جانے کیسے میں سدا بے بال و پر اڑتا رہا
جانے کیسے میں سدا بے بال و پر اڑتا رہا دوستوں کے شہر میں مثل خبر اڑتا رہا عمر کی یہ تیز گامی اور پھر تیرا خیال ایک سایہ سا پس گرد سفر اڑتا رہا کیسے کیسے امتحاں تو نے لئے اے زندگی پھر بھی میں بازو شکستہ عمر بھر اڑتا رہا جانے کیا سمجھا کے اس کو لے گئی پاگل ہوا دیر تک پتہ شجر سے ٹوٹ ...