قومی زبان

اعتراف

میں نے خوابوں کے سمن رنگ شبستانوں میں لوریاں دے کے غم دل کو سلانا چاہا تلخی زیست سے بے زار و پریشاں ہو کر تلخی زیست کا احساس مٹانا چاہا اور میں ڈرتے جھجکتے کسی مجرم کی طرح آ گیا تیری محبت کے پرستانوں میں چھوڑ کر اپنے تعاقب میں نگاہیں اپنی کھو گیا کاکل و رخسار کے افسانوں میں میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2359 سے 6203