قومی زبان

بے کراں رات کے سناٹے میں

تیرے بستر پہ مری جان کبھی بے کراں رات کے سناٹے میں جذبۂ شوق سے ہو جاتے ہیں اعضا مدہوش اور لذت کی گراں باری سے ذہن بن جاتا ہے دلدل کسی ویرانے کی اور کہیں اس کے قریب نیند، آغاز زمستاں کے پرندے کی طرح خوف دل میں کسی موہوم شکاری کا لیے اپنے پر تولتی ہے، چیختی ہے بے کراں رات کے سناٹے ...

مزید پڑھیے

دوری

مجھے موت آئے گی، مر جاؤں گا میں، تجھے موت آئے گی، مر جائے گی تو، وہ پہلی شب مہ شب ماہ دونیم بن جائے گی جس طرح ساز کہنہ کے تار شکستہ کے دونوں سرے دور افق کے کناروں کے مانند بس دور ہی دور سے تھرتھراتے ہیں اور پاس آتے نہیں ہیں نہ وہ راز کی بات ہونٹوں پہ لاتے ہیں جس نے مغنی کو دور زماں و ...

مزید پڑھیے

دل مرے صحرا نورد پیر دل

نغمہ در جاں رقص برپا خندہ بر لب دل تمناؤں کے بے پایاں الاؤ کے قریب دل مرے صحرا نورد پیر دل ریگ کے دل شاد شہری ریگ تو اور ریگ ہی تیری طلب ریگ کی نکہت ترے پیکر میں تیری جاں میں ہے ریگ صبح عید کے مانند زرتاب و جلیل ریگ صدیوں کا جمال جشن آدم پر بچھڑ کر ملنے والوں کا وصال شوق کے لمحات کے ...

مزید پڑھیے

انتقام

اس کا چہرہ، اس کے خد و خال یاد آتے نہیں اک شبستاں یاد ہے اک برہنہ جسم آتشداں کے پاس فرش پر قالین، قالینوں پہ سیج دھات اور پتھر کے بت گوشۂ دیوار میں ہنستے ہوئے! اور آتشداں میں انگاروں کا شور ان بتوں کی بے حسی پر خشمگیں اجلی اجلی اونچی دیواروں پہ عکس ان فرنگی حاکموں کی یادگار جن کی ...

مزید پڑھیے

(3) حسن کوزہ گر

جہاں زاد وہ حلب کی کارواں سرا کا حوض، رات وہ سکوت جس میں ایک دوسرے سے ہم کنار تیرتے رہے محیط جس طرح ہو دائرے کے گرد حلقہ زن تمام رات تیرتے رہے تھے ہم ہم ایک دوسرے کے جسم و جاں سے لگ کے تیرتے رہے تھے ایک شاد کام خوف سے کہ جیسے پانی آنسوؤں میں تیرتا رہے ہم ایک دوسرے سے مطمئن زوال عمر ...

مزید پڑھیے

اجنبی عورت

ایشیا کے دور افتادہ شبستانوں میں بھی میرے خوابوں کا کوئی روماں نہیں! کاش اک دیوار ظلم میرے ان کے درمیاں حائل نہ ہو! یہ عمارات قدیم یہ خیاباں، یہ چمن، یہ لالہ زار، چاندنی میں نوحہ خواں اجنبی کے دست غارت گر سے ہیں زندگی کے ان نہاں خانوں میں بھی میرے خوابوں کا کوئی روماں نہیں! کاش ...

مزید پڑھیے

دریچے کے قریب

جاگ اے شمع شبستان وصال محفل خواب کے اس فرش طرب ناک سے جاگ لذت شب سے ترا جسم ابھی چور سہی آ مری جان مرے پاس دریچے کے قریب دیکھ کس پیار سے انوار سحر چومتے ہیں مسجد شہر کے میناروں کو جن کی رفعت سے مجھے اپنی برسوں کی تمنا کا خیال آتا ہے سیم گوں ہاتھوں سے اے جان ذرا کھول مے رنگ جنوں خیز ...

مزید پڑھیے

آگ کے پاس

پیر واماندہ کوئی کوٹ پہ محنت کی سیاہی کے نشاں نوجواں بیٹے کی گردن کی چمک دیکھتا ہوں اک رقابت کی سیہ لہر بہت تیز مرے سینۂ سوزاں سے گزر جاتی ہے جس طرح طاق پہ رکھے ہوئے گل داں کی مس و سیم کے کاسوں کی چمک اور گلو الجھے ہوئے تاروں سے بھر جاتا ہے کوئلے آگ میں جلتے ہوئے کن یادوں کی کس رات ...

مزید پڑھیے

میرے بھی ہیں کچھ خواب

اے عشق ازل گیر و ابد تاب میرے بھی ہیں کچھ خواب میرے بھی ہیں کچھ خواب اس دور سے اس دور کے سوکھے ہوئے دریاؤں سے پھیلے ہوئے صحراؤں سے اور شہروں کے ویرانوں سے ویرانہ گروں سے میں حزیں اور اداس! اے عشق ازل گیر و ابد تاب میرے بھی ہیں کچھ خواب! اے عشق ازل گیر و ابد تاب میرے بھی ہیں کچھ ...

مزید پڑھیے

وزیرے چنیں

تو جب سات سو آٹھویں رات آئی تو کہنے لگی شہرزاد: اے جواں بخت شیراز میں ایک رہتا تھا نائی؛ وہ نائی تو تھا ہی مگر اس کو بخشا تھا قدرت نے اک اور نادر گراں تر ہنر بھی کہ جب بھی کسی مرد دانا کا ذہن رسا زنگ آلودہ ہونے کو آتا تو نائی کو جا کر دکھاتا کہ نائی دماغوں کا مشہور ماہر تھا وہ کاسۂ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2138 سے 6203