قومی زبان

خیال و خواب میں ڈوبی دیوار و در بناتی ہیں

خیال و خواب میں ڈوبی دیوار و در بناتی ہیں کنواری لڑکیاں اکثر ہوا میں گھر بناتی ہیں کبھی غمزہ کبھی عشوہ کبھی شوخی کبھی مستی ادائیں بانکپن میں صندلی پیکر بناتی ہیں حسیں آنچل میں پنہاں کہکشائیں رات ہونے پر گھنی زلفوں پہ رقصاں دل ربا منظر بناتی ہیں جھکی پلکوں پہ ٹھہرے آنسوؤں پر ...

مزید پڑھیے

زیتون کی ٹوٹی شاخ

ان میری جواں انگلیوں سے رستے جاتے ہیں مرے بوڑھے لمبے سال میں تنہائی کی ٹھنڈی سل پر بیٹھا ہوں اور روتا ہوں میں ازل ابد کا اندھا مسافر چلتا ہوں میں اپنے قدموں سے نکلوں مجھے رستہ دو سب چہرے میرے اپنے ہیں گو کالے ہیں سایوں کے تعاقب میں مرے پاؤں میں چھالے ہیں اس حشر بہ داماں دنیا ...

مزید پڑھیے

درد کی کونپل

وقت سے پہلے کیسے وہ اک لمحہ آئے جب ترے آنسو سینچیں درد کی کونپل دل میں تیری زردی رخ کا چرچا پھیلے لوگ ترے مر جانے یا دوبارہ جی اٹھنے پر تعزیت تہنیت بھیجیں تیری آنکھ سے ٹپکیں میری باتیں تیرے لہو میں میرے لمس کا اندھا پن جاگ اٹھے پھر تو روئے میری نظر سب کے سامنے مجھ سے چھپ کر

مزید پڑھیے

غزل کے شانوں پہ خواب ہستی بہ چشم پر نم ٹھہر گئے ہیں

غزل کے شانوں پہ خواب ہستی بہ چشم پر نم ٹھہر گئے ہیں یہ کس نے چھیڑی ہے تان ماضی رباب و سرگم ٹھہر گئے ہیں فراق رت میں اکیلا منزل کی جستجو میں نکل پڑا ہوں وصال لمحوں کے ہم قدم وہ قدم دما دم ٹھہر گئے ہیں ابھی تو سوچا تھا تیری محفل میں ہم نہ آئیں گے اب دوبارہ یہ کس صدا کا گماں ہوا ہے کہ ...

مزید پڑھیے

حسیں یادیں سنہرے خواب پیچھے چھوڑ آئے ہیں

حسیں یادیں سنہرے خواب پیچھے چھوڑ آئے ہیں مہاجر کی کہانی میں ہزاروں موڑ آئے ہیں نہ کھل پایا کبھی باب محبت کم نصیبوں پر فصیل شہر جاناں سے کئی سر پھوڑ آئے ہیں بشر کی بے ثباتی بھی کسی سے حل نہ ہو پائی زمیں سے چاند تاروں تک سبھی سر جوڑ آئے ہیں ملے روٹی کے ٹکڑے کچھ مگر تم یہ بھی سوچو ...

مزید پڑھیے

بدن کے دوش پہ سانسوں کا مقبرہ میں ہوں

بدن کے دوش پہ سانسوں کا مقبرہ میں ہوں خود اپنی ذات کا نوحہ ہوں مرثیہ میں ہوں بلا سبب بھی نہیں یاسیت طبیعت میں ازل سے خانہ بدوشی کا سلسلہ میں ہوں مرا وجود تمہاری بقا کا ضامن ہے تمہارے ان کہے جذبوں کا آئنہ میں ہوں بہاریں جس پہ ہوں نازاں چمن بھی رشک کرے نظر نواز رتوں کا وہ قافلہ ...

مزید پڑھیے

سبھی کو خواہش تسخیر شوق حکمرانی ہے

سبھی کو خواہش تسخیر شوق حکمرانی ہے ہمیں لگتا ہے اپنا دل نہیں اک راجدھانی ہے یہیں تحریر ہے لمحات سربستہ کے افسانے کتاب زندگی کے ہر ورق پر اک کہانی ہے شکست و ریخت کا منظر مری آنکھوں میں رہنے دو مجھے اپنے ہی خوابوں کی ابھی قیمت چکانی ہے تعلق ٹوٹ جانے سے محبت مر نہیں جاتی یہ وہ ...

مزید پڑھیے

اس نے نگاہ لطف و کرم بار بار کی

اس نے نگاہ لطف و کرم بار بار کی اب خیریت نہیں ہے دل بے قرار کی ڈر یہ ہے کھل نہ جائے کہیں راز عشق بھی نبھنے لگی ہے ان سے مرے رازدار کی سب کے نصیب میں ہے کہاں موج درد و غم مخصوص ہیں عنایتیں پروردگار کی یادوں کی انجمن میں انہیں بھی بلا لیا اک شام یوں بھی ہم نے بہت یادگار کی جب ہم ہی ...

مزید پڑھیے

درد شایان شان دل بھی نہیں

درد شایان شان دل بھی نہیں اور شب ہجر مستقل بھی نہیں یوں گلے مل کے فائدہ کیا ہے زخم اندر سے مندمل بھی نہیں وصل بھی ہے فراق بھی اس میں موسم عشق معتدل بھی نہیں ہر کسی سے یہ میل کیوں کھائے دل تو پھر دل ہے آب و گل بھی نہیں سوچ ہے کچھ حقیقتیں کچھ ہیں خواب تعبیر متصل بھی نہیں اب بھی ...

مزید پڑھیے

دھوپ تھے سب راستے درکار تھا سایہ ہمیں

دھوپ تھے سب راستے درکار تھا سایہ ہمیں اک سراب خوش نما نے اور ترسایا ہمیں دل زمیں پر اس کا چہرہ نقش ہو کر رہ گیا بارہا پھر آئنے نے خود ہی ٹھکرایا ہمیں دھوپ صحرا دھول دریا خار رستوں کی چبھن منزلوں کے شوق نے کیا کیا نہ دکھلایا ہمیں مسترد کرتا گیا ہے دل ربا چہروں کو دل بعد اس کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 239 سے 6203