قومی زبان

جو جوابوں سے بھرے تھے وہ سوالی ہو گئے

جو جوابوں سے بھرے تھے وہ سوالی ہو گئے آخرش تو سارے برتن پھر سے خالی ہو گئے اپنی مٹی میں دبے جو اٹھ نہ پائے وہ کبھی دوسروں میں جو اگے وہ لا زوالی ہو گئے نہ تھی خوابوں کی مرے اشکال نہ پیکر کوئی تیری آنکھوں سے جو گزرے تو غزالی ہو گئے پنکھڑی جب بند تھی تو تھا زر گل رائیگاں اور کھولی ...

مزید پڑھیے

بات نکلی تو مری ذات پر آ کر ٹھہری

بات نکلی تو مری ذات پر آ کر ٹھہری ذات سے نکلی تو اوقات پر آ کر ٹھہری اپنے حق میں کبھی اثبات نہیں دے پایا بے گناہی مری اس بات پر آ کر ٹھہری جب بھی اٹھی کبھی چہروں کے لیے میری نظر ہر دفعہ صرف حجابات پر آ کر ٹھہری وہ جو اک بات کہ جس پر نہ کبھی میں ٹھہرا سب کی ہر بات اسی بات پر آ کر ...

مزید پڑھیے

دھوپ بڑھنے کے جو آثار ہوئے

دھوپ بڑھنے کے جو آثار ہوئے کتنے سائے کے طرف دار ہوئے تپ کے کندن وہ بنیں گے کیسے جو جھلسنے کو نہ تیار ہوئے ہے دوا عشق تو بیماری بھی ہم دوا کے لیے بیمار ہوئے جو نہ جسموں کے طلب گار ہوئے صرف وہ وصل کے حق دار ہوئے قید سے ان کو چھڑائے کیسے اپنے ہاتھوں جو گرفتار ہوئے نہ ہوئے غم زدہ ...

مزید پڑھیے

روز طوفاں کو گزارا میں کروں

روز طوفاں کو گزارا میں کروں اور پھر گھر کو سنوارا میں کروں ایک امید کا تنکا ہی سہی خود کو اس سے ہی ابھارا میں کروں منتظر ہے مرا سیلاب ابھی اس کی ضد ہے کہ اشارہ میں کروں دھوپ ہی دھوپ ہو تو مشکل ہے کیسے سائے سے کنارا میں کروں مسئلہ اک دفعہ میں بس یہ ہے دل تو چاہے گا دوبارہ میں ...

مزید پڑھیے

وہ زخم چھوڑو اب اس کا نشان باقی نہیں

وہ زخم چھوڑو اب اس کا نشان باقی نہیں سو میرے حق میں کوئی بھی بیان باقی نہیں بچے ہیں فاصلہ بیچ اپنے سو نبھائیں گے سوائے ان کے تو کچھ درمیان باقی نہیں کریں گے کیا بھلا کردار وہ پرانے سب پرانی آج وہ جب داستان باقی نہیں زمیں نے پیر مرے باندھ کر نہیں رکھے مری اڑان میں ہی آسمان باقی ...

مزید پڑھیے

قید شیشے میں رہوں عکس بنوں شاد رہوں

قید شیشے میں رہوں عکس بنوں شاد رہوں یا کہ پھر پھوڑ کے یہ آئنہ آزاد رہوں یوں ہی جیتا رہوں گمنام اندھیروں میں کہیں یا کروں صبح کوئی ایسی کہ میں یاد رہوں یا تو ایجاد کروں اپنے جہان نو کی یا تو کھنڈر میں مرے اپنے ہی برباد رہوں گھونٹ دوں اپنی سماعت کا گلا تو کچھ ہو ورنہ دل کی فغاں ...

مزید پڑھیے

کسی کو نیند ملی تو کسی کو خواب ملا

کسی کو نیند ملی تو کسی کو خواب ملا ہر اک بشر کو یاں موقع انتخاب ملا وہ ناپ تول کے پایا تھی آرزو جس کی نہیں تھی آرزو جس کی وہ بے حساب ملا کھلا ملا کوئی چہرہ ڈھکا ملا کوئی سبھی کی ذات پہ ہم کو مگر حجاب ملا نقاب اتنے ہیں چہرہ ہی بھول جائیں گے اگر وہ شیشۂ دل میں نہ بے نقاب ملا رہے ...

مزید پڑھیے

میرے خوابوں کو مجھ سے گلہ رہ گیا

میرے خوابوں کو مجھ سے گلہ رہ گیا میں حقیقت میں ہی مبتلا رہ گیا میں بھی قصے سناتا سفر کے مگر یاد مجھ کو بس اک مرحلہ رہ گیا رہ گئے کتنے کردار بھیتر مرے میرے بھیتر مرا قافلہ رہ گیا فاصلوں میں رہا قربتوں کا گماں قربتوں میں کہیں فاصلہ رہ گیا خیریت پوچھنا اور بتانا کبھی نسبتوں میں ...

مزید پڑھیے

فریضہ ہے سو ہم نبھایا کریں گے

فریضہ ہے سو ہم نبھایا کریں گے چراغوں کو مجلس میں لایا کریں گے اندھیروں اجالوں کی ہے یہ لڑائی بجھاؤ گے تم ہم جلایا کریں گے چھپاؤ گے چہرہ کہاں تک تم اپنا ہم اک آئنہ بن کے آیا کریں گے سبھی در اگر بند کرکے بھی بیٹھو عیاں ہو کے پھر بھی دکھایا کریں گے کبھی گھر ہمیں بھی بلا کر تو ...

مزید پڑھیے

کوئی حسرت کوئی ارمان نہیں رکھتے ہیں

کوئی حسرت کوئی ارمان نہیں رکھتے ہیں ہم تو مدت سے یہ سامان نہیں رکھتے ہیں زخم رکھتے ہیں نہ رکھتے ہیں نشاں اب کوئی چاک ہو ایسا گریبان نہیں رکھتے ہیں بے حسی کا یہ ہماری ذرا عالم دیکھو جسم رکھتے ہے مگر جان نہیں رکھتے ہیں ہم سے اغیار کی پہچان کہاں سنبھلے گی جب ہم اپنوں کی ہی پہچان ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2267 سے 6203