قومی زبان

تعارف

اجل، ان سے مل، کہ یہ سادہ دل نہ اہل صلوٰۃ اور نہ اہل شراب، نہ اہل ادب اور نہ اہل حساب، نا اہل کتاب نہ اہل کتاب اور نہ اہل مشین نہ اہل خلا اور نہ اہل زمین فقط بے یقین اجل، ان سے مت کر حجاب اجل، ان سے مل! بڑھو، تم بھی آگے بڑھو اجل سے ملو، بڑھو، نو تونگر گداؤ نہ کشکول دریوزہ گردی ...

مزید پڑھیے

افسانۂ شہر

شہر کے شہر کا افسانہ وہ خوش فہم مگر سادہ مسافر کہ جنہیں عشق کی للکار کے رہزن نے کہا: آؤ! دکھلائیں تمہیں ایک در بستہ کے اسرار کا خواب شہر کے شہر کا افسانہ وہ دل جن کے بیاباں میں کسی قطرۂ گم گشتہ کے ناگاہ لرزنے کی صدا نے یہ کہا: ''آؤ دکھلائیں تمہیں صبح کے ہونٹوں پہ تبسم کا سراب!'' شہر ...

مزید پڑھیے

ستارے

نکل کر جوئے نغمہ خلد زار ماہ و انجم سے فضا کی وسعتوں میں ہے رواں آہستہ آہستہ بہ سوئے نوحہ آباد جہاں آہستہ آہستہ نکل کر آ رہی ہے اک گلستان ترنم سے ستارے اپنے میٹھے مدھ بھرے ہلکے تبسم سے کیے جاتے ہیں فطرت کو جواں آہستہ آہستہ سناتے ہیں اسے اک داستاں آہستہ آہستہ دیار زندگی مدہوش ہے ...

مزید پڑھیے

آ لگی ہے ریت

آ لگی ہے ریت دیواروں کے ساتھ سارے دروازوں کے ساتھ سرخ اینٹوں کی چھتوں پر رینگتی ہے نیلی نیلی کھڑکیوں سے جھانکتی ہے ریت ریت رک جا کھیل طے کر لیں سنہرے تاش کے پتوں سے درزوں روزنوں کو بند کر لیں ریت رک جا سست برساتیں کہ جن پر دوڑ پڑنا جن کو دانتوں میں چبا لینا کوئی مشکل نہ تھا تو نے ...

مزید پڑھیے

اندھا کباڑی

شہر کے گوشوں میں ہیں بکھرے ہوئے پا شکستہ سر بریدہ خواب جن سے شہر والے بے خبر! گھومتا ہوں شہر کے گوشوں میں روز و شب کہ ان کو جمع کر لوں دل کی بھٹی میں تپاؤں جس سے چھٹ جائے پرانا میل ان کے دست و پا پھر سے ابھر آئیں چمک اٹھیں لب و رخسار و گردن جیسے نو آراستہ دولہوں کے دل کی حسرتیں پھر سے ...

مزید پڑھیے

ابو لہب کی شادی

شب زفاف ابو لہب تھی مگر خدایا وہ کیسی شب تھی ابو لہب کی دلہن جب آئی تو سر پہ ایندھن گلے میں سانپوں کے ہار لائی نہ اس کو مشاطگی سے مطلب نہ مانگ غازہ نہ رنگ روغن گلے میں سانپوں کے ہار اس کے تو سر پہ ایندھن خدایا کیسی شب زفاف ابو لہب تھی یہ دیکھتے ہی ہجوم بپھرا بھڑک اٹھے یوں غضب کہ ...

مزید پڑھیے

سبا ویراں

سلیماں سر بہ زانو اور سبا ویراں سبا ویراں، سبا آسیب کا مسکن سبا آلام کا انبار بے پایاں! گیاہ و سبزہ و گل سے جہاں خالی ہوائیں تشنۂ باراں، طیور اس دشت کے منقار زیر پر تو سرمہ ور گلو انساں سلیماں سر بہ زانو اور سبا ویراں! سلیماں سر بہ زانو ترش رو، غمگیں، پریشاں مو جہانگیری، ...

مزید پڑھیے

کون سی الجھن کو سلجھاتے ہیں ہم؟

لب بیاباں، بوسے بے جاں کون سی الجھن کو سلجھاتے ہیں ہم؟ جسم کی یہ کار گاہیں جن کا ہیزم آپ بن جاتے ہیں ہم! نیم شب اور شہر خواب آلودہ، ہمسائے کہ جیسے دزد شب گرداں کوئی! شام سے تھے حسرتوں کے بندۂ بے دام ہم پی رہے تھے جام پر ہر جام ہم یہ سمجھ کر جرعۂ پنہاں کوئی شاید آخر ابتدائے راز کا ...

مزید پڑھیے

بادل

چھائے ہوئے ہیں چار طرف پارہ ہائے ابر آغوش میں لیے ہوئے دنیائے آب و رنگ میرے لیے ہے ان کی گرج میں سرود و چنگ پیغام انبساط ہے مجھ کو صدائے ابر اٹھی ہے ہلکے ہلکے سروں میں نوائے ابر اور قطر ہائے آب بجاتے ہیں جل ترنگ گہرائیوں میں روح کی جاگی ہے ہر امنگ دل میں اتر رہے ہیں مرے نغم ہائے ...

مزید پڑھیے

(1) حسن کوزہ گر

جہاں زاد نیچے گلی میں ترے در کے آگے یہ میں سوختہ سر حسن کوزہ گر ہوں! تجھے صبح بازار میں بوڑھے عطار یوسف کی دکان پر میں نے دیکھا تو تیری نگاہوں میں وہ تابناکی تھی میں جس کی حسرت میں نو سال دیوانہ پھرتا رہا ہوں جہاں زاد نو سال دیوانہ پھرتا رہا ہوں! یہ وہ دور تھا جس میں میں نے کبھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2137 سے 6203