قومی زبان

بہار

گلشن عالم میں جب تشریف لاتی ہے بہار رنگ و بو کے حسن کیا کیا کچھ دکھاتی ہے بہار صبح کو لا کر نسیم دل کشا ہر شاخ پر تازہ تر کس کس طرح کے گل کھلاتی ہے بہار نونہالوں کی دکھا کر دم بدم نشو و نما جسم میں روح رواں کیا کیا بڑھاتی ہے بہار بلبلیں چہکارتی ہیں شاخ گل پر جا بجا بلبلیں کیا فی ...

مزید پڑھیے

ہولی

پھر آن کے عشرت کا مچا ڈھنگ زمیں پر اور عیش نے عرصہ ہے کیا تنگ زمیں پر ہر دل کو خوشی کا ہوا آہنگ زمیں پر ہوتا ہے کہیں راگ کہیں رنگ زمیں پر بجتے ہیں کہیں تال کہیں زنگ زمیں پر ہولی نے مچایا ہے عجب رنگ زمیں پر گھنگرو کی پڑی آن کے پھر کان میں جھنکار سارنگی ہوئی بین طنبوروں کی ...

مزید پڑھیے

برسات کی بہاریں

ہیں اس ہوا میں کیا کیا برسات کی بہاریں سبزوں کی لہلہاہٹ باغات کی بہاریں بوندوں کی جھمجھماوٹ قطرات کی بہاریں ہر بات کے تماشے ہر گھات کی بہاریں کیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں بادل ہوا کے اوپر ہو مست چھا رہے ہیں جھڑیوں کی مستیوں سے دھومیں مچا رہے ہیں پڑتے ہیں پانی ہر جا جل ...

مزید پڑھیے

نہ میں دل کو اب ہر مکاں بیچتا ہوں

نہ میں دل کو اب ہر مکاں بیچتا ہوں کوئی خوب رو لے تو ہاں بیچتا ہوں وہ مے جس کو سب بیچتے ہیں چھپا کر میں اس مے کو یارو عیاں بیچتا ہوں یہ دل جس کو کہتے ہیں عرش الٰہی سو اس دل کو یارو میں یاں بیچتا ہوں ذرا میری ہمت تو دیکھو عزیزو کہاں کی ہے جنس اور کہاں بیچتا ہوں لیے ہاتھ پر دل کو ...

مزید پڑھیے

گلے سے دل کے رہی یوں ہے زلف یار لپٹ

گلے سے دل کے رہی یوں ہے زلف یار لپٹ کہ جوں سپیرے کی گردن میں جائے مار لپٹ مزے اٹھاتے کمر بند کی طرح سے اگر کمر سے یار کی جاتے ہم ایک بار لپٹ ہمارے پاس وہ آیا تو کھول کر آغوش یہ چاہا جاویں ہم اس سے بہ انکسار لپٹ وہیں وہ دور سرک کر عتاب سے بولا ہمارے ساتھ نہ ہو کر تو بے قرار ...

مزید پڑھیے

کیا دن تھے وہ جو واں کرم دلبرانہ تھا

کیا دن تھے وہ جو واں کرم دلبرانہ تھا اپنا بھی اس طرف گزر عاشقانہ تھا مل بیٹھنے کے واسطے آپس میں ہر گھڑی تھا کچھ فریب واں تو ادھر کچھ بہانہ تھا چاہت ہماری تاڑتے ہیں واں کے تاڑ باز تس پر ہنوز خوب طرح دل لگا نہ تھا کیا کیا دلوں میں ہوتی تھی بن دیکھے بے کلی ہے کل کی بات حیف کہ ایسا ...

مزید پڑھیے

رہے جو شب کو ہم اس گل کے سات کوٹھے پر

رہے جو شب کو ہم اس گل کے سات کوٹھے پر تو کیا بہار سے گزری ہے رات کوٹھے پر یہ دھوم دھام رہی صبح تک اہا ہا ہا کسی کی اتری ہے جیسے برات کوٹھے پر مکاں جو عیش کا ہاتھ آیا غیر سے خالی پٹے کے چلنے لگے پھر تو ہات کوٹھے پر گرایا شور کیا گالیاں دیں دھوم مچی عجب طرح کی ہوئی واردات کوٹھے ...

مزید پڑھیے

ہر آن تمہارے چھپنے سے ایسا ہی اگر دکھ پائیں گے ہم

ہر آن تمہارے چھپنے سے ایسا ہی اگر دکھ پائیں گے ہم تو ہار کے اک دن اس کی بھی تدبیر کوئی ٹھہرائیں گے ہم بیزار کریں گے خاطر کو پہلے تو تمہاری چاہت سے پھر دل کو بھی کچھ منت سے کچھ ہیبت سے سمجھائیں گے ہم گر کہنا دل نے مان لیا اور رک بیٹھا تو بہتر ہے اور چین نہ لینے دیوے گا تو بھیس بدل ...

مزید پڑھیے

نہ مہ نے کوند بجلی کی نہ شعلے کا اجالا ہے

نہ مہ نے کوند بجلی کی نہ شعلے کا اجالا ہے کچھ اس گورے سے مکھڑے کا جھمکڑا ہی نرالا ہے وہ مکھڑا گل سا اور اس پر جو نارنجی دوشالہ ہے رخ خورشید نے گویا شفق سے سر نکالا ہے کن انکھیوں کی نگہ گپتی اشارت قہر چتون کے جو ووں دیکھا تو برچھی ہے جو یوں دیکھا تو بھالا ہے کہیں خورشید بھی چھپتا ...

مزید پڑھیے

کسی نے رات کہا اس کی دیکھ کر صورت

کسی نے رات کہا اس کی دیکھ کر صورت کہ میں غلام ہوں اس شکل کا بہر صورت ہیں آئنے کے بھی کیا طالع اب سکندر واہ کہ اس نگار کی دیکھے ہے ہر سحر صورت عجب بہار ہوئی کل تو وقت نظارہ جو میں ادھر کو ہوا اس نے کی ادھر صورت ادھر کو جب میں گیا اس نے لی ادھر کو پھیر پھرا میں اس نے پھرائی جدھر جدھر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2207 سے 6203