خبر نہیں کئی دن سے وہ دق ہے یا خوش ہے
خبر نہیں کئی دن سے وہ دق ہے یا خوش ہے خوشی تبھی ہو کہ جب سن لوں دل ربا خوش ہے ذرا بھی بگڑے تو بگڑے زمانہ سب مجھ سے خوشی ہے وہ تو ہر اک دوست آشنا خوش ہے پڑا ہوں جب سے کہ بیمار ہو کے میں گھر میں ہر ایک غیر عداوت سے پھرتا کیا خوش ہے مگر ہے اس کی عنایت تو غم نہیں کچھ بھی وہ مجھ سے خوش ...