دور بھی جاتے ہوئے پاس بھی آتے ہوئے ہم
دور بھی جاتے ہوئے پاس بھی آتے ہوئے ہم بھولتے بھولتے کچھ یاد دلاتے ہوئے ہم نیند کا اس کو نشہ ہم کو جگانے کی ہوس خواب میں آتے ہوئے نیند چراتے ہوئے ہم پہلے روتے ہوئے اپنی ہی نگہبانی میں اور بے ساختہ پھر خود کو ہنساتے ہوئے ہم پچھلی شب پونچھتے آنکھوں سے پرانے سبھی خواب اگلی شب ...