قومی زبان

بدن سے جاں نکلنا چاہتی ہے

بدن سے جاں نکلنا چاہتی ہے بلا اس گھر سے ٹلنا چاہتی ہے یوں ہی آتش فشاں کب جاگتے ہیں زمیں کروٹ بدلنا چاہتی ہے حدود صحن گلشن سے نکل کر صبا گلیوں میں چلنا چاہتی ہے دھواں سا اٹھ رہا ہے چار جانب کوئی صورت نکلنا چاہتی ہے ہواؤں میں نہیں قوت نمو کی مگر ٹہنی تو پھلنا چاہتی ہے جو چہرہ ...

مزید پڑھیے

ناؤ خستہ بھی نہ تھی موج میں دریا بھی نہ تھا

ناؤ خستہ بھی نہ تھی موج میں دریا بھی نہ تھا پار اترتا تھا مگر تجھ پہ بھروسہ بھی نہ تھا زندگی ہاتھ نہ دے پائی مرے ہاتھوں میں ساتھ جانا بھی نہ تھا ہاتھ چھڑانا بھی نہ تھا جن پہ اک عمر چلا تھا انہی رستوں پہ کہیں واپس آیا تو مرا نقش کف پا بھی نہ تھا غرق دنیا کے لیے دست دعا کیا ...

مزید پڑھیے

گرفت کرب سے آزاد اے دل ہو ہی جاؤں گا

گرفت کرب سے آزاد اے دل ہو ہی جاؤں گا ابھی رستہ ہوں میں اک روز منزل ہو ہی جاؤں گا اتر جانے دے وحشت میرے سر سے حبس خلوت کی میں بالتدریج پھر مانوس محفل ہو ہی جاؤں گا گرے گر مجھ پہ برق التفات چشم تر ہر دم تو میں بالجبر تیری سمت مائل ہو ہی جاؤں گا بصد ترکیب رکھے ہیں قدم ترتیب سے میں ...

مزید پڑھیے

زندہ رہنے کی طلب اس لیے پیاری نہ رہی

زندہ رہنے کی طلب اس لیے پیاری نہ رہی کوئی وقعت دل قاتل میں ہماری نہ رہی مے کشی چھوڑ دی اس واسطے ہم نے ساقی پہلے جیسی تری آنکھوں میں خماری نہ رہی نیند کا زہر نگاہوں میں سمایا جب سے رتجگوں سے مری با ضابطہ یاری نہ رہی آخرش آ ہی گیا کشتۂ حسرت کو قرار عمر بھر لذت آوارگی طاری نہ ...

مزید پڑھیے

بیاض کہنہ میں جدت بھری تحریر رکھنی ہے

بیاض کہنہ میں جدت بھری تحریر رکھنی ہے پرانی نیام میں یعنی نئی شمشیر رکھنی ہے فصیل فکر سے گرتا ہوا مصرع اٹھانا ہے سرہانے اب مجھے ہر دم کتاب میرؔ رکھنی ہے مجھے تا عمر رنج قید کو محسوس کرنا ہے مجھے تا عمر اپنے پاس یہ زنجیر رکھنی ہے سجاؤ خواب کوئی رات کی بے رنگ آنکھوں میں اگر باقی ...

مزید پڑھیے

عرصۂ خواب سے اٹھ حلقۂ تعبیر میں آ

عرصۂ خواب سے اٹھ حلقۂ تعبیر میں آ گمشدہ رعب جنوں کاسۂ تشہیر میں آ انتہا مبدائے ہستی کی فنا ہے یا بقا غور سے دیکھتے ہیں بخت کی تصویر میں آ اے خرابات تنفر کے پریشان مکیں گر سکوں چاہتا ہے عشق کی تعمیر میں آ حدت دید نگاہوں کی عبارت سے نکل اور یخ بستہ مرے روزن تحریر میں آ چڑھ کے ...

مزید پڑھیے

شعور عشق ملے روئے دار رقص کروں

شعور عشق ملے روئے دار رقص کروں ہیں میرے پاس بہانے ہزار رقص کروں گلوئے خشک کی شہ رگ تھک کے کہتی ہے کچھ اور تیز ہو خنجر کی دھار رقص کروں طواف خانۂ دل دار گر نصیب نہیں خود اپنے دل کا بنا کر مزار رقص کروں برہنہ جسم ہے کہنہ لباس پھٹ گیا ہے سو اوڑھ کر میں ردائے غبار رقص کروں اجاڑ ...

مزید پڑھیے

سرور سے اٹے ہوئے اے موسم وصال رک

سرور سے اٹے ہوئے اے موسم وصال رک ملے دریدہ قلب کو سکون اندمال رک اے حیرت گلاب رخ تو اتنا لا جواب ہے کہ کہہ اٹھے سوال سے ہمارے لب سوال رک تجھے گلہ ہے اب وہ لذتیں رہیں نہ قربتیں میں ڈالتا ہوں رقص عشق میں ابھی دھمال رک نہ راس آئے گا کوئی نہ دل کو بھائے گا کوئی ہمارے بن ڈسے گا تجھ کو ...

مزید پڑھیے

گزر کر آدمی راہ مصیبت سے سنورتا ہے

گزر کر آدمی راہ مصیبت سے سنورتا ہے قمر کا نور شب کی ظلمتوں میں ہی نکھرتا ہے بجز درد حیات غم نہیں ملتا کہیں کچھ بھی بشر دنیائے فانی میں جہاں سے بھی گزرتا ہے گلوں کی پتیاں جیسے گلوں سے روٹھ جاتی ہیں دم تنہائی غم کچھ مرا دل یوں بکھرتا ہے بہ صورت قطرۂ شبنم ہوں میں خار گلستاں پر مرا ...

مزید پڑھیے

وہ کون ہے دنیا میں جو مجبور نہیں ہے

وہ کون ہے دنیا میں جو مجبور نہیں ہے انساں کو کسی بات کا مقدور نہیں ہے ہر شے پہ ترے حسن کا جادو ہے ازل سے کیا چیز ترے حسن سے مسحور نہیں ہے محکوم بنا لیتا بشر ارض و سما کو لیکن وہ کرے کیا اسے مقدور نہیں ہے دنیا میں اسے عیش و مسرت نہ ملیں گے وہ دل جو غم عشق سے رنجور نہیں ہے مانا کہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2403 سے 6203