قومی زبان

ہوتی ہے تیرے نام سے وحشت کبھی کبھی

ہوتی ہے تیرے نام سے وحشت کبھی کبھی برہم ہوئی ہے یوں بھی طبیعت کبھی کبھی اے دل کسے نصیب یہ توفیق اضطراب ملتی ہے زندگی میں یہ راحت کبھی کبھی تیرے کرم سے اے الم حسن آفریں دل بن گیا ہے دوست کی خلوت کبھی کبھی جوش جنوں میں درد کی طغیانیوں کے ساتھ اشکوں میں ڈھل گئی تری صورت کبھی ...

مزید پڑھیے

شب کچھ ایسے چلی پون خالی

شب کچھ ایسے چلی پون خالی کر گئی روح سے بدن خالی لڑکیاں گاؤں سے سدھار گئیں ہرنیوں سے ہوئے ختن خالی خاک میں مل گئے ہیں شیر جواں موت سے بھر گئے ہیں رن خالی سانحہ اس سے بڑھ کے کیا ہوگا یار بیٹھے ہیں انجمن خالی ہم اگر ہیں تو کیوں رہیں ہم سے یہ زمیں اور یہ زمن خالی اب وہ ماہ منیر ہے ...

مزید پڑھیے

گرفتہ دل ہیں بہت آج تیرے دیوانے

گرفتہ دل ہیں بہت آج تیرے دیوانے خدا کرے کوئی تیرے سوا نہ پہچانے مٹی مٹی سی امیدیں تھکے تھکے سے خیال بجھے بجھے سے نگاہوں میں غم کے افسانے ہزار شکر کہ ہم نے زباں سے کچھ نہ کہا یہ اور بات کہ پوچھا نہ اہل دنیا نے بقدر تشنہ لبی پرشس وفا نہ ہوئی چھلک کے رہ گئے تیری نظر کے پیمانے خیال ...

مزید پڑھیے

آرائش خیال بھی ہو دل کشا بھی ہو

آرائش خیال بھی ہو دل کشا بھی ہو وہ درد اب کہاں جسے جی چاہتا بھی ہو یہ کیا کہ روز ایک سا غم ایک سی امید اس رنج بے خمار کی اب انتہا بھی ہو یہ کیا کہ ایک طور سے گزرے تمام عمر جی چاہتا ہے اب کوئی تیرے سوا بھی ہو ٹوٹے کبھی تو خواب شب و روز کا طلسم اتنے ہجوم میں کوئی چہرہ نیا بھی ...

مزید پڑھیے

کیا زمانہ تھا کہ ہم روز ملا کرتے تھے

کیا زمانہ تھا کہ ہم روز ملا کرتے تھے رات بھر چاند کے ہم راہ پھرا کرتے تھے جہاں تنہائیاں سر پھوڑ کے سو جاتی ہیں ان مکانوں میں عجب لوگ رہا کرتے تھے کر دیا آج زمانے نے انہیں بھی مجبور کبھی یہ لوگ مرے دکھ کی دوا کرتے تھے دیکھ کر جو ہمیں چپ چاپ گزر جاتا ہے کبھی اس شخص کو ہم پیار کیا ...

مزید پڑھیے

سفر منزل شب یاد نہیں

سفر منزل شب یاد نہیں لوگ رخصت ہوئے کب یاد نہیں اولیں قرب کی سرشاری میں کتنے ارماں تھے جو اب یاد نہیں دل میں ہر وقت چبھن رہتی تھی تھی مجھے کس کی طلب یاد نہیں وہ ستارا تھی کہ شبنم تھی کہ پھول ایک صورت تھی عجب یاد نہیں کیسی ویراں ہے گزر گاہ خیال جب سے وہ عارض و لب یاد نہیں بھولتے ...

مزید پڑھیے

ترے آنے کا دھوکا سا رہا ہے

ترے آنے کا دھوکا سا رہا ہے دیا سا رات بھر جلتا رہا ہے عجب ہے رات سے آنکھوں کا عالم یہ دریا رات بھر چڑھتا رہا ہے سنا ہے رات بھر برسا ہے بادل مگر وہ شہر جو پیاسا رہا ہے وہ کوئی دوست تھا اچھے دنوں کا جو پچھلی رات سے یاد آ رہا ہے کسے ڈھونڈوگے ان گلیوں میں ناصرؔ چلو اب گھر چلیں دن جا ...

مزید پڑھیے

ترے ملنے کو بیکل ہو گئے ہیں

ترے ملنے کو بیکل ہو گئے ہیں مگر یہ لوگ پاگل ہو گئے ہیں بہاریں لے کے آئے تھے جہاں تم وہ گھر سنسان جنگل ہو گئے ہیں یہاں تک بڑھ گئے آلام ہستی کہ دل کے حوصلے شل ہو گئے ہیں کہاں تک تاب لائے ناتواں دل کہ صدمے اب مسلسل ہو گئے ہیں نگاہ یاس کو نیند آ رہی ہے مژہ پر اشک بوجھل ہو گئے ...

مزید پڑھیے

تو جب میرے گھر آیا تھا

تو جب میرے گھر آیا تھا میں اک سپنا دیکھ رہا تھا تیرے بالوں کی خوشبو سے سارا آنگن مہک رہا تھا چاند کی دھیمی دھیمی ضو میں سانولا مکھڑا لو دیتا تھا تیری نیند بھی اڑی اڑی تھی میں بھی کچھ کچھ جاگ رہا تھا میرے ہاتھ بھی سلگ رہے تھے تیرا ماتھا بھی جلتا تھا دو روحوں کا پیاسا بادل گرج ...

مزید پڑھیے

وہ دل نواز ہے لیکن نظر شناس نہیں

وہ دل نواز ہے لیکن نظر شناس نہیں مرا علاج مرے چارہ گر کے پاس نہیں تڑپ رہے ہیں زباں پر کئی سوال مگر مرے لیے کوئی شایان التماس نہیں ترے جلو میں بھی دل کانپ کانپ اٹھتا ہے مرے مزاج کو آسودگی بھی راس نہیں کبھی کبھی جو ترے قرب میں گزارے تھے اب ان دنوں کا تصور بھی میرے پاس نہیں گزر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2309 سے 6203