چوٹ کھا کر بھی مسکراتا ہوں
چوٹ کھا کر بھی مسکراتا ہوں درد دل سے بھی لطف اٹھاتا ہوں دوست ہی خندہ زن نہیں مجھ پر خود بھی اپنی ہنسی اڑاتا ہوں
چوٹ کھا کر بھی مسکراتا ہوں درد دل سے بھی لطف اٹھاتا ہوں دوست ہی خندہ زن نہیں مجھ پر خود بھی اپنی ہنسی اڑاتا ہوں
لاکھ کاٹو رگیں صداقت کی کب صداقت کی روح مرتی ہے اس کے اک ایک قطرۂ خوں سے اک نئی زندگی ابھرتی ہے
کیف پر بھی ہے کیف کا عالم آج مستی بھی محو مستی ہے بات کرتا ہوں پھول جھڑتے ہیں آنکھ اٹھاتا ہوں مے برستی ہے
ساقیا ساقیا سنبھال اسے پھینک دیوے نہ کوئی جال اسے گردش روزگار آئی ہے ایک دو ساغروں سے ٹال اسے
روح کی آنچ میں ابالا ہے مدتوں خون دل سے پالا ہے اپنے شعروں میں جب کہیں میں نے زندگی کی تڑپ کو ڈھالا ہے
رونق بڑھے گی روئے نشاط جمال کی تھوڑی سی گرد ڈال دو اس پر ملال کی دیتی رہی فریب انہیں بھی تری وفا آغاز میں بھی جن کو خبر تھی مآل کی اب اس مقام پر ہے مری زندگی جہاں کیفیت ایک سی ہے نشاط و ملال کی اللہ رے جذب دید کہ اہل نگاہ سے خود حسن بھیک مانگ رہا ہے جمال کی دل پھر بھی آ گیا غم ...
نہ جانے کب سے یونہی دل شکستہ بیٹھی ہوں اداس چہرے کو اپنی ہتھیلیوں میں لئے گزرنے والی ہے رات اور میری آنکھوں میں جلا رہی ہے تری یاد آنسوؤں کے دیئے مرا خیال تھا ان زرنگار محلوں میں وہ دل کشی ہے کہ میں تجھ کو بھول جاؤں گی نشاط تازہ کے احساس کی شعاعوں سے شباب و حسن کی راہوں کو ...
وہ لڑکی وہ معصوم الھڑ سی لڑکی کسی آرزو کی طرح دل نشیں تھی شعاع سحر کی طرح تھی اچھوتی بہاروں ستاروں کا خواب حسیں تھی بہاروں ستاروں کا وہ خواب لیکن نرالی ہی تعبیر میں ڈھل رہا ہے وہ معصوم دل جو چراغ وفا تھا ہوس کی بھری بزم میں جل رہا ہے وہ جلتے ہوئے کچھ پشیمان بھی ہے نکھر بھی رہی ہے ...
سوچتے سوچتے پھر مجھ کو خیال آتا ہے وہ مرے رنج و مصائب کا مداوا تو نہ تھی رنگ افشاں تھی مرے دل کی خلاؤں میں مگر ایک عورت تھی علاج غم دنیا تو نہ تھی میرے ادراک کے ناسور تو رستے رہتے میری ہو کر بھی وہ میرے لئے کیا کر لیتی حسرت و یاس کے گمبھیر اندھیرے میں بھلا ایک نازک سی کرن ساتھ کہاں ...
پھول سا نازک بیل سا کومل ننھا منا گڈو اپنا دنیا کے چہرے کی رونق فطرت کی آنکھوں کا سپنا صورت اس کی بھولی بھالی گال ہیں اس کے گورے گورے جسم ہے یا پھولوں کی ڈالی بال ہیں یا ریشم کی ڈورے اس کی دنیا پیار کی دنیا اس کی باتیں پیار کی باتیں بچپن کے ہیں سمے سہانے ہنستے دن اور ہنستی ...