قومی زبان

جانے کیسے میں سدا بے بال و پر اڑتا رہا

جانے کیسے میں سدا بے بال و پر اڑتا رہا دوستوں کے شہر میں مثل خبر اڑتا رہا عمر کی یہ تیز گامی اور پھر تیرا خیال ایک سایہ سا پس گرد سفر اڑتا رہا کیسے کیسے امتحاں تو نے لئے اے زندگی پھر بھی میں بازو شکستہ عمر بھر اڑتا رہا جانے کیا سمجھا کے اس کو لے گئی پاگل ہوا دیر تک پتہ شجر سے ٹوٹ ...

مزید پڑھیے

کبھی سکوں تو کبھی اضطراب بھی جھیلا

کبھی سکوں تو کبھی اضطراب بھی جھیلا کھلی جو آنکھ تو انجام خواب بھی جھیلا قدم قدم پہ پرانے سبق بھی یاد آئے قدم قدم پہ بدلتا نصاب بھی جھیلا بیاض دل کے سنہرے حروف بھی چومے کتاب جاں پہ لکھا انتساب بھی جھیلا ہمارا حق بھی مسلم تھا قطرے قطرے پر ہمیں نے تشنہ لبی کا عذاب بھی جھیلا کبھی ...

مزید پڑھیے

ہر ایک لمحہ تری یاد میں بسر کرنا

ہر ایک لمحہ تری یاد میں بسر کرنا ہمیں بھی آ گیا اب خود کو معتبر کرنا سدا سے ایک صدا آ رہی ہے کانوں میں عظیم کام ہے لوگوں کے دل میں گھر کرنا ہیں یوں تو گھر میں بھی خدشات زندگی کو مگر عجیب لگتا ہے اس دور میں سفر کرنا کہیں شہادتیں پائیں کہیں بنے غازی ہر ایک معرکہ آتا ہے ہم کو سر ...

مزید پڑھیے

رہے دریائے سخن یوں ہی رواں میرے بعد

رہے دریائے سخن یوں ہی رواں میرے بعد بانجھ ہو جائے نہ غالب کی زباں میرے بعد کون دے گا انہیں خوشبو کا جہاں میرے بعد کس سے لپٹیں گے یہ نازک بدناں میرے بعد کو بہ کو پھرتی ہے اب چاروں طرف آوارہ بوئے گل کو نہ ملی جائے اماں میرے بعد لاکھ میں ننگ سخن ہوں پہ یقیں ہے مجھ کو لوگ ڈھونڈیں گے ...

مزید پڑھیے

آئنے میں پس منظر کا ابھرنا کیسا

آئنے میں پس منظر کا ابھرنا کیسا جھیل جیسی تری آنکھوں میں یہ جھرنا کیسا عمر بھر ساتھ رہو تو کہیں مہکے آنگن کسی خوشبو کی طرح چھو کے گزرنا کیسا وہ تو اک خواہش ناکام تھی جو چیخ پڑی بے سبب اپنی ہی آواز سے ڈرنا کیسا گرد شیشوں سے ہٹاؤ تو کوئی بات بنے اندھے آئینوں کے آگے یہ سنورنا ...

مزید پڑھیے

زمیں پہ مکتب آدم کا اک نصاب ہے عشق

زمیں پہ مکتب آدم کا اک نصاب ہے عشق لکھی گئی جو ازل میں وہی کتاب ہے عشق حدود ذات کے اندر بھی شور و شر اس کا حدود ذات کے باہر بھی اضطراب ہے عشق جنوں کی تہ سے جو ابھرے تو گوہر نایاب ہوس کی موج پہ آئے تو اک حباب ہے عشق کسی سوال کی صورت ہے کائنات تمام اور اس سوال کا آسان سا جواب ہے ...

مزید پڑھیے

اپنے ہونے کا ہر اک لمحہ پتا دیتی ہوئی

اپنے ہونے کا ہر اک لمحہ پتا دیتی ہوئی یاد ہیں مجھ کو وہ دو آنکھیں صدا دیتی ہوئی عمر بھر کی حسرتیں لادے تھکی ماندی حیات جا رہی ہے جانے کس کس کو دعا دیتی ہوئی دل کا ہر اک حکم سر آنکھوں پہ لیکن کیا کریں یہ جو ہے اک عقل اپنا فیصلہ دیتی ہوئی دیکھتے ہی دیکھتے اڑنے لگی بستی میں خاک اک ...

مزید پڑھیے

مری آہ و فغاں سے بے سماعت ہو گئے ہو کیا

مری آہ و فغاں سے بے سماعت ہو گئے ہو کیا ابھی تو ابتدا کی ہے ابھی سے سو گئے ہو کیا بھرے بازار میں تنہائیوں کو ڈھونڈنے والو مرے ذوق جنوں میں تم بھی شامل ہو گئے ہو کیا وہ گل جس کے لئے یہ آسماں موسم بدلتا ہے اسی کا بیج میری خاک جاں میں بو گئے ہو کیا کوئی آواز کیوں دیتے نہیں سانسوں کے ...

مزید پڑھیے

ابھی انقلاب کہاں ہوا

جو بدل بھی جائیں سیاستیں بنیں ملتوں سے ریاستیں یہ تو ذہن کی ہیں نفاستیں ابھی انقلاب کہاں ہوا ہوئی بے وطن کئی ملتیں سہی فرد فرد نے ذلتیں یہ حکومتوں کی ہیں علتیں ابھی انقلاب کہاں ہوا وہی مفلسوں کی روایتیں وہی منعموں کی عنایتیں وہی کار خیر کی غایتیں ابھی انقلاب کہاں ہوا وہی بعد ...

مزید پڑھیے

پرندے

باغوں میں جب اشجار پہ گاتے ہیں پرندے موسم کا کوئی جشن مناتے ہیں پرندے کہسار پہ جب چلتی ہیں یخ بستہ ہوائیں مل کر سوئے میداں اتر آتے ہیں پرندے اڑ جاتے ہیں پھر وادیٔ کہسار کی جانب میداں میں کڑی دھوپ جو پاتے ہیں پرندے چنتے ہیں مکاں پھونس کے بے خانماں کچھ لوگ یا گھونسلے تنکوں کے بناتے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 213 سے 6203