کیا وصل کے اقرار پہ مجھ کو ہو خوشی آج
کیا وصل کے اقرار پہ مجھ کو ہو خوشی آج اس کی بھی یہ صورت ہے کبھی کل ہے کبھی آج وہ ہاتھ میں تلوار لئے سر پہ کھڑے ہیں مرنے نہیں دیتی مجھے مرنے کی خوشی آج ملنا جو نہ ہو تم کو تو کہہ دو نہ ملیں گے یہ کیا کبھی پرسوں ہے کبھی کل ہے کبھی آج کیا بات ہے چھپتی ہی نہیں بات ہماری جو ان سے کہی تھی ...