قومی زبان

خبر نہیں کئی دن سے وہ دق ہے یا خوش ہے

خبر نہیں کئی دن سے وہ دق ہے یا خوش ہے خوشی تبھی ہو کہ جب سن لوں دل ربا خوش ہے ذرا بھی بگڑے تو بگڑے زمانہ سب مجھ سے خوشی ہے وہ تو ہر اک دوست آشنا خوش ہے پڑا ہوں جب سے کہ بیمار ہو کے میں گھر میں ہر ایک غیر عداوت سے پھرتا کیا خوش ہے مگر ہے اس کی عنایت تو غم نہیں کچھ بھی وہ مجھ سے خوش ...

مزید پڑھیے

گر دوستو تم نے اسے دیکھا نہیں ہوتا

گر دوستو تم نے اسے دیکھا نہیں ہوتا کہنے کا تمہارے مجھے شکوا نہیں ہوتا گر کہیے کہ جی ملنے کو تیرا نہیں ہوتا کہتا ہے کہ ہاں ہاں نہیں ہوتا نہیں ہوتا قاصد کے بھی گر آنے کی امید نہ ہوتی اک دم بھی تو جینے کا بھروسا نہیں ہوتا یوں ہی سہی ہم ہجر میں مر جاتے بلا سے بس اور تو کچھ اس سے ...

مزید پڑھیے

کہتے ہیں سن کے ماجرا میرا

کہتے ہیں سن کے ماجرا میرا تم سے کس روز ربط تھا میرا نامہ بر اس نے تو کہا سب کچھ تو نے بھی حال کچھ کہا میرا اب تو خواہاں وصال کا بھی نہیں کچھ عجب ہے معاملہ میرا اور کس کو سناتے ہو مجھ کو اور کس کا یہ ذکر تھا میرا یہ بھی کیا بات آئی اس دن کی یہ بھی کہیے قصور تھا میرا مجھ سے پھر ...

مزید پڑھیے

جو سرگزشت اپنی ہم کہیں گے کوئی سنے گا تو کیا کریں گے

جو سرگزشت اپنی ہم کہیں گے کوئی سنے گا تو کیا کریں گے جو یاد آئیں گی تیری باتیں تو چپ ہی پہروں رہا کریں گے جو چاہو کہہ لو یہی خوشی ہے تو ہم بھی پھر کیوں گلا کریں گے جو کچھ سنائے گی اپنی قسمت تمہارے منہ سے سنا کریں گے کسے غرض ہے پھر آپ کو کیوں صنم کا بندا کہا کریں گے جو یوں ہی ہم کو ...

مزید پڑھیے

کہنے سے نہ منع کر کہوں گا

کہنے سے نہ منع کر کہوں گا تو میری نہ سن مگر کہوں گا تم آپ ہی آئے یوں ہی سچ ہے نالے کو نہ بے اثر کہوں گا گر کچھ بھی سنیں گے وہ شب وصل کیا کیا نہ میں تا سحر کہوں گا کہتے ہیں جو چاہتے ہیں دشمن میں اور تمہیں فتنہ گر کہوں گا کہتے تو یہ ہو کہ تو ہے اچھا مانو گے برا اگر کہوں گا یوں دیکھ ...

مزید پڑھیے

وہی لوگ پھر آنے جانے لگے

وہی لوگ پھر آنے جانے لگے مرے پاس کیوں آپ آنے لگے کوئی ایسے سے کیا شکایت کرے بگڑ کر جو باتیں بنانے لگے یہ کیا جذب دل کھینچ لایا انہیں مرے خط مجھے پھر کے آنے لگے ابھی تو کہا ہی نہیں میں نے کچھ ابھی تم جو آنکھیں چرانے لگے ہمارے ہی آگے گلے غیر کے ہماری ہی طرزیں اڑانے لگے نہ بن آیا ...

مزید پڑھیے

کہیے گر ربط مدعی سے ہے

کہیے گر ربط مدعی سے ہے کہتے ہیں دوستی تجھی سے ہے دیکھیے آگے آگے کیا کچھ ہو دل کی حرکت یہ کچھ ابھی سے ہے اس کی الفت میں جیتے جی مرنا فائدہ یہ بھی زندگی سے ہے ضد ہے گر ہے تو ہو سبھی کے ساتھ یا نہ ملنے کی ضد مجھی سے ہے خوف سے تم سے کہہ نہیں سکتے دل میں اک آرزو کبھی سے ہے مجھ سے پوچھو ...

مزید پڑھیے

اس سے پھر کیا گلا کرے کوئی

اس سے پھر کیا گلا کرے کوئی جو کہے سن کے کیا کرے کوئی ہم بھی کیا کیا کہیں خدا جانے گر ہماری سنا کرے کوئی ہائے وہ باتیں پیار کی شب وصل بھولے کیا یاد کیا کرے کوئی لوگ کیوں پوچھتے ہیں حال مرا ذکر کس بات کا کرے کوئی درد دل کا علاج ہو کس سے یوں مسیحا ہوا کرے کوئی بے وفا گر کہوں تو ...

مزید پڑھیے

مجھ سے کیوں کہتے ہو مضموں غیر کی تحریر کا

مجھ سے کیوں کہتے ہو مضموں غیر کی تحریر کا جانتا ہوں مدعا میں آپ کی تقریر کا ساتھ گر سونے نہ دو گے تم کو بھی نیند آ چکی میں تو عادی ہو گیا ہوں نالۂ شب گیر کا اپنے مطلب کی سمجھ کر ہو گئے تھے ہم تو خوش کیوں مکرتے ہو یہی مطلب ہے اس تقریر کا عہد کس کا، آپ جو کہتے اسے سچ جانتا کیا کروں ...

مزید پڑھیے

حال دل تم سے مری جاں نہ کہا کون سے دن

حال دل تم سے مری جاں نہ کہا کون سے دن میرے کہنے کو بھلا تم نے سنا کون سے دن لذتیں وصل کی کچھ میں نے بیاں کیں تو کہا آپ کے واسطے دن ایسا ہوا کون سے دن جب کہا میں نے وہ کیا دن تھے جو ملتے تھے تم ہو کے انجان عجب ڈھب سے کہا کون سے دن وصل کی شب ہے ملو آج تو دل کھول کے خوب اے مری جان یہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2126 سے 6203