قومی زبان

آج تجھے کیوں چپ سی لگی ہے

آج تجھے کیوں چپ سی لگی ہے کچھ تو بتا کیا بات ہوئی ہے آج تو جیسے ساری دنیا ہم دونوں کو دیکھ رہی ہے تو ہے اور بے خواب دریچے میں ہوں اور سنسان کلی ہے خیر تجھے تو جانا ہی تھا جان بھی تیرے ساتھ چلی ہے اب تو آنکھ لگا لے ناصرؔ دیکھ تو کتنی رات گئی ہے

مزید پڑھیے

دکھ کی لہر نے چھیڑا ہوگا

دکھ کی لہر نے چھیڑا ہوگا یاد نے کنکر پھینکا ہوگا آج تو میرا دل کہتا ہے تو اس وقت اکیلا ہوگا میرے چومے ہوئے ہاتھوں سے اوروں کو خط لکھتا ہوگا بھیگ چلیں اب رات کی پلکیں تو اب تھک کر سویا ہوگا ریل کی گہری سیٹی سن کر رات کا جنگل گونجا ہوگا شہر کے خالی اسٹیشن پر کوئی مسافر اترا ...

مزید پڑھیے

اولیں چاند نے کیا بات سجھائی مجھ کو

اولیں چاند نے کیا بات سجھائی مجھ کو یاد آئی تری انگشت حنائی مجھ کو سر ایوان طرب نغمہ سرا تھا کوئی رات بھر اس نے تری یاد دلائی مجھ کو دیکھتے دیکھتے تاروں کا سفر ختم ہوا سو گیا چاند مگر نیند نہ آئی مجھ کو انہی آنکھوں نے دکھائے کئی بھرپور جمال انہیں آنکھوں نے شب ہجر دکھائی مجھ ...

مزید پڑھیے

میں نے جب لکھنا سیکھا تھا

میں نے جب لکھنا سیکھا تھا پہلے تیرا نام لکھا تھا میں وہ صبر صمیم ہوں جس نے بار امانت سر پہ لیا تھا میں وہ اسم عظیم ہوں جس کو جن و ملک نے سجدہ کیا تھا تو نے کیوں مرا ہاتھ نہ پکڑا میں جب رستے سے بھٹکا تھا جو پایا ہے وہ تیرا ہے جو کھویا وہ بھی تیرا تھا تجھ بن ساری عمر گزاری لوگ ...

مزید پڑھیے

دھوپ نکلی دن سہانے ہو گئے

دھوپ نکلی دن سہانے ہو گئے چاند کے سب رنگ پھیکے ہو گئے کیا تماشا ہے کہ بے ایام گل ٹہنیوں کے ہاتھ پیلے ہو گئے اس قدر رویا ہوں تیری یاد میں آئینے آنکھوں کے دھندلے ہو گئے ہم بھلا چپ رہنے والے تھے کہیں ہاں مگر حالات ایسے ہو گئے اب تو خوش ہو جائیں ارباب ہوس جیسے وہ تھے ہم بھی ویسے ہو ...

مزید پڑھیے

کسی کلی نے بھی دیکھا نہ آنکھ بھر کے مجھے

کسی کلی نے بھی دیکھا نہ آنکھ بھر کے مجھے گزر گئی جرس گل اداس کر کے مجھے میں سو رہا تھا کسی یاد کے شبستاں میں جگا کے چھوڑ گئے قافلے سحر کے مجھے میں رو رہا تھا مقدر کی سخت راہوں میں اڑا کے لے گئے جادو تری نظر کے مجھے میں تیرے درد کی طغیانیوں میں ڈوب گیا پکارتے رہے تارے ابھر ابھر کے ...

مزید پڑھیے

دل میں اور تو کیا رکھا ہے

دل میں اور تو کیا رکھا ہے تیرا درد چھپا رکھا ہے اتنے دکھوں کی تیز ہوا میں دل کا دیپ جلا رکھا ہے دھوپ سے چہروں نے دنیا میں کیا اندھیر مچا رکھا ہے اس نگری کے کچھ لوگوں نے دکھ کا نام دوا رکھا ہے وعدۂ یار کی بات نہ چھیڑو یہ دھوکا بھی کھا رکھا ہے بھول بھی جاؤ بیتی باتیں ان باتوں میں ...

مزید پڑھیے

گلی گلی مری یاد بچھی ہے پیارے رستہ دیکھ کے چل

گلی گلی مری یاد بچھی ہے پیارے رستہ دیکھ کے چل مجھ سے اتنی وحشت ہے تو میری حدوں سے دور نکل ایک سمے ترا پھول سا نازک ہاتھ تھا میرے شانوں پر ایک یہ وقت کہ میں تنہا اور دکھ کے کانٹوں کا جنگل یاد ہے اب تک تجھ سے بچھڑنے کی وہ اندھیری شام مجھے تو خاموش کھڑا تھا لیکن باتیں کرتا تھا ...

مزید پڑھیے

ناصرؔ کیا کہتا پھرتا ہے کچھ نہ سنو تو بہتر ہے

ناصرؔ کیا کہتا پھرتا ہے کچھ نہ سنو تو بہتر ہے دیوانہ ہے دیوانے کے منہ نہ لگو تو بہتر ہے کل جو تھا وہ آج نہیں جو آج ہے کل مٹ جائے گا روکھی سوکھی جو مل جائے شکر کرو تو بہتر ہے کل یہ تاب و تواں نہ رہے گی ٹھنڈا ہو جائے گا لہو نام خدا ہو جوان ابھی کچھ کر گزرو تو بہتر ہے کیا جانے کیا رت ...

مزید پڑھیے

یاد آتا ہے روز و شب کوئی

یاد آتا ہے روز و شب کوئی ہم سے روٹھا ہے بے سبب کوئی لب جو چھاؤں میں درختوں کی وہ ملاقات تھی عجب کوئی جب تجھے پہلی بار دیکھا تھا وہ بھی تھا موسم طرب کوئی کچھ خبر لے کہ تیری محفل سے دور بیٹھا ہے جاں بہ لب کوئی نہ غم زندگی نہ درد فراق دل میں یوں ہی سی ہے طلب کوئی یاد آتی ہیں دور کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2310 سے 6203