قومی زبان

کیوں کرتے ہو اعتبار میرا

کیوں کرتے ہو اعتبار میرا معلوم ہے تم کو پیار میرا یہ خیر ہے آج کچھ تو کہیے کیوں ذکر ہے بار بار میرا اک بات میں فیصلہ ہے تم سے رنجیدہ ہے دل ہزار میرا تیرا نہیں اعتبار مجھ کو تو بھی نہ کر اعتبار میرا شاید کہ نہ ہو تم اپنے بس کے دل پر تو ہے اختیار میرا مجھ کو نہ ہو رشک غیر ممکن تو ...

مزید پڑھیے

چھیڑ منظور ہے کیا عاشق دلگیر کے ساتھ

چھیڑ منظور ہے کیا عاشق دلگیر کے ساتھ خط بھی آیا کبھی تو غیر کی تحریر کے ساتھ گو کہ اقرار غلط تھا مگر اک تھی تسکین اب تو انکار ہے کچھ اور ہی تقریر کے ساتھ دور ایسے نہ کھیچو پاس بھی آؤگے کبھی وہ گئے دن جو یہ نالے نہ تھے تاثیر کے ساتھ پیچ قسمت کا ہو تو کیا کرے اس میں کوئی دل کو ...

مزید پڑھیے

ہلتی ہے زلف جنبش گردن کے ساتھ ساتھ

ہلتی ہے زلف جنبش گردن کے ساتھ ساتھ ناگن بھی ہے لگی ہوئی رہزن کے ساتھ ساتھ کس کی کدورتوں سے یہ مٹی خراب ہے کس کا غبار ہے ترے دامن کے ساتھ ساتھ اٹھا تھا منہ چھپائے ہوئے میں ہی صبح کو جاتا تھا میں ہی رات کو دشمن کے ساتھ ساتھ کوچے میں اس صنم کے خدائی کا لطف ہے ناحق پھرا میں شیخ و ...

مزید پڑھیے

یہ عجب تم نے نکالا سونا

یہ عجب تم نے نکالا سونا رات کا جاگنا دن کا سونا بخت خفتہ سے تو امید نہیں ساتھ ہوگا کبھی اس کا سونا کس قدر ہجر میں بے ہوشی ہے جاگنا بھی ہے ہمارا سونا مجھ سے تنگ آ کے یہ بولے شب وصل یہ ہی تم ہو تو نہ ہوگا سونا بس دم صبح ستاؤ نہ مجھے یاد وہ ضد ہے وہ اپنا سونا لے کے انگڑائی لپٹ جانا ...

مزید پڑھیے

صدمے یوں غیر پر نہیں آتے

صدمے یوں غیر پر نہیں آتے تمہیں جور اس قدر نہیں آتے پھر تسلی کی کون سی صورت خواب میں بھی نظر نہیں آتے آتے ہیں جب کہ ناامید ہوں ہم کبھی وہ وعدے پر نہیں آتے روز کے انتظار نے مارا صاف کہہ دو اگر نہیں آتے نہیں معلوم اس کا کیا باعث روز کہتے ہیں پر نہیں آتے اور تم کس کے گھر نہیں ...

مزید پڑھیے

یاں کسے غم ہے جو گریہ نے اثر چھوڑ دیا

یاں کسے غم ہے جو گریہ نے اثر چھوڑ دیا ہم نے تو شغل ہی اے دیدۂ تر چھوڑ دیا دل بے تاب کا کچھ دھیان نہ آیا اس دم ہائے کیوں ہم نے اسے وقت سحر چھوڑ دیا کیا ستائے نہیں جاتے ہیں ولیکن چپ ہیں شکوہ کرنا ترا اے رشک قمر چھوڑ دیا دم رخصت کبھی کچھ دل کی تمنا نہ کہی دامن یار ادھر پکڑا ادھر چھوڑ ...

مزید پڑھیے

کسی نے پکڑا دامن اور کسی نے آستیں پکڑی

کسی نے پکڑا دامن اور کسی نے آستیں پکڑی نہ اٹھا میں ہی اس کوچے سے یہ میں نے زمیں پکڑی خدا شاہد ہے دل پر چوٹ سی اک لگ گئی میرے بہانا درد سر کا کر کے جب اس نے جبیں پکڑی سوا ان کے نہ کہنا اور سے آفت نہ کچھ آئے نہ جانے بات میری قاصدا شاید کہیں پکڑی بھلا اب مجھ سے چھٹتا ہے کہیں اس شوخ کا ...

مزید پڑھیے

بگڑنے سے تمہارے کیا کہوں میں کیا بگڑتا ہے

بگڑنے سے تمہارے کیا کہوں میں کیا بگڑتا ہے کلیجا منہ کو آ جاتا ہے دل ایسا بگڑتا ہے شب غم میں پڑے تنہا تسلی دل کی کرتے ہیں یہی عالم کا نقشہ ہے سدا بنتا بگڑتا ہے وہ یاد آتا ہے عالم وصل کی شب کا وہ آرائش وہ کہنا چھو نہ اس دم زلف کا حلقا بگڑتا ہے ہمارے اٹھ کے جانے میں تری کیا بات بنتی ...

مزید پڑھیے

مری سانس اب چارا گر ٹوٹتی ہے

مری سانس اب چارا گر ٹوٹتی ہے کہیں جڑتی ہے پھر کہیں ٹوٹتی ہے یہ خو ہے تمہاری تو کیوں کر بنے گی ادھر بنتی ہے تو ادھر ٹوٹتی ہے نہ ہم پر ہنسو حال ہوتا ہے یہ ہی مصیبت جو انسان پر ٹوٹتی ہے سمجھتا ہوں کچھ میں بھی باتیں تمہاری یہ ہر طعن کیا غیر پر ٹوٹتی ہے خدا کے لیے پھر تو ایسا نہ ...

مزید پڑھیے

دیکھ اپنے قرار کرنے کو

دیکھ اپنے قرار کرنے کو اور مرے انتظار کرنے کو تمہیں دیکھے سے کیا تسلی ہو جی تو ہوتا ہے پیار کرنے کو میری تدبیر اک نہیں کرتا ہیں نصیحت ہزار کرنے کو وہ وہ صدمے سہے شب غم میں چاہیئے دن شمار کرنے کو وہ گر آئیں تو پاس کیا ہے اور ایک جاں ہے نثار کرنے کو جھوٹے وعدے کیا نہ کیجے آپ مفت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2127 سے 6203