قومی زبان

بے زبانی زبان ہوتی ہے

بے زبانی زبان ہوتی ہے عشق کی داستان ہوتی ہے دل کو آیا ہے پھر کسی کا خیال پھر تمنا جوان ہوتی ہے کون پائے گا تاب نظارہ ان کی ابرو کمان ہوتی ہے کیا ہوا لب اگر نہیں ہلتے آنکھ خود اک زبان ہوتی ہے جس کو کہتے ہیں زندگی سب لوگ حسرتوں کا جہاں ہوتی ہے ان کا جلوہ ہوا ہے پیش نظر جستجو ...

مزید پڑھیے

اپنے اشکوں کی یہ برسات کسے پیش کروں

اپنے اشکوں کی یہ برسات کسے پیش کروں شب فرقت کی یہ سوغات کسے پیش کروں غم دوراں کی شکایت غم جاناں کا گلا اف یہ پیچیدہ خیالات کسے پیش کروں کون پوچھے گا مرے حال فسردہ کا مزاج غم دوراں کی حکایات کسے پیش کروں زیست کو تلخ بناتے ہیں جو ہر دم میری الجھے الجھے وہ سوالات کسے پیش ...

مزید پڑھیے

اب ہستئ خراب کا عالم سنور گیا

اب ہستئ خراب کا عالم سنور گیا اک نشۂ شباب تھا سر سے اتر گیا گزرا ہوں راہ عشق میں منزل سے بے نیاز آواز ان کی پائی جہاں بھی ٹھہر گیا مڑ مڑ کے دیکھتے ہیں مجھے رہ گزر پہ لوگ میں دیکھتا ہوں زعم محبت کدھر گیا قدموں کو اس کے چھوتا ہے خود مقصد حیات جو منزل نشاط کی حد سے گزر گیا انجام ...

مزید پڑھیے

عشق کی داستان کیا کہئے

عشق کی داستان کیا کہئے خامشی ہے زبان کیا کہئے ایک دل پر ہزار الزامات صبر کا امتحان کیا کہئے تیر و نشتر کی بات ہی کیا ہے ہوں جو ابرو کمان کیا کہئے دیکھ کر اک جمال رعنائی آرزو ہے جوان کیا کہئے شیوۂ حسن بے وفائی ہے آپ سے مہربان کیا کہئے منزل عشق ہے کٹھن یارو شوق کا امتحان کیا ...

مزید پڑھیے

شہر آلام کا شہریار آ گیا

شہر آلام کا شہریار آ گیا سر برہنہ مرا تاجدار آ گیا صبح خنداں لئے روئے تاباں لئے شام غربت ترا غم گسار آ گیا صبر ارزاں ہوا جبر لرزاں ہوا صاحب شان صد اختیار آ گیا نالہ کارو اٹھو سوگوارو اٹھو بے‌ قرارو کوئی بے قرار آ گیا کائنات اپنی ہے اب حیات اپنی ہے غم کشو غم زدو غم گسار ...

مزید پڑھیے

فغاں کے ساتھ ترے راحت قرار چلے

فغاں کے ساتھ ترے راحت قرار چلے نوا گران وفا ہمتوں کو ہار چلے یہ کیا کہ پھول کھلے اور زخم رسنے لگے ملے سکوں بھی اگر باد نوبہار چلے یہ ملتفت سی نگاہیں فروغ‌ جام کے ساتھ چلے یہ دور چلے اور بار بار چلے ہزار برہمیٔ زلف یار بھی دیکھی تجھے تو کاکل گیتی مگر سنوار چلے خیال و علم کا بھی ...

مزید پڑھیے

کس توقع پہ شریک غم یاراں ہوں گے

کس توقع پہ شریک غم یاراں ہوں گے یاد ہم کس کو بھلا اے دل ناداں ہوں گے رونق بزم بہت اب بھی سخنداں ہوں گے ان میں کیا ہم سے بھی کچھ سوختہ ساماں ہوں گے ہم پہ جو بیت گئے بیت گئی بیت گئی کیا کہیں آپ سنیں گے تو پشیماں ہوں گے یاد اک غم ہے کہ فریاد فسوں ہے کہ جنوں درد کے رشتے ہیں مشکل سے ...

مزید پڑھیے

دل محو تماشائے لب بام نہیں ہے

دل محو تماشائے لب بام نہیں ہے پیغام بہ اندازۂ پیغام نہیں ہے اے جان گراں سیر ترا رہبر و رہزن ہے کون اگر وقت سبک گام نہیں ہے جو تیرے دیار‌ رخ و کاکل میں نہ گزرے وہ صبح نہیں ہے وہ مری شام نہیں ہے اس پرسش حالات کے انداز کے قرباں کس طرح کہوں میں مجھے آرام نہیں ہے کیا بات ہے اے تلخئ ...

مزید پڑھیے

بچوں کا گیت

لڑکپن کی خوشیوں کا اعجاز ہیں ہم ٹھہرتے نہیں جوش پرواز ہیں ہم کہ ماں باپ کے دل کی آواز ہیں ہم ہمارا گلستاں ہماری بہاریں ہمیں ہیں بزرگوں کو بہلانے والے شرارت میں دلچسپیاں پانے والے ستاروں سے لڑ لڑ کے سو جانے والے ہماری بہاریں ہمارا گلستاں کبھی جوش میں جھوم کر ہم جو گائیں کبھی مست ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2235 سے 6203