قومی زبان

یہ خواب سارے

یہ خواب سارے ابھی جو آنکھوں میں سو رہے ہیں یہ جاگ اٹھے تو کیا کرو گے تو کیا کرو گے جو خواب سارے تمہاری آنکھوں سے باہر آ کر تخئیل کی بیکراں فضا میں کسی سنہرے حسین لمحے کو قید کر لیں کسی کی زلفوں میں پھول ٹانکے کس کے ہونٹوں پہ گنگنائیں کسی کے شانوں پہ ہاتھ رکھ دیں کسی کے پہلو میں ...

مزید پڑھیے

شہر آشوب لکھوں شہر تمنا لکھوں

شہر آشوب لکھوں شہر تمنا لکھوں اے دیار غم جاناں میں تجھے کیا لکھوں نسبتیں ساری ادھوری ہیں تو رشتہ کیسا بن کے وہ موج اٹھے خود کو میں دریا لکھوں بے حسی اتنی کہ میں خود سے بھی بیگانہ رہوں درد اتنا ہے کہ بیگانوں کو اپنا لکھوں حسن کے روپ ہیں اتنے کہ قلم حیراں ہے عشق میں ڈوب ہی جاؤں ...

مزید پڑھیے

میں جب بھی ترے شہر خوش آثار سے نکلا

میں جب بھی ترے شہر خوش آثار سے نکلا اک قبر کا ٹکڑا بھی فلک زار سے نکلا ہر وار میں مضمر تری حکمت ہے سپاہی ہر جیت کا مژدہ تری تلوار سے نکلا پھر اپنی ہی ہیبت میں گرفتار ہوا میں پھر کوئی درندہ مرے پندار سے نکلا یہ کس نے سفینے کو نکالا ہے بھنور سے یہ کون شناور ہے جو منجدھار سے ...

مزید پڑھیے

ایک ہی گھر میں رکھ دئے کس نے جدا جدا چراغ

ایک ہی گھر میں رکھ دئے کس نے جدا جدا چراغ تیرے لئے جلا چراغ میرے لئے بجھا چراغ عشق و طلب کی راہ میں باد ہوس بھی تیز تھی میں نے جلایا رات بھر کر کے خدا خدا چراغ صبح ہوئی تو آفتاب ساری بساط الٹ گیا رات اسی مقام پر رونق بزم تھا چراغ وقت سحر جو پوچھ لے کوئی تو کیا بتاؤں گا طاق جنوں پہ ...

مزید پڑھیے

مڑ کے دیکھوں تو نہیں کوئی مگر لگتا ہے

مڑ کے دیکھوں تو نہیں کوئی مگر لگتا ہے ایک سایہ سا پس گرد سفر لگتا ہے کان دھرتا ہوں تو ہوتی ہے سماعت مجروح اپنی ہی خواہش بے باک سے ڈر لگتا ہے اس تماشے سے نکل پاؤں تو گھر بھی دیکھوں یہ تماشہ جو سر راہ گزر لگتا ہے نیند آ جائے تو پھر دھوپ نہ سایہ کوئی پاؤں تھک جائیں تو پردیس بھی گھر ...

مزید پڑھیے

عشق نے کر دیا کیا کیا سخن آرا ترے نام

عشق نے کر دیا کیا کیا سخن آرا ترے نام وہ جو گاتا تھا فلک پر وہ ستارا ترے نام اسی فیاضی کا سایہ ہے مرے لفظوں پر جس نے بخشا ہے سمرقند و بخارا ترے نام اور میں دیتا بھی کیا اپنے جنوں کی قیمت کر دیا موسم گل سارے کا سارا ترے نام چشم گریاں کی قسم دیدۂ ویراں کی قسم وادئ شوق کا ہر ایک ...

مزید پڑھیے

جسم و جاں رکھتا ہوں لیکن یہ حوالہ کچھ نہیں

جسم و جاں رکھتا ہوں لیکن یہ حوالہ کچھ نہیں آپ کی نسبت ہے سب کچھ میرا اپنا کچھ نہیں عشق جس کوچہ میں رہتا ہے وہ کوچہ ہے بہشت عقل جس دنیا میں رہتی ہے وہ دنیا کچھ نہیں کتنے سادہ لوح تھے اگلے زمانے کے وہ لوگ کہہ دیا جو دل میں آیا دل میں رکھا کچھ نہیں دیکھنے والا کوئی ہوتا تو ہم بھی ...

مزید پڑھیے

مری آنکھوں میں جو تھوڑی سی نمی رہ گئی ہے

مری آنکھوں میں جو تھوڑی سی نمی رہ گئی ہے بس یہی عشق کی سوغات بچی رہ گئی ہے وقت کے ساتھ ہی گل ہو گئے وحشت کے چراغ اک سیاہی ہے جو طاقوں پہ ابھی رہ گئی ہے اور کچھ دیر ٹھہر اے مری بینائی کہ میں دیکھ لوں روح میں جو بخیہ گری رہ گئی ہے آئینو تم ہی کہو کیا ہے مرے ہونٹوں پر لوگ کہتے ہیں کہ ...

مزید پڑھیے

زمیں تھی سخت مجھے کوئی نقش پا نہ ملا

زمیں تھی سخت مجھے کوئی نقش پا نہ ملا تری گلی سے جو نکلا تو راستہ نہ ملا دعا تھی چیخ تھی یا احتجاج تھا کیا تھا ہلے تھے ہونٹ مگر حرف مدعا نہ ملا بدن کی قید سے چھوٹا تو لوگ پہچانے تمام عمر کسی کو مرا پتا نہ ملا میں چاہتا تھا کہ تیور بھی دیکھ لے میرے غنیم جب بھی ملا مجھ سے غائبانہ ...

مزید پڑھیے

قناعت عمر بھر کی گھر کے بام و در پہ رکھی تھی

قناعت عمر بھر کی گھر کے بام و در پہ رکھی تھی میں زیر آسماں تھا دھوپ میرے سر پہ رکھی تھی تعجب کیا جو اب بھی ڈھونڈتے ہیں سنگ در کوئی کہ ہم نے ابتدا تہذیب کی پتھر پہ رکھی تھی وہی چہرے لہو کی گرم بازاری میں شامل تھے جنہوں نے اپنی گردن بڑھ کے خود خنجر پہ رکھی تھی میں عاشق ہوں بدل ڈالا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 212 سے 6203