قومی زبان

جس طرح پیاسا کوئی آب رواں تک پہنچے

جس طرح پیاسا کوئی آب رواں تک پہنچے ڈھونڈتے ڈھونڈتے ہم اس کے مکاں تک پہنچے شرط اتنی تھی محبت میں بدن تک پہنچو ہم جنوں پیشہ مگر یار کی جاں تک پہنچے تیری چوکھٹ پہ پلٹ آئے ترے دیوانے بے اماں یعنی اسی جائے اماں تک پہنچے چل پڑے ہیں نئی تہذیب کے رستے ہم لوگ پانی کب دیکھیے خطرے کے نشاں ...

مزید پڑھیے

تک رہا ہے تو آسمان میں کیا

تک رہا ہے تو آسمان میں کیا ہے ابھی تک کسی اڑان میں کیا وہ جو اک تجھ کو جاں سے پیارا تھا اب بھی آتا ہے تیرے دھیان میں کیا کیا نہیں ہوگی پھر مری تکمیل کوئی تجھ سا نہیں جہان میں کیا ہم تو تیری کہانی لکھ آئے تو نے لکھا ہے امتحان میں کیا ہو ہی جاتے ہیں جب جدا دونوں پھر تعلق ہے جسم و ...

مزید پڑھیے

اس کی خواہش پہ نئے شعر برابر کہنا

اس کی خواہش پہ نئے شعر برابر کہنا اور پھر سن کے انہیں اس کا مکرر کہنا خشک آنکھیں لئے ہنستا ہوا دیکھو جس کو اس کو صحرا نہیں کہہ دینا سمندر کہنا کیا عجب ہے کہ ہو بیٹے کی فقط ہار پہ ہار اور ماں کا اسے ہر بار سکندر کہنا یہ تو ہم ہیں بڑے دل والے جو کہہ دیتے ہیں ورنہ آسان نہیں اپنے سے ...

مزید پڑھیے

درد کی شاخ پہ اک تازہ ثمر آ گیا ہے

درد کی شاخ پہ اک تازہ ثمر آ گیا ہے کس کی آمد ہے ضیاؔ کون نظر آ گیا ہے جانے کس جرم کی پائی ہے سزا پیروں نے اک سفر ختم پہ ہے اگلا سفر آ گیا ہے لہر خود پر ہے پشیمان کہ اس کی زد میں ننھے ہاتھوں سے بنا ریت کا گھر آ گیا ہے درد بھی سہنا تبسم بھی لبوں پر رکھنا مرحبا عشق ہمیں بھی یہ ہنر آ گیا ...

مزید پڑھیے

راحت وصل بنا ہجر کی شدت کے بغیر

راحت وصل بنا ہجر کی شدت کے بغیر زندگی کیسے بسر ہوگی محبت کے بغیر اب کے یہ سوچ کے بیمار پڑے ہیں کہ ہمیں ٹھیک ہونا ہی نہیں تیری عیادت کے بغیر عشق کے ماروں کو آداب کہاں آتے ہیں تیرے کوچے میں چلے آئے اجازت کے بغیر ہم سے پوچھو تو کہ ہم کیسے ہیں اے ہم وطنو اپنے یاروں کے بنا اپنی محبت ...

مزید پڑھیے

اس کو جاتے ہوئے دیکھا تھا پکارا تھا کہاں

اس کو جاتے ہوئے دیکھا تھا پکارا تھا کہاں روکتے کس طرح وہ شخص ہمارا تھا کہاں تھی کہاں ربط میں اس کے بھی کمی کوئی مگر میں اسے پیارا تھا پر جان سے پیارا تھا کہاں بے سبب ہی نہیں مرجھائے تھے جذبوں کے گلاب تو نے چھو کر غم ہستی کو نکھارا تھا کہاں بیچ منجھدار میں تھے اس لیے ہم پار ...

مزید پڑھیے

لہر لہر کیا جگ مگ جگ مگ ہوتی ہے

لہر لہر کیا جگ مگ جگ مگ ہوتی ہے جھیل بھی کوئی رنگ بدلتا موتی ہے کاوا کاٹ کے اوپر اٹھتی ہیں قازیں گن گن گن گن پروں کی گنجن ہوتی ہے چڑھتا ہوا پرواز کا نشہ ہے اور میں تیز ہوا رہ رہ کر ڈنک چبھوتی ہے گہرے سناٹے میں شور ہواؤں کا تاریکی سورج کی لاش پہ روتی ہے دیکھو اس بے حس ناگن کو ...

مزید پڑھیے

میں عکس آرزو تھا ہوا لے گئی مجھے

میں عکس آرزو تھا ہوا لے گئی مجھے زندان آب و گل سے چھڑا لے گئی مجھے کیا بچ رہا تھا جس کا تماشا وہ دیکھتا دامن میں اپنے خاک چھپا لے گئی مجھے کچھ دور تک تو چمکی تھی میرے لہو کی دھار پھر رات اپنے ساتھ بہا لے گئی مجھے جز تیرگی نہ ہاتھ لگا اس کا کچھ سراغ کن منزلوں سے گرد نوا لے گئی ...

مزید پڑھیے

جنون عشق سر بیدار بھی ہے

جنون عشق سر بیدار بھی ہے غرور بادۂ سرشار بھی ہے خیال طرہ شب رنگ مجھ کو کبھی اک سایۂ دیوار بھی ہے مجھے تسلیم یہ گردوں رکابی بلندی اک فراز دار بھی ہے یہ عصر نو کا شوق چارہ سازی پئے درماں غم بیمار بھی ہے تمیز خار و گل دستور گلچیں نگاہ باغباں میں خار بھی ہے چمن میں کھل گئیں نرگس ...

مزید پڑھیے

اسی در سے اسی دیوار سے آگے نہیں بڑھتا

اسی در سے اسی دیوار سے آگے نہیں بڑھتا یہ کیسا پیار ہے جو پیار سے آگے نہیں بڑھتا ہماری خواہشیں اظہار کی حد تک نہیں جاتیں ہمارا حوصلہ دیدار سے آگے نہیں بڑھتا ہماری زندگی میں ایک سستی سی مسلسل ہے ہمارا خون اس رفتار سے آگے نہیں بڑھتا کسی کے ہاتھ سے پی کر کسی کو بھول جاتے ہیں ہمارا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 228 سے 6203