قومی زبان

کوئی بھی در نہ ملا نارسی کے مرقد میں

کوئی بھی در نہ ملا نارسی کے مرقد میں میں گھٹ کے مر گیا اپنی صدا کے گنبد میں غبار فکر چھٹا جب تو دیکھتا کیا ہوں ابھی کھڑا ہوں میں حرف و نوا کی سرحد میں مرے حریفوں پہ بے وجہ خوف غالب ہے ہے کون میرے سوا میرے وار کی زد میں کوئی خبر ہی نہ تھی مرگ جستجو کی مجھے زمیں پھلانگ گیا اپنے شوق ...

مزید پڑھیے

اور گلوں کا کام نہیں ہوتا کوئی

اور گلوں کا کام نہیں ہوتا کوئی خوشبو کا انعام نہیں ہوتا کوئی تھک گیا ایک کہانی سنتے سنتے میں کیا اس کا انجام نہیں ہوتا کوئی صحراؤں میں خاک اڑاتا پھرتا ہوں اس کے علاوہ کام نہیں ہوتا کوئی دیکھو تو کیا خوش رہتے ہیں دل والے پوچھو تو آرام نہیں ہوتا کوئی چٹانیں بس سخت ہوا کرتی ہیں ...

مزید پڑھیے

جھکے ہوئے پیڑوں کے تنوں پر چھاپ ہے چنچل دھارے کی

جھکے ہوئے پیڑوں کے تنوں پر چھاپ ہے چنچل دھارے کی ہولے ہولے ڈول رہی ہے گھاس ندی کے کنارے کی کسی ہوئی مردنگ سا پانی ہوا کی تھاپ سے بجتا ہے لہر ترنگ سے اٹھتی ہے جھنکار کسی اکتارے کی کھلی فضا میں نکلے تو زنگ یکسانی دور ہوا ایک ہوا کے جھونکے نے رنگت بدلی انگارے کی ابر کی تہہ میں ...

مزید پڑھیے

بجھ کر بھی شعلہ دام ہوا میں اسیر ہے

بجھ کر بھی شعلہ دام ہوا میں اسیر ہے قائم ابھی فضا میں دھوئیں کی لکیر ہے گزرا ہوں اس کے در سے تو کچھ مانگ لوں مگر کشکول بے طلب ہے صدا بے فقیر ہے جو چاہے اچھے داموں میں اس کو خرید لے وہ آدمی برا نہیں پر بے ضمیر ہے دل پر لگی ہے سب کے وہی مہر برف کی ظاہر میں گرم جوشیٔ دست سفیر ...

مزید پڑھیے

راستے میں کہیں کھونا ہی تو ہے

راستے میں کہیں کھونا ہی تو ہے پاؤں کیوں روکوں کہ دریا ہی تو ہے کون قاتل ہے یہاں بسمل کون قتل ہو لے کہ تماشا ہی تو ہے وہ چمکتی ہوئی موجیں ہیں کہاں اس طرف بھی وہی صحرا ہی تو ہے مرگ و ہستی میں بہت فرق ہے کیا دفن کر دو اسے زندہ ہی تو ہے نارسائی کا اٹھا رنج نہ زیبؔ حاصل زیست کہ دھوکا ...

مزید پڑھیے

ٹھہرا وہی نایاب کہ دامن میں نہیں تھا

ٹھہرا وہی نایاب کہ دامن میں نہیں تھا جو پھول چنا میں نے وہ گلشن میں نہیں تھا تھی موج لپکتی ہوئی میرے ہی لہو کی چہرہ کوئی دیوار کے روزن میں نہیں تھا خاکستر جاں کو مری مہکائے تھا لیکن جوہی کا وہ پودا مرے آنگن میں نہیں تھا آخر میں ہدف اپنا بناتا بھی تو کس کو میرا کوئی دشمن صف دشمن ...

مزید پڑھیے

بے حسی پر مری وہ خوش تھا کہ پتھر ہی تو ہے

بے حسی پر مری وہ خوش تھا کہ پتھر ہی تو ہے میں بھی چپ تھا کہ چلو سینے میں خنجر ہی تو ہے دھو کے تو میرا لہو اپنے ہنر کو نہ چھپا کہ یہ سرخی تری شمشیر کا جوہر ہی تو ہے راہ نکلی تو کوئی توڑ کے چٹانوں کو سامنے تیرہ و تاریک سمندر ہی تو ہے ساتھ ہوں میں بھی کہ دل کی یہی مرضی ہے مگر دشت بھی ...

مزید پڑھیے

اجڑی ہوئی بستی کی صبح و شام ہی کیا

اجڑی ہوئی بستی کی صبح و شام ہی کیا خاک اڑانے والوں کا انجام ہی کیا پاس سے ہو کر یوں ہی گزر جاتی ہے صبا دیوانے کے نام کوئی پیغام ہی کیا جو بھی تمہارے جی میں آئے کہہ ڈالو ہم مستانے لوگ ہمارا نام ہی کیا دور مے و ساغر بھی اپنے شباب پہ ہے گردش میں ہے چرخ نیلی فام ہی کیا زیبؔ کے مر ...

مزید پڑھیے

بجھتے سورج نے لیا پھر یہ سنبھالا کیسا

بجھتے سورج نے لیا پھر یہ سنبھالا کیسا اڑتی چڑیوں کے پروں پر ہے اجالا کیسا تم نے بھی دیکھا کہ مجھ کو ہی ہوا تھا محسوس گرد اس کے رخ روشن کے تھا ہالا کیسا چھٹ گیا جب مری نظروں سے ستاروں کا غبار شوق رفتار نے پھر پاؤں نکالا کیسا کس نے صحرا میں مرے واسطے رکھی ہے یہ چھاؤں دھوپ روکے ہے ...

مزید پڑھیے

رات دمکتی ہے رہ رہ کر مدھم سی

رات دمکتی ہے رہ رہ کر مدھم سی کھلے ہوئے صحرا کے ہاتھ پہ نیلم سی اپنی جگہ ساحل سا ٹھہرا غم تیرا دل کے دریا میں اک ہلچل پیہم سی لمبی رات گزر جائے تعبیروں میں اس کا پیکر ایک کہانی مبہم سی اپنی لگاوٹ کو وہ چھپانا جانتا ہے آگ اتنی ہے اور ٹھنڈک ہے شبنم سی میرے پاس سے اٹھ کر وہ اس کا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 230 سے 6203