قومی زبان

جھونپڑا

یہ تن جو ہے ہر اک کے اتارے کا جھونپڑا اس سے ہے اب بھی سب کے سہارے کا جھونپڑا اس سے ہے بادشہ کے نظارے کا جھونپڑا اس میں ہی ہے فقیر بچارے کا جھونپڑا اپنا نہ مول کا نہ اجارے کا جھونپڑا بابا یہ تن ہے دم کے گزارے کا جھونپڑا اس میں ہی بھولے بھالے اسی میں سیانے ہیں اس میں ہی ہوشیار اسی میں ...

مزید پڑھیے

شب برات

کیونکر کرے نہ اپنی نموداری شب برات چلپک چپاتی حلوے سے ہے بھاری شب برات زندوں کی ہے زباں کی مزیداری شب برات مردوں کی روح کی ہے مددگاری شب برات لگتی ہے سب کے دل کو غرض پیاری شب برات شکر کا جن کے حلوہ ہوا وہ تو پورے ہیں گڑ کا ہوا ہے جن کے وہ ان سے ادھورے ہیں شکر نہ گڑ کا جن کے وہ پرکٹ ...

مزید پڑھیے

ہولی

آ دھمکے عیش و طرب کیا کیا جب حسن دکھایا ہولی نے ہر آن خوشی کی دھوم ہوئی یوں لطف جتایا ہولی نے ہر خاطر کو خورسند کیا ہر دل کو لبھایا ہولی نے دف رنگیں نقش سنہری کا جس وقت بجایا ہولی نے بازار گلی اور کوچوں میں غل شور مچایا ہولی نے یا سوانگ کہوں یا رنگ کہوں یا حسن بتاؤں ہولی کا سب ...

مزید پڑھیے

دیوالی

ہر اک مکاں میں جلا پھر دیا دوالی کا ہر اک طرف کو اجالا ہوا دوالی کا سبھی کے دل میں سماں بھا گیا دوالی کا کسی کے دل کو مزا خوش لگا دوالی کا عجب بہار کا ہے دن بنا دوالی کا جہاں میں یارو عجب طرح کا ہے یہ تیوہار کسی نے نقد لیا اور کوئی کرے ہے ادھار کھلونے کھیلوں بتاشوں کا گرم ہے بازار ہر ...

مزید پڑھیے

چتون میں شرارت ہے اور سین بھی چنچل ہے

چتون میں شرارت ہے اور سین بھی چنچل ہے کافر تری نظروں میں کچھ اور ہی چھل بل ہے بالا بھی چمکتا ہے جگنو بھی دمکتا ہے بدھی کی لپٹ تس پر تعویذ کی ہیکل ہے گورا وہ گلا نازک اور پیٹ ملائی سا سینے کی صفائی بھی ایسی گویا مخمل ہے وہ حسن کے گلشن میں مغرور نہ ہو کیوں کر بڑھتی ہوئی ڈالی ہے ...

مزید پڑھیے

کھولی جو ٹک اے ہم نشیں اس دل ربا کی زلف کل

کھولی جو ٹک اے ہم نشیں اس دل ربا کی زلف کل کیا کیا جتائے خم کے خم کیا کیا دکھائے بل کے بل آتا جو باہر گھر سے وہ ہوتی ہمیں کیا کیا خوشی گر دیکھ لیتے ہم اسے پھر ایک دم یا ایک پل دن کو تو بیم فتنہ ہے ہم اس سے مل سکتے نہیں آتا ہے جس دم خواب میں جب دیکھتے ہیں بے خلل کیا بے بسی کی بات ہے ...

مزید پڑھیے

ہوئے خوش ہم ایک نگار سے ہوئے شاد اس کی بہار سے

ہوئے خوش ہم ایک نگار سے ہوئے شاد اس کی بہار سے کبھی شان سے کبھی آن سے کبھی ناز سے کبھی پیار سے ہوئی پیرہن سے بھی خوش دلی کلی دل کی اور بہت کھلی کبھی طرے سے کبھی گجرے سے کبھی بدھی سے کبھی ہار سے وہ کناری ان میں جو تھی گندھی اسے دیکھ کر بھی ہوئی خوشی کبھی نور سے کبھی لہر سے کبھی تاب ...

مزید پڑھیے

گئے ہم جو الفت کی واں راہ کرنے

گئے ہم جو الفت کی واں راہ کرنے ارادے سے چاہت کے آگاہ کرنے کہا اس نے آنا ہوا کس سبب سے کہا آپ کے دل کو ہم راہ کرنے بٹھایا اور اک چٹکی لی ایسی جس سے لگے منہ بنا ہم وہیں آہ کرنے جو یہ شکل دیکھی تو چٹکی بجا کر کہا یوں نظیرؔ اور لگا واہ کرنے میاں ایک چٹکی سے کی آہ رک کر اسی منہ سے آئے ...

مزید پڑھیے

یہ جو گل رو نگار ہنستے ہیں

یہ جو گل رو نگار ہنستے ہیں فتنہ گر ہیں ہزار ہنستے ہیں عرض بوسے کی سچ نہ جانو تم ہم تو اے گلعذار ہنستے ہیں دل کو دے مفت ہنستے ہیں ہم یوں جس طرح شرمسار ہنستے ہیں ہم جو کرتے ہیں عشق پیری میں خوبرو بار بار ہنستے ہیں جو قدیمی ہیں یار دوست نظیرؔ وہ بھی بے اختیار ہنستے ہیں

مزید پڑھیے

ہولی کی بہاریں

جب پھاگن رنگ جھمکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی اور دف کے شور کھڑکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی پریوں کے رنگ دمکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی خم، شیشے، جام، جھلکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی محبوب نشے میں چھکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی ہو ناچ رنگیلی پریوں کا بیٹھے ہوں گل رو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2206 سے 6203