قومی زبان

چراغ راہ بجھا کیا کہ رہنما بھی گیا

چراغ راہ بجھا کیا کہ رہنما بھی گیا ہوا کے ساتھ مسافر کا نقش پا بھی گیا میں پھول چنتی رہی اور مجھے خبر نہ ہوئی وہ شخص آ کے مرے شہر سے چلا بھی گیا بہت عزیز سہی اس کو میری دل داری مگر یہ ہے کہ کبھی دل مرا دکھا بھی گیا اب ان دریچوں پہ گہرے دبیز پردے ہیں وہ تانک جھانک کا معصوم سلسلہ ...

مزید پڑھیے

گلاب ہاتھ میں ہو آنکھ میں ستارہ ہو

گلاب ہاتھ میں ہو آنکھ میں ستارہ ہو کوئی وجود محبت کا استعارہ ہو میں گہرے پانی کی اس رو کے ساتھ بہتی رہوں جزیرہ ہو کہ مقابل کوئی کنارہ ہو کبھی کبھار اسے دیکھ لیں کہیں مل لیں یہ کب کہا تھا کہ وہ خوش بدن ہمارا ہو قصور ہو تو ہمارے حساب میں لکھ جائے محبتوں میں جو احسان ہو تمہارا ...

مزید پڑھیے

بچھڑا ہے جو اک بار تو ملتے نہیں دیکھا

بچھڑا ہے جو اک بار تو ملتے نہیں دیکھا اس زخم کو ہم نے کبھی سلتے نہیں دیکھا اک بار جسے چاٹ گئی دھوپ کی خواہش پھر شاخ پہ اس پھول کو کھلتے نہیں دیکھا یک لخت گرا ہے تو جڑیں تک نکل آئیں جس پیڑ کو آندھی میں بھی ہلتے نہیں دیکھا کانٹوں میں گھرے پھول کو چوم آئے گی لیکن تتلی کے پروں کو ...

مزید پڑھیے

چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کر دیا

چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کر دیا عشق کے اس سفر نے تو مجھ کو نڈھال کر دیا اے مری گل زمیں تجھے چاہ تھی اک کتاب کی اہل کتاب نے مگر کیا ترا حال کر دیا ملتے ہوئے دلوں کے بیچ اور تھا فیصلہ کوئی اس نے مگر بچھڑتے وقت اور سوال کر دیا اب کے ہوا کے ساتھ ہے دامن یار منتظر بانوئے شب کے ہاتھ ...

مزید پڑھیے

اگرچہ تجھ سے بہت اختلاف بھی نہ ہوا

اگرچہ تجھ سے بہت اختلاف بھی نہ ہوا مگر یہ دل تری جانب سے صاف بھی نہ ہوا تعلقات کے برزخ میں ہی رکھا مجھ کو وہ میرے حق میں نہ تھا اور خلاف بھی نہ ہوا عجب تھا جرم محبت کہ جس پہ دل نے مرے سزا بھی پائی نہیں اور معاف بھی نہ ہوا ملامتوں میں کہاں سانس لے سکیں گے وہ لوگ کہ جن سے کوئے جفا کا ...

مزید پڑھیے

اب بھلا چھوڑ کے گھر کیا کرتے

اب بھلا چھوڑ کے گھر کیا کرتے شام کے وقت سفر کیا کرتے تیری مصروفیتیں جانتے ہیں اپنے آنے کی خبر کیا کرتے جب ستارے ہی نہیں مل پائے لے کے ہم شمس و قمر کیا کرتے وہ مسافر ہی کھلی دھوپ کا تھا سائے پھیلا کے شجر کیا کرتے خاک ہی اول و آخر ٹھہری کر کے ذرے کو گہر کیا کرتے رائے پہلے سے بنا ...

مزید پڑھیے

تیری خوشبو کا پتا کرتی ہے

تیری خوشبو کا پتا کرتی ہے مجھ پہ احسان ہوا کرتی ہے چوم کر پھول کو آہستہ سے معجزہ باد صبا کرتی ہے کھول کر بند قبا گل کے ہوا آج خوشبو کو رہا کرتی ہے ابر برستے تو عنایت اس کی شاخ تو صرف دعا کرتی ہے زندگی پھر سے فضا میں روشن مشعل برگ حنا کرتی ہے ہم نے دیکھی ہے وہ اجلی ساعت رات جب ...

مزید پڑھیے

چارہ سازوں کی اذیت نہیں دیکھی جاتی

چارہ سازوں کی اذیت نہیں دیکھی جاتی تیرے بیمار کی حالت نہیں دیکھی جاتی دینے والے کی مشیت پہ ہے سب کچھ موقوف مانگنے والے کی حاجت نہیں دیکھی جاتی دن بہل جاتا ہے لیکن ترے دیوانوں کی شام ہوتی ہے تو وحشت نہیں دیکھی جاتی تمکنت سے تجھے رخصت تو کیا ہے لیکن ہم سے ان آنکھوں کی حسرت نہیں ...

مزید پڑھیے

بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا

بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا میں سمندر دیکھتی ہوں تم کنارہ دیکھنا یوں بچھڑنا بھی بہت آساں نہ تھا اس سے مگر جاتے جاتے اس کا وہ مڑ کر دوبارہ دیکھنا کس شباہت کو لیے آیا ہے دروازے پہ چاند اے شب ہجراں ذرا اپنا ستارہ دیکھنا کیا قیامت ہے کہ جن کے نام پر پسپا ہوئے ان ہی لوگوں ...

مزید پڑھیے

چشم خوش آب کی تمثیل نہیں ہو سکتی

چشم خوش آب کی تمثیل نہیں ہو سکتی ایسی شفاف کوئی جھیل نہیں ہو سکتی میری فطرت ہی میں شامل ہے محبت کرنا اور فطرت کبھی تبدیل نہیں ہو سکتی اس کے دل میں مجھے اک جوت جگانا پڑے گی خود ہی روشن کوئی قندیل نہیں ہو سکتی سکہ داغ و زر غم سے بھرا ہے مرا دل دیکھ خالی مری زنبیل نہیں ہو سکتی اس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2043 سے 6203