کیسے بے سوز لوگ ہو یارو
کیسے بے سوز لوگ ہو یارو کیا خبر کس جہاں میں رہتے ہو میرے احساس کے شرارے ہیں تم جنہیں میرے شعر کہتے ہو
کیسے بے سوز لوگ ہو یارو کیا خبر کس جہاں میں رہتے ہو میرے احساس کے شرارے ہیں تم جنہیں میرے شعر کہتے ہو
ڈس گئی تیری کائنات مجھے کھا گئے تیرے حادثات مجھے جانے کیوں پھر بھی آج تک تجھ پر پیار آتا ہے اے حیات مجھے
چاندنی سے دھلی ہوئی راتیں ایک گلفام سے ملاقاتیں میرے ماضی مرے حسیں ماضی ہائے کیا ہو گئیں تری باتیں
غم کی راتوں کے خواب لایا ہوں ہدیۂ اضطراب لایا ہوں شوخ لفظوں کے آبگینوں میں آنسوؤں کی شراب لایا ہوں
سرحد ہوش سے گزرتا ہوں ڈوبتا ہوں کبھی ابھرتا ہوں دیکھ کر تیری مدھ بھری آنکھیں میں خود اپنی تلاش کرتا ہوں
اس غم و یاس کے سمندر میں کوئی آسودگی کی لہر نہیں زندگی ہچکیوں کی نگری ہے زندگی قہقہوں کا شہر نہیں
میں نے خوابوں کے سمن رنگ شبستانوں میں لوریاں دے کے غم دل کو سلانا چاہا تلخی زیست سے بے زار و پریشاں ہو کر تلخی زیست کا احساس مٹانا چاہا اور میں ڈرتے جھجکتے کسی مجرم کی طرح آ گیا تیری محبت کے پرستانوں میں چھوڑ کر اپنے تعاقب میں نگاہیں اپنی کھو گیا کاکل و رخسار کے افسانوں میں میں ...
چاندنی رات کی خموشی میں یوں کوئی مہ جمال آتا ہے ایک شاعر کے ذہن میں جیسے خوب صورت خیال آتا ہے
میری فکر و نظر کے چہرے پر حادثوں کی کئی خراشیں ہیں یہ مرے شعر میرے شعر نہیں ایک صد چاک دل کی قاشیں ہیں
میں تو کیا مجھ کو دیکھنے والا اب مری بے بسی پہ روتا ہے بات کرتا ہوں ہونٹ جلتے ہیں سانس لیتا ہوں درد ہوتا ہے