قومی زبان

مانوس ہو چکے ہیں ترے آستاں سے ہم

مانوس ہو چکے ہیں ترے آستاں سے ہم اب زندگی بدل کے اٹھیں گے یہاں سے ہم تنہائیاں دلوں کی بھلا کس طرح مٹیں کچھ اجنبی سے آپ ہیں کچھ بدگماں سے ہم اب عالم سکوت ہی روداد عشق ہے کچھ عرض حال کر نہیں سکتے زباں سے ہم ہے راز بحر عشق عجب حیرت آفریں یہ دیکھنا ہے ڈوب کے ابھریں کہاں سے ہم برباد ...

مزید پڑھیے

اس لیے جفاؤں پر مجھ کو مسکرانا تھا

اس لیے جفاؤں پر مجھ کو مسکرانا تھا اور اس ستمگر کا حوصلہ بڑھانا تھا آنسوؤں کی قیمت جب موتیوں سے بڑھ کر تھی وہ مری محبت کا اور ہی زمانا تھا جب ستم سے ڈرتے تھے اب کرم سے ڈرتے ہیں یہ بھی اک زمانہ ہے وہ بھی اک زمانا تھا زندگی نے لوٹا ہے زندگی کو دانستہ موت سے شکایت کیا موت کا بہانا ...

مزید پڑھیے

اک شخص کو سنا تھا کبھی بولتے ہوئے

اک شخص کو سنا تھا کبھی بولتے ہوئے اس روز سے لبوں پہ ہیں تالے پڑے ہوئے خالی لفافے بھیجتے رہتے ہیں ہم اسے الماریوں میں بند ہیں سب خط لکھے ہوئے منزل سے دور رہنے کا دکھ کس لئے نہ ہو اک عمر ہو گئی ہمیں گھر سے چلے ہوئے کالک چھپائی جا نہ سکی جن سے سوچ کی وہ بھی پہن کے آئے ہیں کپڑے دھلے ...

مزید پڑھیے

جب اجالا گلی سے گزرنے لگا

جب اجالا گلی سے گزرنے لگا سب اندھیروں کا چہرہ اترنے لگا دور بدلہ تو میں بھی بدل سا گیا بے گناہی سے اپنی مکرنے لگا شام آئی تو تیرا خیال آ گیا آئنہ میرے گھر کا سنورنے لگا خوشبوؤں کی طرح عطر دانوں میں تھے جب ہوا چل گئی سب بکھرنے لگا اک غزل کہہ سکوں گر اجازت ملے آنسوؤں کا یہ جھرنا ...

مزید پڑھیے

کہیں عذاب کہیں پر ثواب لکھتے ہیں

کہیں عذاب کہیں پر ثواب لکھتے ہیں فرشتے روز ہمارا حساب لکھتے ہیں بہت سے لوگ تو ایسے بھی ہیں اسی یگ میں کتاب پڑھتے نہیں ہیں کتاب لکھتے ہیں وہ اپنے جسم کے خانوں میں آگ رکھتے ہیں گلاب ہوتے نہیں ہیں گلاب لکھتے ہیں یہاں کے لوگ تو تعبیر جانتے ہی نہیں یہ اپنے نیند میں رہنے کو خواب ...

مزید پڑھیے

جو گھاؤ تم نے دیا تھا وہ گھاؤ زندہ ہے

جو گھاؤ تم نے دیا تھا وہ گھاؤ زندہ ہے ابھی ہنسو نہ مری جان راؤؔ زندہ ہے تمہاری دل سے وہی کھیلنے کی عادت ہے ہمارا اپنا وہی رکھ رکھاؤ زندہ ہے ابھی نہ سوچ مری ہار تیری جیت ہوئی ابھی تو کھیل میں انتم پڑاؤ زندہ ہے ڈرے ڈرے ہوئے سہمے ہوئے اندھیرے ہیں چراغ بجھ تو رہا ہے دباؤ زندہ ...

مزید پڑھیے

ایک دو رات میں شہرت نہیں ملتی پگلے

ایک دو رات میں شہرت نہیں ملتی پگلے اتنے سستے میں یے دولت نہیں ملتی پگلے ہو اگر خوف خدا کام بنا کرتا ہے صرف مسواک سے جنت نہیں ملتی پگلے میں جو خود چل کے تری ذات تلک آیہ ہوں ورنہ یوں ہے کے محبت نہیں ملتی پگلے ہم کو ضد تھی کے یہی راستہ چلنا ہے ہمیں ورنہ ہر موڑ پہ آفت نہیں ملتی ...

مزید پڑھیے

سنجیدہ طبیعت کی کہانی نہیں سمجھے

سنجیدہ طبیعت کی کہانی نہیں سمجھے آنکھو میں رہے اور وو پانی نہیں سمجھے ایک شعر ہوا یوں کہ کلیجے سے لگا ہے دریا میں اتر کر بھی روانی نہیں سمجھے کیا خط میں لکھا جائے کہ سمجھائے انہیں ہم جو سامنے رہ کر بھی زبانی نہیں سمجھے بچپن کو لٹایا ہے جوانی کے لئے یار ہم لوگ جوانی کو جوانی ...

مزید پڑھیے

سر پے سورج کھڑا ہے چل اٹھ جا

سر پے سورج کھڑا ہے چل اٹھ جا کام باقی پڑا ہے چل اٹھ جا تجھ کو دنیا بھی فتح کرنی ہے یہ تقاضہ بڑا ہے چل اٹھ جا جسم کہتا ہے یار سونے دے اور دل نے کہا ہے چل اٹھ جا خیر کی بات ہے یہ سمجھا کر مشورہ مشورہ ہے چل اٹھ جا روح تک دھوپ آ گئی میری خواب کہنے لگا ہے چل اٹھ جا

مزید پڑھیے

کچھ زیادہ وبال کر ڈالا

کچھ زیادہ وبال کر ڈالا پھر خدا نے زوال کر ڈالا اپنا الزام میرے سر ڈالا یار تم نے کمال کر ڈالا ایک تازہ گلاب چہرہ کو ایک پرانی مثال کر ڈالا میرا کاسہ چٹک گیا شاید اس نے ہیرا نکال کر ڈالا دن گزارہ ادھر ادھر تنہا رات آئی ملال کر ڈالا پھر تیری یاد آ گئی ناصرؔ دیکھ آنکھو کو لال کر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2303 سے 6203