قومی زبان

عشق جب تجھ سے ہوا ذہن کے جگنو جاگے

عشق جب تجھ سے ہوا ذہن کے جگنو جاگے لفظ پیکر میں ڈھلے سوچ کے پہلو جاگے دیکھیے کھلتا ہے اب کون سے احساس کا پھول دیکھیے روح میں اب کون سی خوشبو جاگے جانے کب میرے تھکے جسم کی جاگے قسمت جانے کب یار ترے لمس کا جادو جاگے جاگتے تنہا یہی سوچتا رہتا ہوں میں رتجگا کیسا ہو گر ساتھ مرے تو ...

مزید پڑھیے

جو رشتوں کی عجب سی ذمہ داری سر پہ رکھی ہے

جو رشتوں کی عجب سی ذمہ داری سر پہ رکھی ہے تو اب دستار جیسی چیز بھی ٹھوکر پہ رکھی ہے تری یادوں کی پائل سی کھنکتی ہے مرے گھر میں مرے کمرے کے اندر گونجتی ہے در پہ رکھی ہے تمہارے جسم نے پہلو بہ پہلو جس کو لکھا تھا وہ سلوٹ جیوں کی تیوں اب بھی مرے بستر پہ رکھی ہے تمہارے لمس کی خوشبو ...

مزید پڑھیے

اک درد کا صحرا ہے سمٹتا ہی نہیں ہے

اک درد کا صحرا ہے سمٹتا ہی نہیں ہے اک غم کا سمندر ہے جو گھٹتا ہی نہیں ہے کیا تیرا بدن جان گیا تیری انا کو پہلے کی طرح مجھ سے لپٹتا ہی نہیں ہے اسکولی کتابو ذرا فرصت اسے دے دو بچہ مرا تتلی پہ جھپٹتا ہی نہیں ہے کیا کیا نہیں کرتا ہے زمانہ اسے بد دل دل ہے کہ تری اور سے ہٹتا ہی نہیں ...

مزید پڑھیے

بہت جمود ہے طاری کوئی خیال ذرا

بہت جمود ہے طاری کوئی خیال ذرا نیا سا لفظ مری خاک پر اچھال ذرا وہ تو ہی ہے کہ میں بکھرا ہوں سامنے جس کے تو کم نصیب نہیں ہے مجھے سنبھال ذرا بچھڑتے وقت یہ خواہش کہاں تھی ناجائز اسے بھی ہوتا ہماری طرح ملال ذرا نہیں جو مانتا خود کو کہ بے مثال ہے تو تو اپنے جیسی دکھا دے کوئی مثال ...

مزید پڑھیے

یہ تو ہاتھوں کی لکیروں میں تھا گرداب کوئی

یہ تو ہاتھوں کی لکیروں میں تھا گرداب کوئی اتنے سے پانی میں اگر ہو گیا غرقاب کوئی غم زیادہ ہیں بہت آنکھیں ہیں صحرا صحرا اب تو آ جائے یہاں اشکوں کا سیلاب کوئی عشق کا فیض ہے یہ تو جو چہک اٹھا ہے بے سبب اتنا بھی ہوتا نہیں شاداب کوئی ابر بن کر مجھے آغوش میں لے اور سمجھ کیسے صحرا کو ...

مزید پڑھیے

جاں کا دشمن ہے مگر جان سے پیارا بھی ہے

جاں کا دشمن ہے مگر جان سے پیارا بھی ہے ایسا اس عہد میں اک شخص ہمارا بھی ہے جاگتی آنکھوں نے دیکھے ہیں ترے خواب اے جاں اور نیندوں میں ترا نام پکارا بھی ہے وہ برا وقت کہ جب ساتھ نہ ہو سایہ بھی ہم نے ہنس ہنس کے کئی بار گزارا بھی ہے جس نے منجدھار میں چھوڑا اسے معلوم نہیں ڈوبنے والے کو ...

مزید پڑھیے

بڑے سلیقے سے توڑا مرا یقین اس نے

بڑے سلیقے سے توڑا مرا یقین اس نے کہ نام اپنے ہی کر لی ہے سب زمین اس نے تباہ شہر کو پہلے کیا پھر اس کے بعد ہمارے شہر میں بھیجے تماش بین اس نے نبھے گا کیسے تعلق سمجھ نہیں آتا انا کی ڈور رکھی ہے بہت مہین اس نے خدا بنا کے ہمیں پوجنے لگا تھا وہ بہت خراب کیا ہے ہمارا دین اس نے ذہین ...

مزید پڑھیے

جینے میں آسانی رکھ

جینے میں آسانی رکھ اک تصویر پرانی رکھ سامنے رکھ کر آئینہ چہرے پر حیرانی رکھ مخلص اگر زیادہ ہیں کوئی دشمن جانی رکھ کہنا سب کا مان مگر تھوڑی سی من مانی رکھ اس کو یوں مت مرنے دے اپنی آنکھ کا پانی رکھ میرے آگے سب چیزیں جانی اور پہچانی رکھ

مزید پڑھیے

ہم نے جنون عشق میں کفر ذرا نہیں کیا

ہم نے جنون عشق میں کفر ذرا نہیں کیا اس سے محبتیں تو کیں اس کو خدا نہیں کیا عمر ہوئی کہ دیکھ کر نیند اچٹ گئی تھی ہاں آنکھ نے پھر کبھی رقم خواب نیا نہیں کیا تجھ سے کہا تھا خوشبوئیں اس کے بدن کی لائیو میرا یہ کام آج تک تو نے سبا نہیں کیا ہم سا بھی اس جہان میں ہوگا نہ کوئی یرغمال قید ...

مزید پڑھیے

مشکلیں کتنی ہیں پوشیدہ اس آسانی میں

مشکلیں کتنی ہیں پوشیدہ اس آسانی میں سونا پڑتا ہے ہمیں خواب کی نگرانی میں خود سے ملنا ہو تو فرصت کے پلوں میں ملنا عکس دکھتے ہی نہیں بہتے ہوئے پانی میں بعد مدت کے ملا تھا وہ مگر تھا کیسا دیکھنا بھول گیا اس کو میں حیرانی میں تیری یاد آئی تو حیرت بھی نہیں ہے مجھ کو یاد اپنا ہی تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 227 سے 6203