قومی زبان

مانا کہ یہاں اپنی شناسائی بھی کم ہے

مانا کہ یہاں اپنی شناسائی بھی کم ہے پر تیرے یہاں رسم پزیرائی بھی کم ہے ہاں تازہ گناہوں کے لیے دل بھی ہے بیتاب اور پچھلے گناہوں کی سزا پائی بھی کم ہے کچھ کار جہاں جاں کو زیادہ بھی لگے ہیں کچھ اب کے برس یاد تری آئی بھی کم ہے کچھ غم بھی میسر ہمیں اب کے ہیں زیادہ کچھ یہ کہ مسیحا کی ...

مزید پڑھیے

روح پہ کیا کیا ضرب لگے ہیں جسم کی کھینچا تانی میں

روح پہ کیا کیا ضرب لگے ہیں جسم کی کھینچا تانی میں عشق کا حاصل دیکھ رہے ہیں ہم دونوں حیرانی میں ایک مرا آئینہ خانہ ایک تمہارے جسم کی لو خوف زدہ دل سوچ رہا ہے آگ لگے کب پانی میں ہم کو کیا معلوم تھا اس نے کیا کیا چھپا کے رکھا تھا ہم نے دوپٹہ کھینچ لیا تھا شانے سے نادانی میں پیسے دے ...

مزید پڑھیے

سفر مجھ پر عجب برپا رہی ہے

سفر مجھ پر عجب برپا رہی ہے مری وحشت مجھے چونکا رہی ہے کہیں سے آ رہی ہے تیری خوشبو اداسی دور ہوتی جا رہی ہے ابھی تک خود نہیں سمجھی ہے جس کو مجھے وہ بات بھی سمجھا رہی ہے امیروں کے بچے ٹکڑوں کو چن کر غریبی بھوک کو بہلا رہی ہے مبارک شام کی آمد مبارک کسی کی یاد لے کر آ رہی ہے گئی شب ...

مزید پڑھیے

درد کی دھوپ ڈھلے غم کے زمانے جائیں

درد کی دھوپ ڈھلے غم کے زمانے جائیں دیکھیے روح سے کب داغ پرانے جائیں ہم کو بس تیری ہی چوکھٹ پہ پڑے رہنا ہے تجھ سے بچھڑیں نہ کسی اور ٹھکانے جائیں اپنی دیوار انا آپ ہی کر کے مسمار اپنے روٹھوں کو چلو آج منانے جائیں جانے کیا راز چھپا ہے تری سالاری میں تو جہاں جائے ترے پیچھے زمانے ...

مزید پڑھیے

اب تو آتے ہیں سبھی دل کو دکھانے والے

اب تو آتے ہیں سبھی دل کو دکھانے والے جانے کس راہ گئے ناز اٹھانے والے عشق میں پہلے تو بیمار بنا دیتے ہیں پھر پلٹتے ہی نہیں روگ لگانے والے کیا گزرتی ہے کسی پر یہ کہاں سوچتے ہیں کتنے بے درد ہیں یہ روٹھ کے جانے والے کرب ان کا کہ جو فٹ پاتھ پہ کرتے ہیں بسر کیا سمجھ پائیں گے یہ راج ...

مزید پڑھیے

زندگی سے تھکی تھکی ہو کیا

زندگی سے تھکی تھکی ہو کیا تم بھی بے وجہ جی رہی ہو کیا دیکھ کر تم کو کھلنے لگتے ہیں تم گلوں سے بھی بولتی ہو کیا اس قدر جو سجی ہوئی ہو تم میری خاطر سجی ہوئی ہو کیا میں تو مرجھا گیا ہوں اب کے برس تم کہیں اب بھی کھل رہی ہو کیا آج یہ شام بھیگتی کیوں ہے تم کہیں چھپ کے رو رہی ہو کیا اس ...

مزید پڑھیے

یہ جو ہر لمحہ نہ راحت نہ سکوں ہے یوں ہے

یہ جو ہر لمحہ نہ راحت نہ سکوں ہے یوں ہے اس کو پانے کا عجب دل میں جنوں ہے یوں ہے عادتاً کرتا ہے وہ وعدہ خلافی پہلے پھر بناتا ہے بہانے بھی کہ یوں ہے یوں ہے مجھ کو معلوم ہے لوٹ آئے گا میری جانب اس کے جانے پہ بھی اس دل میں سکوں ہے یوں ہے دل کا کھنچنا جو یہ جاری ہے فقط اس کی طرف اس کی ...

مزید پڑھیے

زرد پتے تھے ہمیں اور کیا کر جانا تھا

زرد پتے تھے ہمیں اور کیا کر جانا تھا تیز آندھی تھی مقابل سو بکھر جانا تھا وہ نہ تھا ترک تعلق پہ پشیمان تو پھر تم کو بھی چاہئے یہ تھا کہ مکر جانا تھا کیوں بھلا کچے مکانوں کا تمہیں آیا خیال تم تو دریا تھے تمہیں تیز گزر جانا تھا عشق میں سوچ سمجھ کر نہیں چلتے سائیں جس طرف اس نے ...

مزید پڑھیے

خاک تھے کہکشاں کے تھے ہی نہیں

خاک تھے کہکشاں کے تھے ہی نہیں ہم کسی آسماں کے تھے ہی نہیں اس نے ایسا کیا نظر انداز جیسے ہم داستاں کے تھے ہی نہیں تم نے جو بھی سوال ہم سے کئے وہ سوال امتحاں کے تھے ہی نہیں چھوڑ کر جو چلے گئے اس کو ہاں وہ ہندوستاں کے تھے ہی نہیں اتنی جلدی جو بھر گئے ہیں زخم جسم کے تھے یہ جاں کے تھے ...

مزید پڑھیے

ہنستے ہنستے بھی سوگوار ہیں ہم

ہنستے ہنستے بھی سوگوار ہیں ہم زندگی کس کے قرض دار ہیں ہم روح پر جسم کا لبادہ ہے اس لئے ہی تو سایہ دار ہیں ہم اس نے دیکھا کچھ اس ادا سے ہمیں ہم یہ سمجھے کہ شاہکار ہیں ہم ہم کو اتنا گرا پڑا نہ سمجھ اے زمانے کسی کا پیار ہیں ہم آج تک یہ سمجھ نہیں آیا جیت ہیں کس کی کس کی ہار ہیں ہم ہو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 226 سے 6203