قومی زبان

وہی انداز پرانے نہیں جدت کوئی

وہی انداز پرانے نہیں جدت کوئی نیا لہجہ نہیں اب زیر سماعت کوئی لے نئی اور نیا آہنگ اٹھا نغمہ طراز جاگ اٹھے خفتہ لہو میں نئی حدت کوئی جھوٹ پر لاکھ ملمع ہو صداقت ملفوف کھل ہی جاتی ہے نہیں چھپتی حقیقت کوئی کس لئے خار ہے کھوئی ہوئی غیرت کو جگا گڑگڑانے سے نہیں ملتی ہے عزت کوئی لاکھ ...

مزید پڑھیے

دو عالم

اک بھرپور مکمل پن یک جانی غسل اور ناشتہ دھوبی دھلے ہوئے کپڑے بے پالش بوٹ سڑکیں آبادی تنہائی خبریں شعر آوازیں رنگ مسافت سبزہ پیڑ پہاڑ اور پانی ننگے پیر اور سطح کی حیرانی دل کی گہرائی تنہائی کا سکون اور تنہائی کی وحشت اک بھرپور مکمل پن یک جانی یکتائی رات کا کھانا سیر اور ہات میں ...

مزید پڑھیے

دل کے موسم

اب کے خوشبو شاخوں پر مصلوب ہوئی اس کا چہرہ ایک دریچہ نئے جہانوں میں کھلتا تھا اس نے خواب سجائے میرے صحرا میں دیوار اگی کتنی بہاریں میرے دل میں ریزہ ریزہ اب کے خوشبو شاخوں پر مصلوب ہوئی

مزید پڑھیے

بہت گمنام ہوں اشہر نہیں ہوں

بہت گمنام ہوں اشہر نہیں ہوں میں اک درویش ہوں زر گر نہیں ہوں فقط تعظیم کے لائق خدا ہے تری تعظیم کی خوگر نہیں ہوں فقط زر سے نہیں ہے برتری کچھ میں تجھ سے بیش ہوں کمتر نہیں ہوں ہزاروں کے جھکے سر تیرے آگے وہ بزدل ہیں میں ایسی پر نہیں ہوں عزیز از جان میری یہ انا ہے کٹا دوں گی جھکاتی ...

مزید پڑھیے

حصار ذات سے نکل کے بے کنار ہم ہوئے

حصار ذات سے نکل کے بے کنار ہم ہوئے زمین و آسماں کا نقرئی غبار ہم ہوئے رہی نہ گرمیٔ وفا دلوں میں اب ہیں دوریاں سنا کے حال دل تمہیں جہاں میں خوار ہم ہوئے پس غبار آئینہ اک عکس تم پہ بار تھا بس ایک ضرب تم نے دی تو بے شمار ہم ہوئے ملی جو آگہی ہمیں ردائے نور میں ڈھلے فلک کی کہکشاؤں کے ...

مزید پڑھیے

مثال مشک مجسم غزال کی خوشبو

مثال مشک مجسم غزال کی خوشبو کہاں گلوں میں ہے اس بے مثال کی خوشبو دہکتی جائے تخیل میں خد و خال کی آنچ مشام جاں میں ہے مہکے جمال کی خوشبو طبیعتوں میں تکبر انا تا وقتیکہ لہو میں دوڑے نا رزق حلال کی خوشبو شگفتگی کے حوالے ہیں ساری شاخوں پر چمن میں بکھری ہے تیرے مقال کی خوشبو کئی ...

مزید پڑھیے

اے قلم کار مرے حرف صداقت لکھنا

اے قلم کار مرے حرف صداقت لکھنا ورنہ بیکار ہے مضمون بلاغت لکھنا عدل بکتا ہے جہاں سکوں کی جھنکاروں میں مستحب ان پہ نظر آتا ہے لعنت لکھنا دور حاضر میں ہے عنقا بشریت کا وجود سن مؤرخ تو اسے دور جہالت لکھنا ہم نے دیکھی ہے جن آنکھوں میں سلگتی نفرت کتنا مشکل ہے ان آنکھوں میں محبت ...

مزید پڑھیے

دل کے بجھتے ہوئے زخموں کو ہوا دیتا ہے

دل کے بجھتے ہوئے زخموں کو ہوا دیتا ہے روز آتا ہے نیا خواب دکھا دیتا ہے اس کا انداز مسیحائی نرالا سب سے چارہ گر ہوش میں آنے پہ دوا دیتا ہے ہر قدم خاک میں کچھ خواب ملاتے رہنا ہجر کی رات یہی شغل مزا دیتا ہے مرنے جینے کا کہاں ہوش ترے رندوں کو پائے وحشت بھی عجب نقش بنا دیتا ...

مزید پڑھیے

زندگانی کی حقیقت تب ہی کھلتی ہے میاں

زندگانی کی حقیقت تب ہی کھلتی ہے میاں کار زار زیست کی جب نبض رکتی ہے میاں روز ہم تعمیر کرتے ہیں فصیل جسم و جاں روز جسم و جاں سے کوئی اینٹ گرتی ہے میاں خواب سے کہہ دو حدود چشم سے باہر نہ ہو آنکھ سے اوجھل ہر اک تعبیر چبھتی ہے میاں کل یہی چہرے بہار حسن کی پہچان تھے آج ان چہروں سے گرد ...

مزید پڑھیے

پیٹ کی آگ میں برباد جوانی کر کے

پیٹ کی آگ میں برباد جوانی کر کے پنچھی لوٹے ہیں ابھی نقل مکانی کر کے خانۂ دل میں گھڑی بھر کو ٹھہرنا ہے انہیں پھر گزر جائیں گے ہر بات پرانی کر کے عشق اظہار کا طالب ہے نہ مطلوب نظر فائدہ کیا ہے میاں شعلہ بیانی کر کے اب وہاں خاک اڑا کرتی ہے ارمانوں کی ہم چلے آئے تھے منزل پہ نشانی کر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 238 سے 6203