اٹھانے کی تو ہمت نہیں کرنے والے

سر اٹھانے کی تو ہمت نہیں کرنے والے یہ جو مردہ ہیں بغاوت نہیں کرنے والے مفلسی لاکھ سہی ہم میں وہ خودداری ہے حاکم وقت کی خدمت نہیں کرنے والے ان سے امید نہ رکھ ہیں یہ سیاست والے یہ کسی سے بھی محبت نہیں کرنے والے ہاتھ آندھی سے ملا آئے اسی دور کے لوگ یہ چراغوں کی حفاظت نہیں کرنے ...

مزید پڑھیے

غور سے مجھ کو دیکھتا ہے کیا

غور سے مجھ کو دیکھتا ہے کیا میرے چہرے پہ کچھ لکھا ہے کیا میری آنکھوں میں جھانکتا ہے کیا تجھ کو ان میں ہی ڈوبنا ہے کیا میرے ہونٹوں کو چھو لیا اس نے کیا بتاؤں مجھے ہوا ہے کیا اے کبوتر ذرا بتا مجھ کو ان کی چھت پر بھی بیٹھتا ہے کیا پر کٹے پنچھیوں سے پوچھتے ہو تم میں اڑنے کا حوصلہ ہے ...

مزید پڑھیے

کیا خبر کس کو کب کہاں دے دے

کیا خبر کس کو کب کہاں دے دے اور دے دے تو دو جہاں دے دے ہے یہی عشق کی نماز کا وقت ہجر اٹھ جا ذرا اذاں دے دے یہ جو بچے ہوا میں کودتے ہیں ان کے ہاتھوں میں آسماں دے دے کب تلک زندگی سفر میں رہے قبر ہی دے دے پر مکاں دے دے پھول کتنے اداس لگتے ہیں اے خدا ان کو تتلیاں دے دے یہ مرے حق میں ...

مزید پڑھیے

چھو سکوں تجھ کو یہ اوقات کبھی تو ہوگی

چھو سکوں تجھ کو یہ اوقات کبھی تو ہوگی اور میسر بھی تری ذات کبھی تو ہوگی چاند کے ساتھ میں جو چھت پہ کبھی گزرے گی ساتھ تم اور وہ حسیں رات کبھی تو ہوگی ایک مدت سے یہی آس لیے بیٹھا ہوں تجھ میں بھی شدت جذبات کبھی تو ہوگی ہجر جاناں میں بھی آنسو نہیں آئے میرے خشک صحراؤں میں برسات کبھی ...

مزید پڑھیے

کئی دن سے کوئی ہچکی نہیں ہے

کئی دن سے کوئی ہچکی نہیں ہے وو ہم کو یاد اب کرتی نہیں ہے سوا تیرے جدھر سے کوئی آئے ہمارے دل میں وہ کھڑکی نہیں ہے میں جس دریا میں کانٹا ڈالتا تھا سنا ہے اب وہاں مچھلی نہیں ہے تھیں جتنی سب کنویں میں پھینک آئے ہمارے پاس اب نیکی نہیں ہے

مزید پڑھیے

کی تو نے لب کشائی تو کس کے حضور کی

کی تو نے لب کشائی تو کس کے حضور کی اب کرچیاں سمیٹ دل ناصبور کی کس کے لہو میں شام نہا کر ہے سرخ رو کس نے چکائی خون سے قیمت غرور کی صدیوں سے کس کی قبر پہ گریہ کناں ہے رات لیٹا ہے کون اوڑھ کے چادر یہ نور کی علم و کمال آپ کی میراث کیا کہا پرتیں نہ کھولیے میرے تحت الشعور کی تقدیر جتنا ...

مزید پڑھیے

کسی بھی روشن خیال سے آشنا نہیں ہے

کسی بھی روشن خیال سے آشنا نہیں ہے جو آپ اپنے جمال سے آشنا نہیں ہے اسے خیالوں میں جیسا چاہوں تراش لوں گا ابھی نظر خد و خال سے آشنا نہیں ہے ابھی تو دعویٰ ہے اس کو مشکل پسندیوں کا ابھی وہ کار محال سے آشنا نہیں ہے ابھی تو مٹی مہک اٹھی ہے نمی کو پا کر ابھی وہ پانی کی چال سے آشنا نہیں ...

مزید پڑھیے

ہمیں پہ تنگ یہ وقت رواں ہوا تو کیا

ہمیں پہ تنگ یہ وقت رواں ہوا تو کیا دراز اور بھی کار جہاں ہوا تو کیا یہ سرخ تلوے یہ تنہائی آخری ہچکی اب اس سے آگے کوئی کارواں ہوا تو کیا یہ راستے ہیں بزرگوں کی خاک سے روشن سو میں بھی چل کے یہیں رائیگاں ہوا تو کیا یہاں تو شہر ہی آتش فشاں کی زد پر ہے جو اپنے سینے میں تھوڑا دھواں ہوا ...

مزید پڑھیے

عجیب جنگ و جدال ہر پل ہے میرے اندر

عجیب جنگ و جدال ہر پل ہے میرے اندر کہ نور و ظلمت کا ایک مقتل ہے میرے اندر اگے ہیں مجھ میں ہزار ہا خار زار پودے پھر اس پہ طرہ کہ روح ململ ہے میرے اندر یہ کیسی بے معنی زندگی ہو کے رہ گئی ہے نہ کچھ ادھورا نہ کچھ مکمل ہے میرے اندر میں جانتا ہوں کہ ختم ہوگا نہ یہ تعفن مگر لٹاؤں گا ...

مزید پڑھیے

جنم جنم کی تکان ہوتی نہ بال و پر میں

جنم جنم کی تکان ہوتی نہ بال و پر میں جو چند لمحے گزار لیتا تری نظر میں چلے ہو گھر سے تو کام آئیں گے ساتھ لے لو وفا کی خوشبو وفا کا سایہ کڑے سفر میں روایتوں سے گریز کیسا چلو جگائیں نصیب سویا ہوا ہے اپنا اسی کھنڈر میں غضب کا سود و زیاں ہے اپنے مزاج میں اب بلا کی ٹھنڈک اتر چکی ہے رگ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2408 سے 6203