جھونپڑا
یہ تن جو ہے ہر اک کے اتارے کا جھونپڑا اس سے ہے اب بھی سب کے سہارے کا جھونپڑا اس سے ہے بادشہ کے نظارے کا جھونپڑا اس میں ہی ہے فقیر بچارے کا جھونپڑا اپنا نہ مول کا نہ اجارے کا جھونپڑا بابا یہ تن ہے دم کے گزارے کا جھونپڑا اس میں ہی بھولے بھالے اسی میں سیانے ہیں اس میں ہی ہوشیار اسی میں ...