چرائے نظریں کبھی مڑ کے دیکھتا بھی ہے
چرائے نظریں کبھی مڑ کے دیکھتا بھی ہے کہ تیر ترچھی نگاہوں کے پھینکتا بھی ہے عجیب شخص ہے لکھ کر پھر اپنے دل کا ورق نہ جانے کون سی وحشت میں موڑتا بھی ہے تم اس پہ چل کے مری ذات میں چلے آؤ یہ پل صراط تمہارے لیے کھلا بھی ہے سمجھ کے سوچ کے آنا کہ اس محبت میں جہاں سکون ہے اس میں تو رت جگا ...