قومی زبان

کربلا کا راستہ روشن ہوا

کربلا کا راستہ روشن ہوا پھر لہو کا معرکہ روشن ہوا کون تھا آخر وہ جس کی ذات سے زندگی کا زاویہ روشن ہوا جذبۂ ایثار و قربانی کے نام خاک و خوں کا سلسلہ روشن ہوا بارے تجھ پہ اے فرات بے کراں تشنگی کا مرتبہ روشن ہوا منہدم ہونے لگی دیوار جاں جسم کا ظلمت کدہ روشن ہوا قدغنیں جتنی ...

مزید پڑھیے

پھر سیہ پوش ہوئی شام نظر میں رکھنا

پھر سیہ پوش ہوئی شام نظر میں رکھنا تم یہ بے دردیٔ ایام نظر میں رکھنا میں نے باطل سے کبھی صلح نہیں کی لوگو میری حق گوئی کا انعام نظر میں رکھنا خوب ہے درد و غم دل کا مداوا لیکن خود کو بھی اے دل ناکام نظر میں رکھنا ٹھوکریں کھا کے سنبھلتے ہیں سنبھلنے والے یہ جو پتھر ہیں بہ ہر گام ...

مزید پڑھیے

کبھی ہوا کبھی بجلی کے ہم رکاب ہوا

کبھی ہوا کبھی بجلی کے ہم رکاب ہوا پھر اس کے بعد میں جینے میں کامیاب ہوا نظر نواز نظارے تھے میرے چاروں طرف کھلی جو آنکھ تو برہم وہ سارا خواب ہوا کبھی جو باعث راحت تھا اہل دل کے لئے یہ کیا ہوا کہ وہ منظر بھی اب عذاب ہوا وہ العطش کی صدائیں وہ کرب تشنہ لبی فرات جس کے تصور سے آب آب ...

مزید پڑھیے

خزاں سے جوڑ کے رشتہ بہار کا کوئی

خزاں سے جوڑ کے رشتہ بہار کا کوئی خوشی نہیں نہ سہی غم تو دے گیا کوئی نہ شکریہ نہ شکایت یہ ربط ہے کیسا کسے نصیب تھی فرصت کہ سوچتا کوئی نہ کوئی دوست نہ دشمن تو پھر یہ الجھن کیوں تمام عمر اسی کرب میں رہا کوئی عجیب دور سے وابستگی رہی میری کہ مل سکا نہ مجھے اپنا ہم نوا کوئی حقیقتوں ...

مزید پڑھیے

گناہگار وفا لائق سزا لکھ دو

گناہگار وفا لائق سزا لکھ دو مرے خلاف زمانے کا فیصلہ لکھ دو گھری ہے دائرۂ کرب آگہی میں حیات اسی حصار میں رہنے کا حوصلہ لکھ دو ہر ایک لمحہ ہے نوک سناں پہ سر اپنا مجھے ستم زدۂ جذبۂ انا لکھ دو میں دوسروں سے بھی کچھ داد ضبط غم پاؤں ہر ایک لب پہ مرے دل کا مدعا لکھ دو فنا کے دشت میں ...

مزید پڑھیے

حادثہ ایسا بھی زیر آسماں ہونا ہی تھا

حادثہ ایسا بھی زیر آسماں ہونا ہی تھا برگ گل کو خاک شعلے کو دھواں ہونا ہی تھا تلخ جتنی ہو حقیقت کو عیاں ہونا ہی تھا زندگی کو سات پردوں میں نہاں ہونا ہی تھا جو نہ سننا تھا وہ افسانہ بیاں ہونا ہی تھا یعنی اپنی کوششوں کو رائیگاں ہونا ہی تھا ریزہ ریزہ ٹوٹ کر بکھرے در و دیوار دل لمحہ ...

مزید پڑھیے

گہے مکاں سے سنی گاہ لا مکاں سے سنی

گہے مکاں سے سنی گاہ لا مکاں سے سنی شکست دل کی صدا کیا کہوں کہاں سے سنی نہ بوئے گل نے کہا کچھ نہ تو صبا نے کہا حدیث برق و شرر ہم نے آشیاں سے سنی تمام حاصل ایام جس سفر میں لٹا وہ داستان سفر عمر رائیگاں سے سنی زمانہ منزل گم گشتہ کی تلاش میں ہے یہ بات اڑتی ہوئی گرد کارواں سے سنی ہے ...

مزید پڑھیے

سچ ہے جب بھی کوئی حرف اس کی زباں سے نکلا

سچ ہے جب بھی کوئی حرف اس کی زباں سے نکلا زہر میں ڈوبا ہوا تیر کماں سے نکلا دور تک پھیل گیا حسن معانی کا طلسم خوب مفہوم مرے لفظ و بیاں سے نکلا میں ترے ترک تعلق سے بس اتنا سمجھا ایک پتھر تھا جو شیشے کے مکاں سے نکلا اک حقیقت پس افسانہ تھی روشن روشن وہ جو کعبے کو گیا شہر بتاں سے ...

مزید پڑھیے

زوال عظمت انساں کا مرثیہ ہوں میں

زوال عظمت انساں کا مرثیہ ہوں میں سر کشیدہ پہ دستار بے انا ہوں میں سگ زمانہ سے آگے نکل گیا ہوں میں اب اپنے سامنے تنہا کھڑا ہوا ہوں میں مرے وجود میں در آیا کیسا سناٹا کہ ریگ زار میں گم گشتہ اک صدا ہوں میں ڈبو نہ دے کہیں مجھ کو بھی تشنگی کا سفر کہ ریگ ریگ سرابوں کا سلسلہ ہوں ...

مزید پڑھیے

خواہ پتھر خواہ شیشہ آدمی

خواہ پتھر خواہ شیشہ آدمی ریزہ ریزہ ہو کے بکھرا آدمی لمحہ لمحہ دھوپ سے تپ کر ہوا دشت غربت میں سنہرا آدمی اک نئی تخلیق کا سورج لیے فکر کے زینے سے اترا آدمی زندگی کے آئینے میں روز و شب دیکھتا ہے اپنا چہرا آدمی بھر کے آنکھوں میں سلگتی آرزو برف کی وادی سے گزرا آدمی عمر بھر کرتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2224 سے 6203