قومی زبان

دور بھی جاتے ہوئے پاس بھی آتے ہوئے ہم

دور بھی جاتے ہوئے پاس بھی آتے ہوئے ہم بھولتے بھولتے کچھ یاد دلاتے ہوئے ہم نیند کا اس کو نشہ ہم کو جگانے کی ہوس خواب میں آتے ہوئے نیند چراتے ہوئے ہم پہلے روتے ہوئے اپنی ہی نگہبانی میں اور بے ساختہ پھر خود کو ہنساتے ہوئے ہم پچھلی شب پونچھتے آنکھوں سے پرانے سبھی خواب اگلی شب ...

مزید پڑھیے

ریزہ ریزہ ترے چہرے پہ بکھرتی ہوئی شام

ریزہ ریزہ ترے چہرے پہ بکھرتی ہوئی شام قطرہ قطرہ مری پلکوں پہ اترتی ہوئی شام لمحہ لمحہ مرے ہاتھوں سے سرکتا ہوا دن اور آسیب زدہ دل میں اترتی ہوئی شام صبح کا خواب مگر خواب عجب جاں لیوا میرے پہلو میں سسکتی ہوئی مرتی ہوئی شام ساتھ ساحل پہ گزرتے ہوئے دیکھی تھی کبھی یاد ہے اب بھی ...

مزید پڑھیے

مراد شکوہ نہیں لطف گفتگو کے سوا

مراد شکوہ نہیں لطف گفتگو کے سوا بچا ہے پیرہن جاں میں کیا رفو کے سوا ہوا چلی تھی ہر اک سمت اس کو پانے کی نہ کچھ بھی ہاتھ لگا گرد جستجو کے سوا کسی کی یاد مجھے بار بار کیوں آئی اس ایک پھول میں کیا شے تھی رنگ و بو کے سوا ابھرتا رہتا ہے اس خاک دل پہ نقش کوئی اب اس نواح میں کچھ بھی نہیں ...

مزید پڑھیے

نقش تصویر نہ وہ سنگ کا پیکر کوئی

نقش تصویر نہ وہ سنگ کا پیکر کوئی اس کو جب دیکھو بدل جاتا ہے منظر کوئی کشش حرف تبسم ہے لبوں میں روپوش گوشۂ چشم سے ہنستا ہے ستم گر کوئی جرعۂ آخر مے ہے کہ گراں خوابیٔ شب چاند سا ڈوب رہا ہے مرے اندر کوئی چڑھتے دریا سا وہ پیکر وہ گھٹا سے گیسو راستہ دیکھ رہا ہے مرا منظر کوئی صدف بحر ...

مزید پڑھیے

رنگ غزل میں دل کا لہو بھی شامل ہو

رنگ غزل میں دل کا لہو بھی شامل ہو خنجر جیسا بھی ہو لیکن قاتل ہو اس تصویر کا آب و رنگ نہیں بدلا جانے کب یہ دل کا نقش بھی باطل ہو شور فغاں پر اتنی بے چینی کیسی تم سے کیا تم کون کسی کے قاتل ہو دیکھ کبھی آ کر یہ لا محدود فضا تو بھی میری تنہائی میں شامل ہو میں کہ ہوں ایک تھکا ہارا اور ...

مزید پڑھیے

اک پیلی چمکیلی چڑیا کالی آنکھ نشیلی سی

اک پیلی چمکیلی چڑیا کالی آنکھ نشیلی سی بیٹھی ہے دریا کے کنارے میری طرح اکیلی سی جب میں نشیب رنگ و بو میں اترا اس کی یاد کے ساتھ اوس میں بھیگی دھوپ لگی ہے نرم ہری لچکیلی سی کس کو خبر میں کس رستے کی دھول بنوں یا پھول بنوں کیا جانے کیا رنگ دکھائے اس کی آنکھ پہیلی سی تیز ہوا کی دھار ...

مزید پڑھیے

ہو چکے گم سارے خد و خال منظر اور میں

ہو چکے گم سارے خد و خال منظر اور میں پھر ہوئے ایک آسماں ساحل سمندر اور میں ایک حرف راز دل پر آئنہ ہوتا ہوا اک کہر چھائی ہوئی منظر بہ منظر اور میں چھیڑ کر جیسے گزر جاتی ہے دوشیزہ ہوا دیر سے خاموش ہے گہرا سمندر اور میں کس قدر اک دوسرے سے لگتے ہیں مانوس زیبؔ ناریل کے پیڑ یہ ساحل کے ...

مزید پڑھیے

ایک کرن بس روشنیوں میں شریک نہیں ہوتی

ایک کرن بس روشنیوں میں شریک نہیں ہوتی دل کے بجھنے سے دنیا تاریک نہیں ہوتی جیسے اپنے ہاتھ اٹھا کر گھٹا کو چھو لوں گا لگتا ہے یہ زلف مگر نزدیک نہیں ہوتی تیرا بدن تلوار سہی کس کو ہے جان عزیز اب ایسی بھی دھار اس کی باریک نہیں ہوتی شعر تو مجھ سے تیری آنکھیں کہلا لیتی ہیں چپ رہتا ہوں ...

مزید پڑھیے

میرا نشاں بھی ڈھونڈھ غبار ماہ و اختر میں

میرا نشاں بھی ڈھونڈھ غبار ماہ و اختر میں کچھ منظر میں نے بھی بنائے بنائے ہیں منظر میں پوچھو تو زخموں کا حوالہ دینا مشکل ہے اتنی بے ترتیبی سی ہے دل کے دفتر میں وہ موجوں کی تیشہ زنی سے گونجتی چٹانیں وہ پتھر سی رات کا ڈھلنا چاند کے پیکر میں اتنا یاد ہے جب میں چلا تھا سوئے دشت ...

مزید پڑھیے

مرنے کا سکھ جینے کی آسانی دے

مرنے کا سکھ جینے کی آسانی دے انداتا کیسا ہے آگ نہ پانی دے اس دھرتی پر ہریالی کی جوت جگا کالے میگھا پانی دے گردانی دے بند افلاک کی دیواروں میں روزن کر کوئی تو منظر مجھ کو امکانی دے میرے دل پر کھول کتابوں کے اسرار میری آنکھ کو اپنی صاف نشانی دے ارض و سما کے پس منظر سے سامنے آ دل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 229 سے 6203