قومی زبان

ٹک ہونٹ ہلاؤں تو یہ کہتا ہے نہ بک بے

ٹک ہونٹ ہلاؤں تو یہ کہتا ہے نہ بک بے اور پاس جو بیٹھوں تو سناتا ہے سرک بے کہتا ہوں کبھی گھر میں مرے آ تو ہے کہتا چوکھٹ پہ ہماری کوئی دن سر تو پٹک بے جب بدر نکلتا ہے تو کہتا ہے وہ مغرور کہہ دو اسے یاں آن کے اتنا نہ چمک بے پردہ جو الٹ دوں گا ابھی منہ سے تو دم میں اڑ جائے گی چہرے کی ...

مزید پڑھیے

آن رکھتا ہے عجب یار کا لڑ کر چلنا

آن رکھتا ہے عجب یار کا لڑ کر چلنا ہر قدم ناز کے غصے میں اکڑ کر چلنا جتنے بن بن کے نکلتے ہیں صنم نام خدا سب میں بھاتا ہے مجھے اس کا بگڑ کر چلنا ناتوانی کا بھلا ہو جو ہوا مجھ کو نصیب اس کی دیوار کی اینٹوں کو رگڑ کر چلنا اس کی کاکل ہے بری مان کہا اے افعی دیکھیو اس سے تو کاندھا نہ رگڑ ...

مزید پڑھیے

ہے اب تو یہ دھن اس سے میں آنکھ لڑا لوں گا

ہے اب تو یہ دھن اس سے میں آنکھ لڑا لوں گا اور چوم کے منہ اس کا سینے سے لگا لوں گا گر تیر لگاوے گا پیہم وہ نگہ کے تو میں اس کی جراحت کو ہنس ہنس کے اٹھا لوں گا دل جاتے ادھر دیکھا جب میں نے نظیرؔ اس کو روکا ارے وہ تجھ کو لے گا تو میں کیا لوں گا واں ابرو و مژگاں کے ہیں تیغ و سناں چلتے ٹک ...

مزید پڑھیے

بحر ہستی میں صحبت احباب

بحر ہستی میں صحبت احباب یوں ہے جیسے بروئے آب حباب گردش آسماں میں ہم کیا ہیں پر کاہے میانۂ گرداب بادۂ ناب کیا ہے خون جگر زردئ رنگ ہے شب مہتاب جس کو رقص و سرود کہتے ہیں وہ بھی ہے اک ہوائے خانہ خراب عمر کہتے ہیں جس کو وہ کیا ہے مثل تحریر موج نقش بر آب جسم کیا روح کی ہے جولا ...

مزید پڑھیے

کدھر ہے آج الٰہی وہ شوخ چھل بلیا

کدھر ہے آج الٰہی وہ شوخ چھل بلیا کہ جس کے غم سے مرا دل ہوا ہے باولیا تمام گوروں کے حیرت سے رنگ اڑ جاتے جو گھر سے آج نکلتا وہ میرا سانولیا تجھے خبر نہیں بلبل کے باغ سے گلچیں بڑی سی پھولوں کی اک بھر کے لے گیا ڈلیا نظیرؔ یار کی ہم نے جو کل ضیافت کی پکایا قرض منگا کر پلاؤ اور قلیا سو ...

مزید پڑھیے

جدا کسی سے کسی کا غرض حبیب نہ ہو

جدا کسی سے کسی کا غرض حبیب نہ ہو یہ داغ وہ ہے کہ دشمن کو بھی نصیب نہ ہو جدا جو ہم کو کرے اس صنم کے کوچے سے الٰہی راہ میں ایسا کوئی رقیب نہ ہو علاج کیا کریں حکما تپ جدائی کا سوائے وصل کے اس کا کوئی طبیب نہ ہو نظیرؔ اپنا تو معشوق خوب صورت ہے جو حسن اس میں ہے ایسا کوئی عجیب نہ ہو

مزید پڑھیے

اگر ہے منظور یہ کہ ہووے ہمارے سینے کا داغ ٹھنڈا

اگر ہے منظور یہ کہ ہووے ہمارے سینے کا داغ ٹھنڈا تو آ لپٹئے گلے سے اے جاں جھمک سے کر جھپ چراغ ٹھنڈا ہم اور تم جاں اب اس قدر تو محبتوں میں ہیں ایک تن من لگایا تم نے جبیں پہ صندل ہوا ہمارا دماغ ٹھنڈا لبوں سے لگتے ہی ہو گئی تھی تمام سردی دل و جگر میں دیا تھا ساقی نے رات ہم کو کچھ ایسے ...

مزید پڑھیے

اس کے شرار حسن نے شعلہ جو اک دکھا دیا

اس کے شرار حسن نے شعلہ جو اک دکھا دیا طور کو سر سے پاؤں تک پھونک دیا جلا دیا پھر کے نگاہ چار سو ٹھہری اسی کے روبرو اس نے تو میری چشم کو قبلہ نما بنا دیا میرا اور اس کا اختلاط ہو گیا مثل ابر و برق اس نے مجھے رلا دیا میں نے اسے ہنسا دیا میں ہوں پتنگ کاغذی ڈور ہے اس کے ہاتھ میں چاہا ...

مزید پڑھیے

نہیں ہوا میں یہ بو نافۂ ختن کی سی

نہیں ہوا میں یہ بو نافۂ ختن کی سی لپٹ ہے یہ تو کسی زلف پر شکن کی سی میں ہنس کے اس لیے منہ چومتا ہوں غنچہ کا کہ کچھ نشانی ہے اس میں ترے دہن کی سی خدا کے واسطے گل کو نہ میرے ہاتھ سے لو مجھے بو آتی ہے اس میں کسی بدن کی سی ہزار تن کے چلیں بانکے خوب رو لیکن کسی میں آن نہیں تیرے بانکپن ...

مزید پڑھیے

لپٹ لپٹ کے میں اس گل کے ساتھ سوتا تھا

لپٹ لپٹ کے میں اس گل کے ساتھ سوتا تھا رقیب صبح کو منہ آنسوؤں سے دھوتا تھا تمام رات تھی اور کہنیاں و لاتیں تھیں نہ سونے دیتا تھا مجھ کو نہ آپ سوتا تھا جو بات ہجر کی آتی تو اپنے دامن سے وہ آنسو پونچھتا جاتا تھا اور میں روتا تھا مسکتی چولی تو لوگوں سے چھپ کے سینے کو وہ تاگے بٹتا تھا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2209 سے 6203