کیوں کرتے ہو اعتبار میرا
کیوں کرتے ہو اعتبار میرا معلوم ہے تم کو پیار میرا یہ خیر ہے آج کچھ تو کہیے کیوں ذکر ہے بار بار میرا اک بات میں فیصلہ ہے تم سے رنجیدہ ہے دل ہزار میرا تیرا نہیں اعتبار مجھ کو تو بھی نہ کر اعتبار میرا شاید کہ نہ ہو تم اپنے بس کے دل پر تو ہے اختیار میرا مجھ کو نہ ہو رشک غیر ممکن تو ...