ڈسنے لگے ہیں خواب مگر کس سے بولئے
ڈسنے لگے ہیں خواب مگر کس سے بولئے میں جانتی تھی پال رہی ہوں سنپولیے بس یہ ہوا کہ اس نے تکلف سے بات کی اور ہم نے روتے روتے دوپٹے بھگو لیے پلکوں پہ کچی نیندوں کا رس پھیلتا ہو جب ایسے میں آنکھ دھوپ کے رخ کیسے کھولیے تیری برہنہ پائی کے دکھ بانٹتے ہوئے ہم نے خود اپنے پاؤں میں کانٹے ...