مانوس ہو چکے ہیں ترے آستاں سے ہم
مانوس ہو چکے ہیں ترے آستاں سے ہم اب زندگی بدل کے اٹھیں گے یہاں سے ہم تنہائیاں دلوں کی بھلا کس طرح مٹیں کچھ اجنبی سے آپ ہیں کچھ بدگماں سے ہم اب عالم سکوت ہی روداد عشق ہے کچھ عرض حال کر نہیں سکتے زباں سے ہم ہے راز بحر عشق عجب حیرت آفریں یہ دیکھنا ہے ڈوب کے ابھریں کہاں سے ہم برباد ...