جس طرح پیاسا کوئی آب رواں تک پہنچے
جس طرح پیاسا کوئی آب رواں تک پہنچے ڈھونڈتے ڈھونڈتے ہم اس کے مکاں تک پہنچے شرط اتنی تھی محبت میں بدن تک پہنچو ہم جنوں پیشہ مگر یار کی جاں تک پہنچے تیری چوکھٹ پہ پلٹ آئے ترے دیوانے بے اماں یعنی اسی جائے اماں تک پہنچے چل پڑے ہیں نئی تہذیب کے رستے ہم لوگ پانی کب دیکھیے خطرے کے نشاں ...