قومی زبان

کیا وصل کے اقرار پہ مجھ کو ہو خوشی آج

کیا وصل کے اقرار پہ مجھ کو ہو خوشی آج اس کی بھی یہ صورت ہے کبھی کل ہے کبھی آج وہ ہاتھ میں تلوار لئے سر پہ کھڑے ہیں مرنے نہیں دیتی مجھے مرنے کی خوشی آج ملنا جو نہ ہو تم کو تو کہہ دو نہ ملیں گے یہ کیا کبھی پرسوں ہے کبھی کل ہے کبھی آج کیا بات ہے چھپتی ہی نہیں بات ہماری جو ان سے کہی تھی ...

مزید پڑھیے

یہ میرے پاس جو چپ چاپ آئے بیٹھے ہیں

یہ میرے پاس جو چپ چاپ آئے بیٹھے ہیں ہزار فتنۂ محشر اٹھائے بیٹھے ہیں عدو سے بزم عدو میں لڑا رہے ہو نگاہ نہیں خیال کہ اپنے پرائے بیٹھے ہیں کہیں نہ ان کی نظر سے نظر کسی کی لڑے وہ اس لحاظ سے آنکھیں جھکائے بیٹھے ہیں کوئی حسیں نظر آیا یہ بے قرار ہوئے جناب نوحؔ کو ہم آزمائے بیٹھے ہیں

مزید پڑھیے

مرا دل دیکھو اب یا میرے دشمن کا جگر دیکھو

مرا دل دیکھو اب یا میرے دشمن کا جگر دیکھو تمہارے بس میں آنکھیں ہیں جدھر جاؤ ادھر دیکھو قیامت میں نہ میرے منہ سے پھر فریاد نکلے گی اگر یہ کہہ دیا اس نے یہاں آؤ ادھر دیکھو تمہارے نام پر مر مٹنے والا کون ہے میں ہوں اگر سوچو اگر سمجھو اگر مانو اگر دیکھو مرے دل کو چرا کر پھر چراؤ ...

مزید پڑھیے

ہر صدائے عشق میں اک راز ہے

ہر صدائے عشق میں اک راز ہے نالۂ دل غیب کی آواز ہے عشق نے دل کو پکارا اس طرح میں یہ سمجھا آپ کی آواز ہے ان سے مل کر میں انہیں میں کھو گیا اور جو کچھ ہے وہ آگے راز ہے حسن کے جلووں کو اپنے دل میں دیکھ لن ترانی دور کی آواز ہے وسعت تنظیم قدرت دیکھنا ایک دل میں دو جہاں کا راز ہے

مزید پڑھیے

میرے جینے کا طور کچھ بھی نہیں

میرے جینے کا طور کچھ بھی نہیں سانس چلتی ہے اور کچھ بھی نہیں دل لگا کر پھنسے ہم آفت میں بات اتنی ہے اور کچھ بھی نہیں آپ ہیں آپ آپ سب کچھ ہیں اور میں اور اور کچھ بھی نہیں ہم اگر ہیں تو جھیل ڈالیں گے دل اگر ہے تو جور کچھ بھی نہیں شعر لکھتے ہیں شعر پڑھتے ہیں نوحؔ میں وصف اور کچھ بھی ...

مزید پڑھیے

عشق میں مجھ کو بگڑ کر اب سنورنا آ گیا

عشق میں مجھ کو بگڑ کر اب سنورنا آ گیا ہو گیا ناکام لیکن کام کرنا آ گیا یہ اگر سچ ہے کہ مجھ کو عشق کرنا آ گیا تو سمجھ لو روز جینا روز مرنا آ گیا دعویٰ عشق و وفا پر مجھ کو مرنا آ گیا کہہ گزرنے کی جگہ اب کر گزرنا آ گیا ورطۂ دریائے غم نے ایسے غوطے دے دیے ڈوبنا پھر ڈوب کر مجھ کو ابھرنا آ ...

مزید پڑھیے

میری تلاش مت کرو

مری تلاش مت کرو نہ مجھ کو پا سکو گے تم جہاں پہنچ گیا ہوں میں وہاں نہ آ سکو گے تم تمہارے جسم و جاں دل و نظر میں ہوں تمہارے ساتھ ساتھ زندگی کے ہر سفر میں ہوں تم اپنے آپ سے ابھی نہیں ہو روشناس تاکہ دیکھتے مجھے خود اپنے آپ میں کبھی مگر تم اپنے آپ کو نہ دیکھ پاؤ گے ابھی ابھی نہ اپنے آپ سے ...

مزید پڑھیے

سیلف پورٹریٹ

دیکھا ہے کسی نے اسے کہیں آدھے سر میں الجھے الجھے اجلے بال سانولے رنگ کے چہرے پر بھی اجلے بالوں کا بھونچال اس کی صورت کبھی کبھی ملگجی شام سی کبھی سحر نورانی ہے اندھیارے اجیالے کی یہ صورت فن لا فانی ہے پیشانی کے آئینے پر مر مٹتے لاکھوں آکاش دیوانی دیوانی آنکھیں اور بہت بے صبر ...

مزید پڑھیے

آپ جن کے قریب ہوتے ہیں

آپ جن کے قریب ہوتے ہیں وہ بڑے خوش نصیب ہوتے ہیں جب طبیعت کسی پر آتی ہے موت کے دن قریب ہوتے ہیں مجھ سے ملنا پھر آپ کا ملنا آپ کس کو نصیب ہوتے ہیں ظلم سہہ کر جو اف نہیں کرتے ان کے دل بھی عجیب ہوتے ہیں عشق میں اور کچھ نہیں ملتا سیکڑوں غم نصیب ہوتے ہیں نوحؔ کی قدر کوئی کیا جانے کہیں ...

مزید پڑھیے

کوئی اس ستم گر کو آگاہ کر دے کہ باز آئے آزار دینے سے جھٹ پٹ

کوئی اس ستم گر کو آگاہ کر دے کہ باز آئے آزار دینے سے جھٹ پٹ ادھر کی ادھر آج ہوتی ہے دنیا مریض محبت بدلتا ہے کروٹ کبھی پردہ داری کبھی خود نمائی کبھی کچھ رکاوٹ کبھی کچھ لگاوٹ تمہاری یہ چاروں ادائیں غضب ہیں یہ چاروں کریں گی ہزاروں کو چوپٹ قیامت نہ اٹھے کہ اٹھے جہاں میں مگر بالیقیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2148 سے 6203