قومی زبان

جستجو کھوئے ہوؤں کی عمر بھر کرتے رہے

جستجو کھوئے ہوؤں کی عمر بھر کرتے رہے چاند کے ہم راہ ہم ہر شب سفر کرتے رہے راستوں کا علم تھا ہم کو نہ سمتوں کی خبر شہر نامعلوم کی چاہت مگر کرتے رہے ہم نے خود سے بھی چھپایا اور سارے شہر کو تیرے جانے کی خبر دیوار و در کرتے رہے وہ نہ آئے گا ہمیں معلوم تھا اس شام بھی انتظار اس کا مگر ...

مزید پڑھیے

وقت رخصت آ گیا دل پھر بھی گھبرایا نہیں

وقت رخصت آ گیا دل پھر بھی گھبرایا نہیں اس کو ہم کیا کھوئیں گے جس کو کبھی پایا نہیں زندگی جتنی بھی ہے اب مستقل صحرا میں ہے اور اس صحرا میں تیرا دور تک سایا نہیں میری قسمت میں فقط درد تہہ ساغر ہی ہے اول شب جام میری سمت وہ لایا نہیں تیری آنکھوں کا بھی کچھ ہلکا گلابی رنگ تھا ذہن نے ...

مزید پڑھیے

دل کا کیا ہے وہ تو چاہے گا مسلسل ملنا

دل کا کیا ہے وہ تو چاہے گا مسلسل ملنا وہ ستم گر بھی مگر سوچے کسی پل ملنا واں نہیں وقت تو ہم بھی ہیں عدیم الفرصت اس سے کیا ملیے جو ہر روز کہے کل ملنا عشق کی رہ کے مسافر کا مقدر معلوم شہر کی سوچ میں ہو اور اسے جنگل ملنا اس کا ملنا ہے عجب طرح کا ملنا جیسے دشت امید میں اندیشے کا بادل ...

مزید پڑھیے

ایک سورج تھا کہ تاروں کے گھرانے سے اٹھا

ایک سورج تھا کہ تاروں کے گھرانے سے اٹھا آنکھ حیران ہے کیا شخص زمانے سے اٹھا کس سے پوچھوں ترے آقا کا پتہ اے رہوار یہ علم وہ ہے نہ اب تک کسی شانے سے اٹھا حلقۂ خواب کو ہی گرد گلو کس ڈالا دست قاتل کا بھی احساں نہ دوانے سے اٹھا پھر کوئی عکس شعاعوں سے نہ بننے پایا کیسا مہتاب مرے آئنہ ...

مزید پڑھیے

وہ ہم نہیں جنہیں سہنا یہ جبر آ جاتا

وہ ہم نہیں جنہیں سہنا یہ جبر آ جاتا تری جدائی میں کس طرح صبر آ جاتا فصیلیں توڑ نہ دیتے جو اب کے اہل قفس تو اور طرح کا اعلان جبر آ جاتا وہ فاصلہ تھا دعا اور مستجابی میں کہ دھوپ مانگنے جاتے تو ابر آ جاتا وہ مجھ کو چھوڑ کے جس آدمی کے پاس گیا برابری کا بھی ہوتا تو صبر آ جاتا وزیر و ...

مزید پڑھیے

اشک آنکھ میں پھر اٹک رہا ہے

اشک آنکھ میں پھر اٹک رہا ہے کنکر سا کوئی کھٹک رہا ہے میں اس کے خیال سے گریزاں وہ میری صدا جھٹک رہا ہے تحریر اسی کی ہے مگر دل خط پڑھتے ہوئے اٹک رہا ہے ہیں فون پہ کس کے ساتھ باتیں اور ذہن کہاں بھٹک رہا ہے صدیوں سے سفر میں ہے سمندر ساحل پہ تھکن ٹپک رہا ہے اک چاند صلیب شاخ گل ...

مزید پڑھیے

بارش ہوئی تو پھولوں کے تن چاک ہو گئے

بارش ہوئی تو پھولوں کے تن چاک ہو گئے موسم کے ہاتھ بھیگ کے سفاک ہو گئے بادل کو کیا خبر ہے کہ بارش کی چاہ میں کیسے بلند و بالا شجر خاک ہو گئے جگنو کو دن کے وقت پرکھنے کی ضد کریں بچے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے لہرا رہی ہے برف کی چادر ہٹا کے گھاس سورج کی شہ پہ تنکے بھی بے باک ہو ...

مزید پڑھیے

قدموں میں بھی تکان تھی گھر بھی قریب تھا

قدموں میں بھی تکان تھی گھر بھی قریب تھا پر کیا کریں کہ اب کے سفر ہی عجیب تھا نکلے اگر تو چاند دریچے میں رک بھی جائے اس شہر بے چراغ میں کس کا نصیب تھا آندھی نے ان رتوں کو بھی بے کار کر دیا جن کا کبھی ہما سا پرندہ نصیب تھا کچھ اپنے آپ سے ہی اسے کشمکش نہ تھی مجھ میں بھی کوئی شخص اسی ...

مزید پڑھیے

بخت سے کوئی شکایت ہے نہ افلاک سے ہے

بخت سے کوئی شکایت ہے نہ افلاک سے ہے یہی کیا کم ہے کہ نسبت مجھے اس خاک سے ہے خواب میں بھی تجھے بھولوں تو روا رکھ مجھ سے وہ رویہ جو ہوا کا خس و خاشاک سے ہے بزم انجم میں قبا خاک کی پہنی میں نے اور مری ساری فضیلت اسی پوشاک سے ہے اتنی روشن ہے تری صبح کہ ہوتا ہے گماں یہ اجالا تو کسی دیدۂ ...

مزید پڑھیے

رستہ بھی کٹھن دھوپ میں شدت بھی بہت تھی

رستہ بھی کٹھن دھوپ میں شدت بھی بہت تھی سائے سے مگر اس کو محبت بھی بہت تھی خیمے نہ کوئی میرے مسافر کے جلائے زخمی تھا بہت پاؤں مسافت بھی بہت تھی سب دوست مرے منتظر پردۂ شب تھے دن میں تو سفر کرنے میں دقت بھی بہت تھی بارش کی دعاؤں میں نمی آنکھ کی مل جائے جذبے کی کبھی اتنی رفاقت بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2041 سے 6203