قومی زبان

چرائے نظریں کبھی مڑ کے دیکھتا بھی ہے

چرائے نظریں کبھی مڑ کے دیکھتا بھی ہے کہ تیر ترچھی نگاہوں کے پھینکتا بھی ہے عجیب شخص ہے لکھ کر پھر اپنے دل کا ورق نہ جانے کون سی وحشت میں موڑتا بھی ہے تم اس پہ چل کے مری ذات میں چلے آؤ یہ پل صراط تمہارے لیے کھلا بھی ہے سمجھ کے سوچ کے آنا کہ اس محبت میں جہاں سکون ہے اس میں تو رت جگا ...

مزید پڑھیے

اس طرح ہم کو جا بہ جا کیجے

اس طرح ہم کو جا بہ جا کیجے اپنی یادوں میں مبتلا کیجے سب ہی مطلب کے یار ہیں جاناں کوئی اپنا نہیں ہے کیا کیجے عشق والوں کی شرط ایسی ہے اپنی صورت کو چاند سا کیجے فون پر بات خوب کر لی ہے اب تو ملنے کا حوصلہ کیجے کوئی تو حل ضرور نکلے گا تلخ موضوع پہ مشورہ کیجے زندگی کہتے اک تماشا ...

مزید پڑھیے

وہ شعر سن کے مرا ہو گیا دوانہ کیا

وہ شعر سن کے مرا ہو گیا دوانہ کیا میں سچ کہوں گا تو مانے گا یہ زمانہ کیا کبھی تو آنا ہے دنیا کے سامنے اس کو اب اس کو ڈھونڈھنے دیر و حرم میں جانا کیا سنا ہے کام چلاتے ہو تم بہانوں سے ادھار دو گے مجھے بھی کوئی بہانہ کیا تمہاری یادوں کی گرمی ہے سرد راتوں میں لحاف ایسے میں اب اوڑھنا ...

مزید پڑھیے

کھل گیا شاید بھرم اے دل جنوں کے راز کا

کھل گیا شاید بھرم اے دل جنوں کے راز کا بدلا بدلا سا نظر آتا ہے رخ دم ساز کا گونجتی ہے اب بھی کانوں میں صدائے بازگشت ٹوٹنا دل کا تھا اک نغمہ شکستہ ساز کا ماہ و انجم میں بھی اس کا حسن جلوہ ریز ہے آفتاب اک عکس ہے حسن کرشمہ ساز کا اک پری خانہ ہے یہ شہر حسیں لیکن یہاں کوئی چہرہ بھی نظر ...

مزید پڑھیے

سکوت لب کو شکستہ دلی سمجھتے ہیں

سکوت لب کو شکستہ دلی سمجھتے ہیں یہ کم نگاہ فریب خودی سمجھتے ہیں جو تیرگی میں بھٹکتے ہیں رہنما ہیں وہ جو روشنی ہے اسے تیرگی سمجھتے ہیں نظام کہنہ کا پڑھتے ہیں وہ قصیدہ پھر جو رقص موت کو بھی زندگی سمجھتے ہیں تبسم لب جاناں سے کھیلنے والے غم وفا کو غم زندگی سمجھتے ہیں سجائے جاتے ...

مزید پڑھیے

صبح درخشاں اپنے وطن میں خواب پریشاں اپنے وطن میں

صبح درخشاں اپنے وطن میں خواب پریشاں اپنے وطن میں کیف مسلسل رقص بہاراں جلوۂ خنداں اپنے وطن میں ڈوب رہی ہے نبض ہستی ٹوٹ رہا ہے سانس کا جادو لیل و نہار زیست یہی ہے درد ہے درماں اپنے وطن میں اہل جنوں کو فاقہ مستی اہل خرد کو عشرت ہستی دیکھ کے یہ توقیر انساں عقل ہے حیراں اپنے وطن ...

مزید پڑھیے

ہے درد میں ڈوبی ہوئی تحریر کی آواز

ہے درد میں ڈوبی ہوئی تحریر کی آواز وجدان کو چھو لیتی ہے تصویر کی آواز تنہائی میں آنکھوں سے نکل آتے ہیں آنسو گویا ہے فضا میں کسی دلگیر کی آواز دیوانۂ ہستی کے لیے ایک ہیں دونوں پازیب کی جھنکار کہ شمشیر کی آواز یاد آیا ہے جب سانحہ زندان بلا کا ابھری در و دیوار سے زنجیر کی آواز لگ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2201 سے 6203