قومی زبان

وینٹیلیٹر جسم کو نقلی سانسوں سے بھرتا تھا

وینٹیلیٹر جسم کو نقلی سانسوں سے بھرتا تھا میں زندہ تھا اخراجات کے بوجھ تلے مرتا تھا ٹیڑھے میڑھے آلے لے کے جسم پہ ٹوٹ پڑے ہیں شاید جان گئے ہیں حسن کی میں پوجا کرتا تھا ہیلی‌ کاپٹر دھیرے دھیرے اٹھا زمیں تھرائی میرے دل کی یہ حالت تو اسٹیشن کرتا تھا سڑک پہ پیلے پیلے بیریر سب کا ...

مزید پڑھیے

منظر کا احسان اتارا جا سکتا ہے

منظر کا احسان اتارا جا سکتا ہے آنکھ کو یارا بھوکا مارا جا سکتا ہے آنگن آنگن آگ اگائی جا سکتی ہے کمروں میں دریا کا کنارا جا سکتا ہے کرچی کرچی خواب چمکتا ہے آنکھوں میں ان سے اب دنیا کو سنوارا جا سکتا ہے بوندوں میں آئنے گھولے جا سکتے ہیں چادر تن میں سفر گزارا جا سکتا ہے جسم و دل ...

مزید پڑھیے

رات تصویر نمودار ہوئی آنکھوں میں

رات تصویر نمودار ہوئی آنکھوں میں صبح کے سامنے دیوار ہوئی آنکھوں میں مطلع دل پہ پھر اک چاند پگھل جائے گا آج اک تیز چمک خار ہوئی آنکھوں میں آ تجھے لال کروں زرد رخی بنت خزاں سرخ سیلاب کی یلغار ہوئی آنکھوں میں

مزید پڑھیے

کتنے گرداب کھو گئے مجھ میں

کتنے گرداب کھو گئے مجھ میں میرے سب خواب کھو گئے مجھ میں سادگی میری ڈھونڈ لائی تمہیں تم تھے چالاک کھو گئے مجھ میں ان کے ہونے سے میرا ہونا ہے لفظ لولاک ہو گئے مجھ میں روز ڈھلتے ہیں حرف و صوت کے ظرف کس کے غم چاک ہو گئے مجھے میں بے جھجک مجھ میں ہو گئے ہو دراز تم تو بے باک ہو گئے مجھ ...

مزید پڑھیے

جب آفتاب سمندر میں جا گراتا ہوں

جب آفتاب سمندر میں جا گراتا ہوں تب اپنے آپ سے باہر نکل کے آتا ہوں حسین خوابوں کو سارے ہرے پرندوں کو جھلستی ذات کے صحرا میں چھوڑ آتا ہوں جو ٹوٹتا ہے اجالوں کے شہر میں تارا میں جگنوؤں کے لئے آشیاں بناتا ہوں یہ میں نہیں ہوں یہ تیری نظر کا دھوکہ ہے تو کون ہوں میں کسی کو نہیں بتاتا ...

مزید پڑھیے

میں رات سست عناصر سے تنگ آ گیا تھا

میں رات سست عناصر سے تنگ آ گیا تھا مری حیات فسردہ میں رنگ آ گیا تھا نگاڑے پیٹے ہواؤں نے سرخ پہروں تک گدھوں کا جھنڈ کبوتر کے سنگ آ گیا تھا ستار بجنے لگے صبح کی مسہری پر دھنک کا قافلۂ ہفت رنگ آ گیا تھا فلک پہ رینگتے سورج زمین بوس ہوئے وہ شہسوار شفق بہر جنگ آ گیا تھا اندھیرے غار ...

مزید پڑھیے

اسی کے قدموں سے ایک چہرہ نکالنا ہے

اسی کے قدموں سے ایک چہرہ نکالنا ہے گرے شجر سے ہوا کا شجرہ نکالنا ہے میں دیر سے ایک در پہ خالی کھڑا ہوا ہوں کسی کی مصروفیت میں وقفہ نکالنا ہے مجھے پہاڑوں کو کھودتے دیکھ کیا رہے ہو کہیں پہنچنا نہیں ہے رستہ نکالنا ہے بڑے بڑوں سے اکڑ کے ملتا ہوں آج کل میں مجھے خداؤں میں ایک بندہ ...

مزید پڑھیے

بھوکی نسل کا ترانہ

میں بھوکی نسل ہوں میرے ملول و مضمحل چہرہ پہ ٹھنڈی چاندنی کا عکس مت ڈھونڈو مرا بے رنگ و بو چہرہ جمی ہے ان گنت فاقوں کی جس پر دھول برسوں سے زمیں کے چند فرعونوں کو اپنی خشمگیں نظروں سے تکتا ہے مرے اجداد بھی میری طرح بھوکے تھے لیکن مجھ میں اور ان میں زمین و آسماں کا فرق ہے شاید وہ اپنی ...

مزید پڑھیے

ایڈن گارڈن

یہ ایڈن گارڈن ہمدم نگاہ و دل کی جنت ہے یہاں حوا کی رنگیں بیٹیاں ہر شام آتی ہیں جواں مردوں کو اپنی جاذبیت سے لبھاتی ہیں دلوں کو شرمگیں نظروں سے پیہم گدگداتی ہیں سہاگن ہے تو اس کی مانگ میں جھومر چمکتا ہے کنواری ہے تو اس کے جسم سے خوشبو نکلتی ہے گلابی مدھ بھری آنکھوں سے اک مستی ...

مزید پڑھیے

پندرہ اگست

اے لیلیٔ جمہوریت اے دلبر ہندوستاں تجھ سے فروغ شمع شب محفل میں لو کی ابتدا اہل وفا کے دیس میں تاریخ نو کی ابتدا ظلمت بد اماں خاک پر سورج کی ضو کی ابتدا ہر لب پہ تیری داستاں زلفیں تری عنبر فشاں اے دلبر ہندوستاں تو اپنے دست ناز میں اک خوش نما پرچم لئے اپنے جلو میں نو بہ نو خوشیوں کا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2049 سے 6203