قومی زبان

ساون

کوئل کی سریلی تانوں پر تھم تھم کے پپیہا گاتا ہے حل ہو کے ہوا کی لہروں میں ساون کا مہینہ آتا ہے ٹھنڈی پروا کالا بادل برسا تو برستا جاتا ہے بوندوں کی مسلسل چوٹوں سے پتا پتا تھراتا ہے ایسے میں کوئی یاد آتا ہے ایسے میں کوئی یاد آتا ہے گھنگھور گھٹا بجلی پانی دل سینے میں لہراتا ...

مزید پڑھیے

میرے لئے کیا ہے کچھ بھی نہیں

یہ گاؤں کا منظر سناٹا اور شام کی دھندلی تاریکی اک شام بہت رنگین مگر مفلس کی نگاہوں میں پھیکی دھرتی پہ یہ پانی سونے کا آکاش پہ نہریں چاندی کی یہ چاند یہ تارے یہ دریا میرے لئے کیا ہے کچھ بھی نہیں یہ شہر کی چلتی سڑکوں پر ہر سمت دکانیں نورانی بجلی میں بھی جلتا ہو جیسے افلاس کے پتے کا ...

مزید پڑھیے

آنسو

جب سے کہ محبت ہوئی پیارے ہیں یہ آنسو جیسے کہ میری آنکھ کے تارے ہیں یہ آنسو کہتے ہو کہ للہ اب آنسو نہ گراؤ ایسے میں کہ جینے کے سہارے ہیں یہ آنسو ہاں ہاں انہیں دامان محبت میں جگہ دو آنکھیں ہیں مری اور تمہارے ہیں یہ آنسو ہر خون جگر کے لئے تیار ہوں اب بھی ہارا ہوں نہ میں اور نہ ہارے ...

مزید پڑھیے

رات بھر میں خواب بن کر اس کی وحشت دیکھتی

رات بھر میں خواب بن کر اس کی وحشت دیکھتی کیف الفت میں جو مضمر ہے وہ شدت دیکھتی اک سلگتی آگ بن کر رہ گیا میرا وجود آگ جل کر راکھ ہو جاتی تو حدت دیکھتی معجزہ کچھ یوں ہوا یوسف زلیخا مل گئے مجھ کو میرا پیار مل جاتا تو قدرت دیکھتی بد کلامی پر وہ نادم ہے مجھے ہوتا یقیں اس کی آنکھوں میں ...

مزید پڑھیے

دل میں ہے ارمان کمسن کے لئے

دل میں ہے ارمان کمسن کے لئے جی رہے ہیں سب اسی دن کے لئے ظرف پہ تھا میرے شاید شک انہیں دوستوں نے بدلے گن گن کے لئے ہم سفر جب کوئی بھی نہ مل سکا پیر میں چبھتے ہوئے تنکے لیے اصل چہرے دیکھنا چاہو اگر آئنے لے آؤ باطن کے لئے موت سے جب زندگی ڈرنے لگے دن گنو نصرتؔ جی اس دن کے لئے

مزید پڑھیے

دل و دلبر سہی اب خواب سے بیدار ہیں دونوں

دل و دلبر سہی اب خواب سے بیدار ہیں دونوں شریک‌ مجلس آرائش گفتار ہیں دونوں چمن میں کیا ہوا گلچیں ہو با‌گلکار کیا جانے نظر آتا نہیں کچھ نرگس بیمار ہیں دونوں نگاہ اہل دنیا ہو کہ چشم نیم خواب ان کی کبھی اقرار ہیں دونوں کبھی انکار ہیں دونوں عبادت خانہ ہائے کفر و ایماں میں گیا ...

مزید پڑھیے

مرا دل نہ تھا الم آشنا کہ تری ادا پہ نظر پڑی

مرا دل نہ تھا الم آشنا کہ تری ادا پہ نظر پڑی وہ نہ جانے کون سا وقت تھا کہ بنائے خون جگر پڑی جسے چاہے مالک رنگ و بو اسی بے رخی میں نواز دے میں ادھر تھا منتظر کرم وہ نگاہ ناز ادھر پڑی ترا کام سیر مدام ہے نہ کہ گلستانوں میں ٹھہرنا یہ کلی کلی کے فریب میں تو کہاں سے باد سحر پڑی کوئی ...

مزید پڑھیے

قامت دل ربا پر شباب آ گیا

قامت دل ربا پر شباب آ گیا یا سوا نیزے پر آفتاب آ گیا جاگی جاگی ان آنکھوں کا عالم نہ پوچھ سامنے ایک جام شراب آ گیا اک نگاہ محبت کی تخمیر میں سب سمٹ کر جہان خراب آ گیا یہ چلے وہ بڑھے وہ جواں ہو گئے چند لمحوں میں یوم الحساب آ گیا جھوم اٹھی ایک ارماں بھری زندگی جب ہوائیں چلیں جب ...

مزید پڑھیے

پیراہن رنگیں سے شعلہ سا نکلتا ہے

پیراہن رنگیں سے شعلہ سا نکلتا ہے معصوم ہے کیا جانے دامن کہیں جلتا ہے میری مژۂ غم پر لرزاں ہے حقیقت سی ان کے لب لعلیں پر افسانہ مچلتا ہے اچھی ہے رہے تھوڑی یہ جلوہ طرازی بھی رقص مہ و انجم میں دیوانہ بہلتا ہے عنوان ترقی ہے یہ تیرہ فضائی بھی کچھ گرد بھی اٹھتی ہے جب قافلہ چلتا ...

مزید پڑھیے

غم خاموش جو با اشک چکاں رکھتا ہوں

غم خاموش جو با اشک چکاں رکھتا ہوں ایک ٹھہرے ہوئے دریا کو رواں رکھتا ہوں اک بدلتی ہوئی دنیا کا سماں رکھتا ہوں ان کی جانب سے محبت کا گماں رکھتا ہوں شوق‌ تازہ ہو کہ ہو حسرت بالیدہ کوئی کچھ نہ کچھ سلسلۂ آہ و فغاں رکھتا ہوں کچھ جھجکتی ہوئی نظریں ہیں خریدار جمیل میں بھی پلکوں پہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2081 سے 6203