ساون
کوئل کی سریلی تانوں پر تھم تھم کے پپیہا گاتا ہے حل ہو کے ہوا کی لہروں میں ساون کا مہینہ آتا ہے ٹھنڈی پروا کالا بادل برسا تو برستا جاتا ہے بوندوں کی مسلسل چوٹوں سے پتا پتا تھراتا ہے ایسے میں کوئی یاد آتا ہے ایسے میں کوئی یاد آتا ہے گھنگھور گھٹا بجلی پانی دل سینے میں لہراتا ...