قومی زبان

اک یہی اب مرا حوالہ ہے

اک یہی اب مرا حوالہ ہے روح زخمی ہے جسم چھالا ہے سیکڑوں بار سوچ کر میں نے تیرے سانچے میں خود کو ڈھالا ہے کھنچنے والا ہے آسماں سر سے حادثہ یہ بھی ہونے والا ہے اک خدا ترس موج نے مجھ کو ساحلوں کی طرف اچھالا ہے غالب آئی ہوس محبت پر آرزوؤں کا رنگ کالا ہے اک طرف جام عافیت کے ہیں اک ...

مزید پڑھیے

چور تھے لوگ جو سنگینیٔ ہجرت سے یہاں

چور تھے لوگ جو سنگینیٔ ہجرت سے یہاں سانس بھی آتا نہیں ان کو سہولت سے یہاں وہ کسی پھول کسی غنچے کے حق دار نہیں دشت گلزار بناتے ہیں جو محنت سے یہاں چوغا پہنایا گیا جھوٹ کا سچائی کو اور معانی لیے نفرت کے محبت سے یہاں ہم نے بنیاد رکھی زہر بجھے سجدوں کی تیغ کا کام لیا ہم نے عبادت سے ...

مزید پڑھیے

ہر قدم پاؤں میں ہیں انگارے

ہر قدم پاؤں میں ہیں انگارے تیری رائے ہے کیا خدا بارے دونوں کس بے بسی میں ملتے ہیں آہوئے جاں غزال تاتارے پاؤں ٹکتا نہیں زمیں پہ کہیں سر پہ کیا گھومتے ہیں سیارے آنکھ کی راہ سے نکل آئے چاند راتوں کے سرد مہ پارے یہ نہ سمجھو گنہ گار نہیں کوئی پتھر اگر اٹھا مارے

مزید پڑھیے

ہزار کوشش پیہم کے باوجود ہمیں (ردیف .. ا)

ہزار کوشش پیہم کے باوجود ہمیں تمام عمر کوئی دوست با وفا نہ ملا کہاں کا وصل ملاقات ہی غنیمت ہے پھر اس کے بعد وہ ہم سے ملا ملا نہ ملا وہ جس کو ہم نے زمانے سے بڑھ کے چاہا تھا اس ایک شخص کی چاہت میں کچھ مزا نہ ملا تری جدائی کے صحرا میں کھو گئے ایسے سراغ اپنا کہیں اور کہیں پتا نہ ...

مزید پڑھیے

لہو کی آنچ جیسا ہو رہا ہے

لہو کی آنچ جیسا ہو رہا ہے تمہارا غم ستارہ ہو رہا ہے یہ کون آیا ہے بام آرزو پر فضاؤں میں اجالا ہو رہا ہے جھڑی ہے دھول کس کے نقش پا سے بہت آسان رستہ ہو رہا ہے سکڑتی جا رہی ہے مجھ پہ دھرتی بدن میرا کشادہ ہو رہا ہے مری پلکوں پہ اک موہوم آنسو کہ شبنم سے شرارہ ہو رہا ہے سمجھتی ہے یہی ...

مزید پڑھیے

لے کے ہاتھوں میں محبت کے گہر آئے ہیں

لے کے ہاتھوں میں محبت کے گہر آئے ہیں اک نظر دیکھ ترے خاک بسر آئے ہیں اک عجب دھڑکا دل و جاں کو لگا رہتا ہے جب بھی پردیس سے ہم لوٹ کے گھر آئے ہیں جس طرف بھی میں گیا میں نے جدھر بھی دیکھا زخم کی طرح مجھے لوگ نظر آئے ہیں نوک نیزہ کی طرف ایک نظر دیکھ ذرا کس بلندی پہ وہ عشاق کے سر آئے ...

مزید پڑھیے

تنکے کا ہاتھ آیا سہارا غلط غلط

تنکے کا ہاتھ آیا سہارا غلط غلط موج طلب نے پایا کنارا غلط غلط سیل بلا میں ڈوب رہا تھا میں جس گھڑی دنیا کے ساتھ اس نے پکارا غلط غلط ہم لوگ جی رہے ہیں ترے شہر میں ابھی کیجے نہ اندراج ہمارا غلط غلط چلتا ہے دشمنوں کی طرح میرے ساتھ جو اس نے کیا ہے مجھ کو گوارا غلط غلط کوئی بھی چیز ...

مزید پڑھیے

ایسے وہ داستان کھینچتا ہے

ایسے وہ داستان کھینچتا ہے ہر یقیں پر گمان کھینچتا ہے تیری فرقت کا ایک اک لمحہ جسم سے میری جان کھینچتا ہے جب بھی میں آسماں کو چھونے لگوں پاؤں کو مہربان کھینچتا ہے منزل زیست کے کسی بھی طرف اپنی جانب نشان کھینچتا ہے میں حقیقت جہاں بھی لکھتا ہوں وہ وہی داستان کھینچتا ہے جب ...

مزید پڑھیے

بجھتی مشعل کی التجا جیسے

بجھتی مشعل کی التجا جیسے لوگ ہم کو ملے ہوا جیسے کوئی انساں نظر نہیں آتا ہر بشر ہو گیا خدا جیسے ہاتھ کشکول کی طرح پائے لب ملے ہم کو التجا جیسے کر دیا ہے خدائے واحد نے بند ہم پر در دعا جیسے گرد آلود ایسے سوچیں ہیں کوئی احساس ہو خفا جیسے اکثر اوقات ایسے کام کیے ہم نے ماؤں کی بد ...

مزید پڑھیے

ہر ایک زخم کی شدت کو کم کیا جاتا

ہر ایک زخم کی شدت کو کم کیا جاتا نمک سے کام نہ مرہم کا گر لیا جاتا دلوں کا بوجھ دلوں سے اتارنے کے لیے یہ لازمی تھا گریبان کو سیا جاتا زمانہ پاؤں کی ٹھوکر میں آ بھی سکتا تھا سروں کو اپنے اٹھا کر اگر جیا جاتا کمی نہ آتی ترے احترام میں شاہا کسی غریب کا حق جو اسے دیا جاتا ہماری موت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2394 سے 6203