قومی زبان

الطاف بیاں ہوں کب ہم سے اے جان تمہاری صورت کے

الطاف بیاں ہوں کب ہم سے اے جان تمہاری صورت کے ہیں لاکھوں اپنی آنکھوں پر احسان تمہاری صورت کے منہ دیکھے کہ یہ بات نہیں سچ پوچھو تو اب دنیا میں بے ہوش کرے ہیں پریوں کو انسان تمہاری صورت کے آئینہ رخوں کی محفل میں جس وقت عیاں تم ہوتے ہو سب آئنہ ساں رہ جاتے ہیں حیران تمہاری صورت ...

مزید پڑھیے

ادھر اس کی نگہ کا ناز سے آ کر پلٹ جانا

ادھر اس کی نگہ کا ناز سے آ کر پلٹ جانا ادھر مرنا تڑپنا غش میں آنا دم الٹ جانا کہوں کیا کیا میں نقشے اس کی ناگن زلف کے یارو لپٹنا اڑ کے آنا کاٹ کھانا پھر پلٹ جانا اگر ملنے کی دھن رکھنا تو اس ترکیب سے ملنا سرکنا دور ہٹنا بھاگنا اور پھر لپٹ جانا نہ ملنے کا ارادہ ہو تو یہ عیاریاں ...

مزید پڑھیے

اے مری جان ہمیشہ ہو تری جان کی خیر

اے مری جان ہمیشہ ہو تری جان کی خیر نازکی دور بلا، حسن کے سامان کی خیر رات دن شام سحر پہر گھڑی پل ساعت مانگتے جاتی ہے ہم کو تری آن آن کی خیر مہندی چوٹی ہو سوائی ہو چمک پیٹی کی عمر چوٹی کی بڑی زلف پریشان کی خیر بے طرح بوجھ سے جھمکوں کے جھکے پڑتے ہیں کیجو اللہ تو ان جھمکوں کی اور ...

مزید پڑھیے

جھمک دکھاتے ہی اس دل ربا نے لوٹ لیا

جھمک دکھاتے ہی اس دل ربا نے لوٹ لیا ہمیں تو پہلے ہی اس کی ادا نے لوٹ لیا نگہ کے ٹھگ کی لگاوٹ نے فن سے کر غافل ہنسی نے ڈال دی پھانسی دعا نے لوٹ لیا وفا جفا نے یہ کی جنگ زر گری ہم سے وفا نے باتوں لگایا جفا نے لوٹ لیا لٹے ہم اس کی گلی میں تو یوں پکارے لوگ کہ اک فقیر کو اک بادشا نے لوٹ ...

مزید پڑھیے

جو آوے منہ پہ ترے ماہتاب ہے کیا چیز

جو آوے منہ پہ ترے ماہتاب ہے کیا چیز غرض یہ ماہ تو کیا آفتاب ہے کیا چیز یہ پیرہن میں ہے اس گورے گورے تن کی جھلک کہ جس کے سامنے موتی کی آب ہے کیا چیز بھلا دیں ہم نے کتابیں کہ اس پری رو کے کتابی چہرے کے آگے کتاب ہے کیا چیز تمہارے ہجر میں آنکھیں ہماری مدت سے نہیں یہ جانتیں دنیا میں ...

مزید پڑھیے

گر عیش سے عشرت میں کٹی رات تو پھر کیا

گر عیش سے عشرت میں کٹی رات تو پھر کیا اور غم میں بسر ہو گئی اوقات تو پھر کیا جب آئی اجل پھر کوئی ڈھونڈا بھی نہ پایا قصوں میں رہے حرف و حکایات تو پھر کیا حد بوس و کنار اور جو تھا اس کے سوا آہ گر وہ بھی میسر ہوا ہیہات تو پھر کیا دو دن اگر ان آنکھوں نے دنیا میں مری جاں کی ناز و اداؤں ...

مزید پڑھیے

نہ اس کے نام سے واقف نہ اس کی جا معلوم

نہ اس کے نام سے واقف نہ اس کی جا معلوم ملے گا دیکھیے کیوں کر وہ بت خدا معلوم جواب دیکھیے دل لے کے یہ کہا چپکے نہ ہو یہ اور کسی کو ترے سوا معلوم لگا کے زخم جگر پر جو پھر نمک چھڑکا تو اس میں ہم کو ہوا اور ہی مزا معلوم بدن پری کا ترے تن سے گو کہ گورا ہے ولے وہ چاہے کہ ایسا ہو گدگدا ...

مزید پڑھیے

یہ حسن ہے آہ یا قیامت کہ اک بھبھوکا بھبھک رہا ہے

یہ حسن ہے آہ یا قیامت کہ اک بھبھوکا بھبھک رہا ہے فلک پہ سورج بھی تھرتھرا کر منہ اس کا حیرت سے تک رہا ہے کھجوری چوٹی ادا میں موٹی جفا میں لمبی وفا میں چھوٹی ہے ایسی کھوٹی کہ دل ہر اک کا ہر ایک لٹ میں لٹک رہا ہے وہ نیچی کافر سیاہ پٹی کہ دل کے زخموں پہ باندھے پٹی پڑھی ہے جس نے کہ اس کی ...

مزید پڑھیے

گل زار ہے داغوں سے یہاں تن بدن اپنا

گل زار ہے داغوں سے یہاں تن بدن اپنا کچھ خوف خزاں کا نہیں رکھتا چمن اپنا اشکوں کے تسلسل نے چھپایا تن عریاں یہ آب رواں کا ہے نیا پیرہن اپنا کس طرح بنے ایسے سے انصاف تو ہے شرط یہ وضع مری دیکھو وہ دیکھو چلن اپنا انکار نہیں آپ کے گھر چلنے سے مجھ کو میں چلنے کو موجود جو چھوڑو چلن ...

مزید پڑھیے

جب میں سنا کہ یار کا دل مجھ سے ہٹ گیا

جب میں سنا کہ یار کا دل مجھ سے ہٹ گیا سنتے ہی اس کے میرا کلیجہ الٹ گیا فرہاد تھا تو شیریں کے غم میں موا غریب لیلیٰ کے غم میں آن کے مجنوں بھی لٹ گیا میں عشق کا جلا ہوں مرا کچھ نہیں علاج وہ پیڑ کیا ہرا ہو جو جڑ سے اکھٹ گیا اتنا کوئی کہے کہ دوانے پڑا ہے کیا جا دیکھ ابھی ادھر کوئی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2208 سے 6203